بار بار سندہ ہر حملہ آور ہونا تعصبانہ سوچ کی عکاسی کرتا ہے جس صوبے نے پاکستان کو جنم دیا آج اس صوبے کو احساس محرومیوں کا شکار

بار بار سندہ ہر حملہ آور ہونا تعصبانہ سوچ کی عکاسی کرتا ہے جس صوبے نے پاکستان کو جنم دیا آج اس صوبے کو احساس محرومیوں کا شکار کیا جا ریا ہے۔ جام اکرام اللہ دھاریجو
اشیائے خوردونوش کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں اور نااہل وفاقی حکمران ڈٹ کر جھوٹ پر جھوٹ بولے جا رہے ہیں۔
کراچی 16 اگست : صوبائی وزیر برائے اینٹی کرپشن، صنعت، تجارت و محکمہ امداد باہمی سندھ جام اکرام اللہ دھاریجونے کہا ہے کہ بار بار سندھ پر حملہ آور ہونا تعصب کا کھلا ثبوت ہے، سندھ اپنے جائز حقوق کے علاوہ تو کچھ نہیں مانگ رہا جبکہ نااہل سلیکٹیڈ حکومت بچکانہ حرکتوں کے سوائے کچھ نہیں کر رہی۔ یہ بات انہوں نے گھوٹکی کے مختلف علاقوں کا دورہ کرتے ہوئے مختلف وفود سے ملاقات کے دوران کہی۔ صوبائی وزیر نے عادلپور پہنچ کر تاج الدین کلوڑ کے بھائی کے انتقال پر فاتحہ خوانی کی جبکہ انہوں نے گھوٹکی میں حافظ احمد محمد چاچڑ کے بھتیجوں کی شادی تقریب میں بھی شرکت کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ نااہل سلیکٹیڈ وفاقی حکمرانوں نے اپنی نااہلی کی وجہ سے عوام کی زندگی اجیرن کردی ہےیہ حکومت مصنوعی مہنگائی کرکے مافیاز کو مستحکم کر رہی ہے جس کی وجہ سےاشیائے خوردونوش کے دام عام آدمی کے پہنچ سے دور ہوکر رہ گئے ہیں لیکن نااہل حکمران ڈٹ کر جھوٹ پر جھوٹ بولنے اور خالی دعووں کے سوائ کچھ نہیں کر رہے۔ انہوں نے کہا کہ بار بار سندھ پر حملہ آور ہونا تعصب کا کھلا ثبوت ہے،جس صوبے نے پاکستان کو جنم دیا آج اس کی عوام احساس محرومیوں کا شکار ہے۔ صوبائی وزیر برائے صنعت و تجارت اور انسداد بدعنوانی و محکمہ امداد باہمی جام اکرام اللہ دھاریجو نے کہا کہ سندھ اپنے جائز حقوق کے علاوہ تو کچھ نہیں مانگ رہا لیکن موجودہ حکومت نے صرف اور صرف نفرتوں کی سیاست کو پروان چڑھا رکھا ہے اور سلیکٹیڈ حکومت بچکانہ حرکتیں کرنے کے سوا کچھ نہیں کر رہی۔ صوبائی وزیر جام اکرام اللہ دھاریحو نے کہا کہ سندھ حکومت پر بلاجواز تنقید کی جا رہی ہے تنقید کرنے والے اپنے گریبان میں جھانکیں اور مواخذہ کریں ان کے صوبوں کے کتنے لوگ سندھ میں روزگار کما رہے ہیں سندھ صوفیوں اور اولیائ کرام کی سرزمین ہے ہمارے لوگ تعصب پرستی سے پاک ہیں۔اس موقع پر ان کے ہمراہ پیپلز پارٹی ضلع گھوٹکی کے جنرل سیکریٹری سکندر لاکھو سمیت پارٹی عہدیداران اور کارکنان بڑے تعداد میں موجود تھے۔

ہینڈآوٹ نمبر۔۔۔592 ایم یو