دانشور خواجہ سرا جولی کی گرفتاری کیوں؟

اسلام آباد میں خواجہ سرا جولی کی پولیس حراست اور عدالتی حکم پر اڈیالہ جیل منتقلی کے بعد سوشل میڈیا پر ان کے حق میں مہم جاری ہے تاہم کئی اہم شخصیات سمیت ہزاروں صارفین اصل واقعہ کے بارے میں بات نہیں کر رہے۔

سوشل میڈیا پر اپنی دانشورانہ گفتگو کی ویڈیوز کی وجہ سے مشہور ہونے والی خواجہ سرا جولی کے خلاف اسلام آباد کے تھانہ گولڑہ میں گزشتہ ماہ کی 15 تاریخ کو مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

پولیس ذرائع کے مطابق جولی کی دیگر دو ساتھیوں کو مقدمے میں نامزدگی کے فوری بعد گرفتار کر لیا گیا تھا تاہم جولی روپوش تھیں اور انہوں نے ضمانت قبل از گرفتاری بھی نہیں کرائی۔

پولیس کے مطابق یہ شہر کے دو خواجہ سرا گروپوں کے درمیان جھگڑے کا معاملہ ہے۔ پہلے جولی کے گروپ نے بری امام کے علاقے میں مخالفین پر جھگڑے کے بعد تھانہ سیکرٹریٹ میں مقدمہ درج کرایا۔

اس مقدمے میں جولی کے مخالف گروپ کے سات افراد کو حراست میں لے کر عدالت کے ذریعے جیل بھجوایا گیا۔

اس کے بعد مخالف گروپ نے گولڑہ میں جولی اور اس کے گروپ کے خلاف مقدمہ درج کرایا۔

پاکستان ٹوئنٹی فور کے پاس دونوں مقدمات کی ایف آئی آر موجود ہیں۔

ذرائع نے بتایا کہ جولی کو پولیس کی گرفتاری سے لاہور میں ہسپتال پر حملہ کرنے سے بدنام ہونے والے ایک نوجوان وکیل نے بچایا مگر وہ ان کو ضمانت قبل از گرفتاری دلانے کے لیے کچھ نہ کر سکا۔

Pakistan24.tv-report