(یومِ آزادی، جشن اور ذمہ داریاں)

میرا آج اس مضمون نویسی کا مقصد و ھدف ملکِ پاکستان کی آزادی کی قلبی و روحانی کے ساتھ ساتھ ھماری معاشرتی و سماجی ذمہ داریوں کی نشاندھی و تعین کرنا ھے
اصولا“ فطری بات ھے کہ جس نے کھویا ھو اسی کو کسی چیز کے حصول و اھمیت کا اندازہ ھو سکتا ھے
یہ وطنِ عزیز کتنی قربانیوں کے بعد حاصل و معرضِ وجود میں آیا ھے اس کا اندازہ و ادراک کٸیے بغیر اس کی قدر و منزلت کا اندازہ کرنا ناممکن ھے
اس پاکستان کی بنیادیں استوار کرنے کے لٸے ھمارے اجداد کی ھڈیاں اینٹوں کی جگہ اور خون پانی کی جگہ استعمال ھوا ھے اتنی گرانقدر تخلیق کا تخمینہ وھی لگا سکتا ھے جس نے تعمیرِ پاکستان میں اپنا دھن من بھاٸی عزیز و اقربا قربان کٸے کتنی ماوں کے سامنے ان کے بچے قتل کر دٸے گٸے کتنی پاکدامنوں نے نہروں اور کنووں میں ڈوب کر پاکستان کی قیمت ادا کی ھند کے کے مسلمان ایک کربلاٸے صغیر سے گذر کر اس آزاد فضا میں سانس لینے کے قابل ھوٸے اور ھمیں غلامی کی طوق سے آزادی دلوأٸی۔ کٸی بچے یتیم ھوٸے جو ساری زندگی والدین کی شفقت سے محروم رھے اور ان کی سرپرستی کے لٸے ترستے رھے

14 اگست آزادی اور جشن آزادی کا مفہوم کیا ھے عام لوگ اور بالخصوص نٸی نسل کی اکثریت اس سے بالکل بے بہرہ ھے ان پڑھ تو چلو پروپیگنڈے کا شکار ھیں لیکن پڑھے لکھے بھی غیرِ تاریخ کے طوطے بنے ھوٸے ھیں سمجھتے نہیں کہ ھم نے آزادی حاصل کی کس سے کی ،کیوں کی، اور کیسے حاصل کی، ان بنیادی سوالوں سے ھمارا کوٸی سروکار نہیں کہ کس طرح ھندووں نے طرح طرح کی مکاریوں سے رکاوٹیں ڈالی
ھمیں نہیں بھولنا چاھٸے کہ اس آزادی میں ٹیپو سلطان کا خون، سر سید کی نگاہِ، دور بیں، اقبال کے افکار اور قاٸدِ اعظم کی جدوجہد اور اور دوسرے اکابرین کا ایثار شامل ھے
دعا ھے کہ اللہ پاک ھمارے ملک کو اندرونی و خارجی سازشوں سے محفوظ رکھے خوشحالی، آسودگی، انصاف، محبت، اخوت، بھاٸی چارگی و دینی مفاھمت سے مالامال رکھے اور ارضِ پاک دن دوگنی رات چوگنی ترقی کی منازل طے کرکے دنیا کے نقشے پر ایک عظیم مملکتِ خداداد پاکستان کی حیثیت میں نمایاں و کامیاب رھے

تحریر!! سبین فاطمہ