پولیو: آخری کیس تک مقابلہ کریں

حکومت سندھ نے صوبے میں آج سے شروع کی جانے والی پولیو سے بچائو کے قطرے پلانے کی مہم میں 92لاکھ 55 ہزار 925 بچوں کو شامل کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے گویا متذکرہ تعداد کے حامل بچے ویکسین کے حصول کے بعد اس موذی مرض کے خطرے سے آزاد ہوجائیں گےیہ مہم اس صورتحال میں غیر معمولی اہمیت کی حامل ہے کہ ملک میں گزشتہ دوبرسوں کے دوران پولیو کے ختم ہوتے کیسوں نے پھر سے سر اٹھالیا جس کی رو سے 2019میں 146 اور 2020میں 20جولائی تک نئے 68 کیس رجسٹرڈ ہوئے جن میں سے 21کا تعلق سندھ سے ہے۔ جبکہ 2018میں ملک بھر میں تعداد کم ہوتے ہوتے بارہ کی سطح پر آگئی تھی جس پر عالمی ادارہ صحت نے اطمینان کا اظہار کیا تھا۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ 1970کے عشرے میں بیک وقت دنیا بھر میں شروع ہونے والی پولیو سے بچائو کی مہم کی بدولت 1988 میں کیسوں کی تعداد میں 99فیصد کمی آچکی تھی جبکہ بقیہ ایک فیصد کیسوں کے حامل بچوں کا تعلق افغانستان اور پاکستان سے رہ گیا تھا اور آج بھی یہ صورتحال جوں کی توں ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں وطن عزیز میں پولیو ویکسین کی بدولت کیسوں کی تعداد 20ہزار سے کم ہو کر چار ہزار پر آئی لیکن 2019جو کہ ملک سے پولیو کے خاتمے کے اعلان کا سال تھا اس میں یکا یک پھر سے پولیو وائرس کا جان پکڑنا ہمارے لئے باعث تشویش بنا۔ وفاقی و صوبائی حکومتوں نے اس صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے رکاوٹیں دور کرنے اور ملک کے طول و عرض میں بچوں کو ویکسین کی فراہمی کا مربوط پروگرام بنایا ہے۔ سندھ حکومت کا متذکرہ اقدام اس سلسلے کی کڑی ہے گو کہ دوسری صوبائی حکومتیں بھی پولیو خاتمہ پروگرام پر عمل پیرا ہیں لیکن اس مہم پر آخری کیس کے خاتمے تک سختی سے کار بند رہنے کی ضرورت ہے۔
jang-eitorial-