سندھ میں غربت اور غذائی قلت کو کم کرنا صوبائی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

وزیر لائیوسٹاک اینڈ فشریز انجینئر۔ عبدالباری پتافی نے کہا ہے کہ سندھ میں غربت اور غذائی قلت کو کم کرنا صوبائی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ یہ بات انہوں نے آج یہاں اپنے دفتر میں محکمہ جاتی کارکردگی جانچنے کے لیے بلائے گئے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔
اس موقع پر سکریٹری لائیو اسٹاک اینڈ فشریز اعجاز مھسر اور محکمہ لائیو اسٹاک اور فشریز کے دیگر افسران بھی موجود تھے۔ ڈاکٹر نذیرحسین کلہورو ، پروگرام کوآرڈینیٹر نے سندھ میں اسٹنٹنگ اور غذائی قلت کی کمی کے لیے جاری ایکسلریٹیڈ ایکشن پلان کے بارے میں بتایا۔ یہ پروگرام ملٹی سیکٹرل ہے اور جس میں سندھ حکومت کے آٹھ محکمے مشترکہ طور پر حصہ لے رہے ہیں ۔ جس کے تحت سندھ میں 5 سال سے کم عمر بچوں میں اسٹنٹنگ اور غذائی قلت کے مسئلے کو حل کرنے کے لئے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے شرکاء کو بتایا کہ اس پروگرام کے تحت تقریبا 15،000 غریب اور غذائیت سے دوچار گھریلو حاملہ یا دودھ پلانے والی خواتین کو 5 بکریاں اور 10 پولٹری پرندوں کا پیکیج فراہم کیا گیا ہے ، تاکہ وہ ان کے بچوں اور کنبے کو معیاری خوراک کا بہترین ذریعہ مل سکے۔ ان خاندانوں کا انتخاب بینظیر انکم سپورٹ کارڈ یا غربت اسکور کارڈ کے اعداد و شمار اور ایم اے یو سی ٹیسٹ کی بنیاد پر کیا گیا ہے جو کہ محکمہ صحت سندھ نے انجام دیا ہے۔ وزیر لائیوسٹاک اینڈ فشریز کو بتایا گیا کہ اس پروگرام کے تحت تقریبا 108،000 غریب اور غذائیت کی کمی کا شکار خاندانوں کو بچوں کی بہتر صحت اور ان کی بہتر دیکھ حال کے لیے آگاہی مہم چلائی گئی ہے تاکہ وہ اپنے کنبے کا خیال رکھ سکئے۔ پروگرام کوآرڈینیٹر نے عبدالباری پتافی کو یہ بھی بتایا کہ تقریبا 68،000 خواتین کاشتکاروں کو مویشیوں میں بہتر انتظام اور بیماریوں کے قابو سے متعلق تربیت فراہم کی گئی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ تقریبا 97،000 گھروں کے چھوٹے بڑے جانوروں اور پولٹری کو بار بار ویکسینیشن فراہم کی گئی ہے۔ یہ پروگرام کمحکمہ منصوبہ بندی اور ترقیاتی , ورلڈ بینک اور یونیسف اور این جی اوز کے ذریعے اپنی خدمات عوام تک پہچارہا ہے۔ وزیر لائیوسٹاک اور فشریز نے پروگرام کوآرڈینیٹر اور ٹیم ممبروں کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے اسے مزید بہتر بنانے کے لیے ہدایات بھی جاری کیں۔