صاحب جی

ڈاکٹر شہناز شورو
———–

”او۔۔۔ دوپٹہ سر پہ رکھ۔۔۔ کتے کی نسل۔۔۔“ اماں نے پیچھے سے زور کی آواز لگائی۔
”دوپٹہ۔۔۔ دوپٹہ۔۔۔ مصیبت ہو گئی ہے۔۔۔“ اس نے دوپٹے کی بکل مارتے ہوئے مڑ کر اماں کو خشمگیں نظروں سے دیکھا۔۔۔

”یہ آنکھیں کس کو دکھاتی ہے مردار۔۔۔ منحوس۔۔۔“ اماں آگ بگولہ ہو رہی تھی۔ وہ چپ چاپ آگے چلتی رہی۔ اماں بکتے جھکتے پیچھے آ رہی تھی۔۔۔ ”کبھی سکھ سے کوئی گھڑی نہیں گزری۔ ماں باپ کے گھر تھی دو وقت کی روٹی نہ ملی۔ تین کپڑوں میں شادی کروا کے گھر سے نکال دیا اور شوہر ملا بھی تو کیسا۔ چرسی، نشی ٔ۔۔۔ اس مروان اولاد کو کیسے جتن کر کے پالا۔ ہمیشہ تن پر پورا کپڑا رکھا اور کھانے کو بھی تین ٹائم دیا۔۔۔ صبح گھر سے نکلتی تھی اور آٹھ آٹھ گھر نبٹاتی تھی۔ ان لفنگوں کے واسطے۔۔۔ جیل میں بھی کیا چکی پسواتے ہوں گے۔۔۔ میری چکی تو آج تک بند نہیں ہوئی، اب مر کر ہی بند ہو گی۔۔۔ پر ہے کوئی احساس اس گندی اولاد کو۔۔۔ نخرے دیکھو ان بدذاتوں کے۔۔۔ جب سے مہینہ لگا ہے اس چھوٹی کو، نامراد خود کو کالجی سے کم نہیں سمجھتی۔۔۔“ ابھی اس کی زبان چلے جا رہی تھی مگر قدم رک گئے تھے۔۔۔ ننھے ننھے گندے سندے بچوں کی فوج نالے پر ایک دوسرے کے آگے پیچھے بیٹھی تھی۔ ایک بچہ اچھلا اور دونوں ٹانگیں اور بازو نسرین کی ماں کے گردلپیٹ دیے۔۔۔

”او بیڑا غرق ہو تیرا۔۔۔ ستیاناس جائے۔۔۔ دھوتو لیتا کمبخت۔۔۔“
بچہ اسے جکڑے ہوئے۔۔۔ ”خالہ۔۔۔ خالہ“ کہے جا رہا تھا۔
”یہ مائیں سب کی کہاں مری ہوئی ہیں۔۔۔ کھول کھول کر پھر رہے ہیں سب کے سب۔۔۔“

”کیوں گالیوں پہ گالیاں دیے جا رہی ہو اماں۔۔۔ ؟“ نسرین سے آخر نہ رہا گیا۔ ماں کی زبان کو بریک لگ گیا۔۔۔ اوپر سے نیچے گھورنے لگی نسرین کو۔

”کیوں ری۔۔۔ بڑے پر لگ رہے ہیں تیرے۔ ۔ ! ہوش میں تو ہے تو۔۔۔ ؟ یہ نخرے بنگلے میں چھوڑ کر آیا کر۔۔۔ جھگی والی ہے تو۔۔۔ اپنی اوقات میں رہ۔۔۔ مر پیٹ کر ادھر ہی آ کر جھاڑو پوچا کرنا ہے۔۔۔ بڑی بیگموں کی طرح ناک چڑھائی تو یہ جوتی کھینچ کر ماروں گی تیرے منہ پر۔۔۔“

نسرین روہانسی ہو گئی۔ ۔ ”میں تو گالیاں دینے سے منع کر رہی تھی اماں۔۔۔“

”منع؟ ۔ ۔ مجھ کو۔۔۔ نسرین بیگم ہوش تو نہیں خطا ہو گئے تیرے۔۔۔ ارے تیرے مرے جیتے سارے گالیوں کا بھنڈار ہیں اور تجھے گالیوں سے نفرت ہو رہی ہے۔ تو جس کی نوکرانی ہے اس کی طرح بننے کی کوشش نہ کر۔۔۔ ادھر گالیاں نہیں دیتے تو کیا ادھر بھی دینا بند کر دیں۔۔۔ اور ان کو ایک گھنٹہ بھی اس جھگی میں رہنا پڑے نا۔۔۔ تو ایسی ایسی گالیاں منہ سے نکالیں کہ تیرے باپ کو بھی شرم آ جائے۔۔۔ جمعہ جمعہ آٹھ دن ہوئے ہیں۔۔۔ اور تو گالیوں سے چڑنے لگی۔۔۔ مجھے تو معاملہ بگڑا لگتا ہے۔۔۔ دماغ سے ہوا نکال دوں گی ساری اور اس جھگی میں لا پٹخوں گی۔۔۔ جہاں پر میں سڑ رہی ہوں۔۔۔ کمبخت ماری۔۔۔“

”اماں میں تو بس۔۔۔“ نسرین نے دوپٹے سے آنسو صاف کرنے شروع کر دیے۔

نسرین سوچنے لگی۔۔۔ سب کہتے ہیں اماں پر جن آتا ہے، تب ہی وہ اپنے قابو میں نہیں رہتی، میں نے باجی کو بتایا تھا تو وہ ہنسنے لگی۔۔۔ بولنے لگی۔۔۔ ”یہ جاہل لوگوں کی باتیں ہیں۔ آج کے سائنسی دور میں جن ون نہیں آتے۔ تمہاری اماں کا بلڈپریشر ہائی ہو جاتا ہو گا۔“

اماں سے کون بولے؟ بولوں گی تو کہے گی ”ہاں ہاں یہ بڑے لوگوں کی بیماریاں لگا مجھ کو۔ ڈاکٹر تیرا باپ لگتا ہے جو فیس نہیں لے گا۔“

اماں کو تو کچھ کہنا ہی بیکار ہے اور ہو بھی سکتا ہے کہ واقعی میں جن ہو اور اماں کو چھوڑ کر میرے پیچھے لگ جائے۔۔۔ اور۔۔۔ پھر کیا ہو گا میرا؟ ابا کو تو اماں حرامی بولتی ہے۔ بس مہینے کی پہلی کو میری طرف دیکھتا ہے، بشیر اور طاہر کو تو پھر بھی پچکارتا رہتا ہے۔ دیہاڑی پہ کام کرتے ہیں نہ اس لیے۔ روز ابا کو اس کے سگریٹ اور گٹکا لا کر دیتے ہیں۔ اس لیے پیار کر لیتا ہے کبھی کبھی۔ باقی ٹائم تو اماں کو دبوچے رہتا ہے۔۔۔ گندا کہیں کا۔۔۔

آج پہلی تھی نا۔۔۔ اسی لیے اماں نیچے لائی ہے مجھے۔۔۔ باجی کے سامنے تو بار بار ہاتھ جوڑ کر بولتی ہے کہ۔۔۔ ”اس کا باپ یاد کر رہا ہے اپنی دلاری کو۔۔۔ جھوٹی“ اور ادھر لا کر بولتی ہے۔

”کھول بال، جوئیں نکالوں۔۔۔ نہیں تو تیری وہ بیگم نکال باہر کرے گی تجھے دو جوتے مار کر۔۔۔ اس کو بہت مل جائیں گی تیرے جیسی اور نہانا ادھر جا کر۔۔۔ زیان کرے گی صابن کا۔ پگھار میں سے دس روپے دیتی ہے اور پورے 1490 روپے دبا لیتی ہے۔۔۔ یہ ماں ہے۔ یہ باپ ہے تھو۔۔۔ ایک جویریہ بی بی کے ماں باپ ہیں۔۔۔ آہ۔۔۔“ اس کی ہوک لمبی ہو گئی۔

اماں اس تپتی دوپہر میں کھلے آسمان کے نیچے۔۔۔ منحوس منہ لیے۔۔۔ جلتی ہوئی لکڑیوں پر سالن چڑھا کر آٹا گوندھنے بیٹھی تھی۔

جویریہ بی بی ایک سال اور ایک مہینے کی ہے ابھی تو۔ دو دو منٹ کے بعد باجی پاؤڈر اس کے فراک کے اندر چھڑکتی ہیں۔ اس کی ایک آواز پر ایسے لپکتی ہیں جیسے کہ دم حلق میں آ گیا ہو۔ روتی ہے تو باجی کے آنسو بھی ٹپاٹپ گرنے لگ پڑتے ہیں۔ کتنے اچھے ماں باپ ہیں۔ کتنا پیارکرتے ہیں اپنی بیٹی سے۔۔۔ کچھ کھلانا۔۔۔ کچھ پلاناہو تو دودوبارہاتھ دھوتے ہیں۔۔۔ بار بار مجھے بھی یہی تاکید کرتے ہیں کہ جویریہ کو ہاتھ نہ لگانا ہاتھ دھوئے بغیر۔۔۔ باورچی تک پہ بھروسا نہیں کرتیں۔ چلو باجی تو عورت ہے۔ پر اتے لمبے چوڑے بھائی۔۔۔ اوہو صاحب۔۔۔ کیسے ہو جاتے ہیں۔۔۔ جویریہ کو ایک بار چوٹ لگ گئی دروازے سے ٹکرا کر۔۔۔ منہ سے تھوڑا سا خون آ گیا۔۔۔ باجی تو سینہ پکڑ کر زمین پر بیٹھ رہیں اور صاحب نے اٹھایا بے بی کو دونوں بازوؤں میں، لگے مجھے آوازیں دینے اور ہم بھاگم بھاگ ڈاکٹر کے پاس پہنچے۔

جویریہ بی بی تو فوراً ہنسنے لگ گئیں تھیں مگر دو دن تک دونوں میاں بیوی کے منہ سفید لٹھے جیسے ہو گئے تھے۔۔۔ ایسے ہوتے ہیں ماں باپ۔۔۔ ایسے نہیں کہ اولاد کو نوکر بنا دیں اور پہلی کو گھر میں بلا کر پگھار بھی لے لیں اور مارنا پیٹنا شروع کر دیں اور گالیاں الگ۔ ۔ ایک دس روپے دیتی ہیں مجھے۔۔۔ کیا لوں اس میں سے۔۔۔ بھٹا لوں۔۔۔ آئس کریم کھاؤں۔۔۔ بنٹی لوں یا جوبلی۔۔۔ ؟ مجھے تو نہیں لگتا کہ میں ان کی بیٹی ہوں۔۔۔ اٹھالیا ہوگاکہیں سے۔۔۔ شکل سے ہی چور لگتے ہیں۔ بھائی۔۔۔ اوہو۔۔۔ صاحب۔۔۔ کیسے ہیرو لگتے ہیں۔ بیگم صاحبہ سے ایسے لاڈ کرتے ہیں جیسے فلموں میں دکھاتے ہیں اوران کو دیکھو۔۔۔ گندی، کالی، بکھرے بالوں والی۔۔۔ گھر گھر جھاڑو برتن کرتی ہے اور پوچا لگاتی ڈانٹ اور مار کھاتی اماں۔۔۔ اور چارپائی توڑتا ابا۔۔۔ اور جب ملتے ہیں تو۔۔۔ اللہ توبہ۔۔۔ یہ تو بہت ہی گندے ہیں۔

ٹائم ہی نہیں گزر رہا ہے اس جھگی میں تو۔۔۔ اوپر سے دھوپ کی نحوست۔۔۔ پتہ نہیں کب پانچ بجیں گے اور کب اماں بھیجے گی بنگلے پر۔۔۔

”تیرا ستیاناس جائے کتے کی نسل۔۔۔“ اماں اچانک دھاڑ اٹھی۔ اڑتے ہوئے کوے نے گوندھے ہوئے آٹے پہ ٹہلتی مکھیوں پہ ”وائٹ واش“ کر دیا تھا۔۔۔ کوا اور کتے کی نسل۔۔۔ اماں تو بالکل ہی جاہل رہ گئی۔۔۔ نسرین نے فکرمندی سے سوچا۔

بیگم صاحبہ بشیر کھلکھلا کر ہنسا۔۔۔ ”آج اس سؤر کی بھی پورے دن کی چھٹی کروائی ابا نے، اس کو بھی دیکھنا پڑ گیا۔“ نسرین کو تاؤآ رہے تھے۔ اب دانت کیسے نکل رہے ہیں۔۔۔ افوہ گالی۔۔۔ اس نے جھنجھلا کر سوچا۔۔۔ آخر اماں کی ہی بیٹی ہوں نا۔۔۔ اسے ندامت سی محسوس ہوئی۔۔۔ ۔ نہیں۔۔۔ باجی کیسے سمجھاتی ہیں کہ ”بی بی کو کارٹ میں ایسی جگہ پر گھمایا کرو، جہاں کوئی گالی نہ دے رہا ہو۔“

ایک سال کی لڑکی کی کتنی احتیاط کرتی ہیں۔۔۔ اس کے کھانے پینے پر احتیاط۔۔۔ ادھر تو دل ہی برا ہو جاتا ہے۔۔۔ مرغیوں کے ساتھ۔۔۔ مکھیوں کے ساتھ اور اب تو کوؤں اور چڑیوں کے ساتھ کھانا۔۔۔ الٹی آ رہی ہے مجھے تو۔۔۔ ”ادھر کھانا کھاؤں گی میں؟“ اسے کوے کی خرمستی اچھی طرح یاد تھی۔

باجی نے تو اس کے برتن بھی علیحدہ نہیں کیے تھے۔ ایسے شفاف، چمکدار چینی کے برتن میں کھانا کھاتی ہوں۔ شیشے کے گلاس میں پانی پیتی ہوں۔۔۔ ادھر تو سارا کنبہ ایک ہی جست کے گلاس میں پانی پیئے چلا جا رہا ہے۔ ایسا سالوں پرانا ٹیڑھا میڑھا گلاس۔۔۔ اماں جہیز میں لائی ہو گی۔۔۔ اور کیا لائی ہو گی۔۔۔ سب کے گندے سندے ہاتھ مٹکے میں۔۔۔ میں تو نہیں کھاؤں گی کھانا یہاں۔

”کھانا کھا لے۔۔۔“ اماں نے یوں بلایا جیسے کتے کے آگے روٹی ڈالنا ہو۔۔۔
”پیٹ میں درد ہے۔۔۔ میں نہیں کھاؤں گی۔“
”کھا لے پانچ بجنے والے ہیں۔“
”کہا نا۔۔۔ دل نہیں چاہ رہا۔۔۔“

”بڑے نخرے ہو گئے ہیں تیرے دل کے۔۔۔ مجھے تیری کچھ سمجھ نہیں آ رہی آج۔۔۔ لڑکی تو اپنے ہوش میں تو ہے نا۔۔۔ ؟“ اماں اس کو تعجب سے دیکھ کر بار بار گردن ہلا رہی تھی جیسے اندر کا حال پڑھ رہی ہو۔

”بول رہی ہوں نا پیٹ میں درد ہے۔۔۔ تم تو ہر بات کے پیچھے پڑ جاتی ہواماں۔۔۔ ایسی کیا مصیبت آئی ہے؟ کیوں نہیں بیٹھنے دیتی ہو سکون کے ساتھ۔۔۔“

اب نسرین بھی آنکھوں میں آنسو لیے تابڑتوڑ حملے کررہی تھی۔
بشیر کے دانت نکلے ہوئے تھے۔ ابا مرتے ہوئے جانور کی طرح ڈکرا رہا تھا۔

”اوماسی مصیبتے۔۔۔ اب چھوڑ اس کا پیچھا۔۔۔ کبھی کبھی تو آتی ہے۔۔۔ کھانے پینے موج منانے دیاکر۔۔۔“ ابا کی زبان پر خارش ہوئی تھی اس لیے بولا تھا۔