سیکس ڈول ۔ چونکہ ہم ”فروٹ چاٹ” قوم ہیں

رابعہ الربا

ہم ایک انقلابی دور حکومت میں زندہ قوم ہیں۔ ملک مسلسل ترقی کی راہوں پہ گامزن ہے۔ اور حکومت کا ہر دوسرا قدم ستاروں سے آگے جہا ں تلا ش کر نے والا ہے۔ اسی دور میں جب ڈیم فنڈ اکٹھا کر نے کے بعد زمینی ڈیم تو کورونا کے باعث نہ بن سکا۔ مگر آسمانی ڈیم نے کراچی میں اس خواب کو تعبیر کیا ہوا ہے۔

کبھی توہین مذہب کیس کی گونج پہ قوانین اور بل پہ نظر ثانی ہو رہی ہے تو کہیں مندروں کی تعمیر سے قبل ہی من مندورو ں میں کوئی رومانی گھنٹیاں بج رہی ہیں۔ کہیں پی ایچ ڈی کی اس ڈگری پہ تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے جوایک تہائی پیسے دے کر یا کہیں سے لکھوا کر، اس کے پیسے مار کر حاصل کی جاتی ہے۔

اجی چھوڑئیے یہ پڑھی لکھی باتیں۔ گندی باتیں کرتے ہیں

روزانہ کے خبر نامے کی ایک مخصوص خبر ہے بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی اور خواتین کے ساتھ ریپ۔ جس کے حل کے طور پہ سمجھایا یہ جاتا ہے کہ بچوں کو آنکھو ں کے سامنے رکھو۔ لو جی یہ بھی کر لیا تو خبر آتی ہے، باپ نے بیٹی کے ساتھ زیادتی کر دی۔ بھائی نے بہن کے ساتھ بے غیرتی کر دی۔

اور پھر بات ہو تی ہے غیرت کی جو بیٹی کے حصے آتی ہے۔

بات کی جاتی ہے کہ لڑکیا ں نامناسب کپڑے پہنتی ہیں۔ مان لیا۔ مدرسے میں تو سب کے مناسب کپڑے ہو تے ہیں۔ بالو ں سے سجی صورت، ٹخنوں سے اونچی شلوار اور اس کے اندر بچوں کے لئے چھپا ”پیار، ۔ عورت کو دیکھ کر مرد کے جذبات قابو میں نہیں رہتے۔ چاہے وہ بہن ہو، یا بیٹی۔ کیسا لگتا ہے یہ جملہ؟

ات کی جاتی ہے چکلے کھول دو۔ کھول دیتے ہیں۔ بیٹیا ں کون لائے گا وہاں؟ غربت تو غربت تو پہلے ہی ہر جا بیٹی لے جا رہی ہے۔ چکلے کی کیا ضرورت؟

اس انقلابی دور میں، اگر ہمیں ان سب کے سب ”احسن افعال، سے بچنا ہے تو ترقی یافتہ اطوار زیادہ مناسب ہیں۔ کیا خیال ہے؟

حکومت کو چاہیے کہ وہ ”سیکس ڈول” کی صنعت کو پر موٹ کرے۔ سیکس ڈولز کو امپورٹ نہیں کرنا۔ ورنہ دیسی لڑکی اور لڑکے کے ٹیسٹ (Taste) کے طور پہ یہ جنسی کارروائیاں جاری و ساری رہیں گی۔

حکومت کو چاہیے کہ صعنت کاروں سے اپیل کرے کہ وہ یہا ں خود صنعت کاری کریں۔ تا کہ ہمیں دو ماہ سے لے کر ساٹھ سال تک کی سیکس ڈول مل سکے۔ چونکہ ہم ”فروٹ چاٹ” قوم ہیں۔ ہمیں جنسی گڑیاں ہی نہیں چاہیں۔ صرف اس حوالے سے ہم برابری کے قائل لوگ ہیں ہمیں“ سیکس گڈے” بھی چاہیں۔ جیسے مدرسوں اور سکولوں میں ہوتے ہیں۔ مدرسوں کی خبریں نکل آتی ہیں۔ دفتروں میں بھی ان کی تعداد کچھ کم نہیں اور نہ ہی ہمارے وہ ادارے و محکمے اس جنس کی دوڑ میں پیچھے ہیں۔ جن پہ ہمیں بہت ناز و فخر ہے۔ مگر ان کی خبر اس لئے نہیں نکلتی کہ چار جماعتیں اور چار کتابیں پڑھ جانے سے ہم سیکولر ہو جاتے ہیں۔ اور خبر، فیشن میں بدل جاتی ہے۔

غربت صر ف عورت کو ہی بستر پہ نہیں لاتی، جوان لڑکوں کو بھی لاتی ہے۔ وہ بھی روتے ہیں اور پھر اس کا بدلہ عورت سے لیتے ہیں۔ وہ مرد جو جنسی محبت کے دوران اپنی ساتھی کے ساتھ ظالمانہ رویہ اختیار کر تے ہیں۔ ان کے ماضی میں جھانک کر دیکھیں تو اس کی پتلون میں سوراخ ملتا ہے۔

پھر ہمیں ایک جیسے سائز کی سیکس ڈول نہیں چاہیے۔ موٹی، پتلی، بہت موٹی، بہت دبلی، بچی، دو ماہی سے چند سالہ تک کی بھی چاہیں۔ اس لئے ملکی صنعت ہمارے مزاج کے مطابق یہ ”گڈے، گڈیا ں” تیار کرے گی۔

سب سے اہم بات جو اپنے ملک کی صنعت کا فائدہ ہوتا ہے کہ اس کا رپلیکا جلد اور سستا بازار میں آ جاتا ہے۔ اس میں بھی یونہی ہو گا۔ دوسرا فائدہ کہ آپ کو جیسی لڑکی پسند ہے، ممکن ہے وہی بہت سے دوسروں کو پسند ہو۔ تو آڈر پہ آپ اپنی محبوبہ تیار کروائیں۔ اور رقیبوں سے بھی بچیں۔ یوں اس لڑکی کو الگ سہولت ہو جائے گی۔ جس کے پیچھے مرد ہاتھ دھو کر بغیر نہائے پڑ جاتے ہیں۔ اور اتنی بو آتی ہے کہ بیچاری بے ہوش ہو جاتی ہے۔ اور ”کملے، سمجھتے ہیں کہ یہ ان کی مردانگی کا کمال ہے۔

ایک اور فائدہ لڑکیو ں کو یہ ہو گا کہ ان کو بھی یہ سہولت میسر آ جائے گی کہ اگر ان کو ہر طرف سے بو آ رہی ہو تو وہ اپنا ”ماڈل” بنوا کر ٹھرکیوں کو گفٹ کر سکے۔ اور شاید اس کی وجہ سے تیزاب گردی کو بھی کنٹرول مل سکے۔

جتنا ہمارا خون ابل رہا ہے۔ یقین مانیے مشکل کے اس دور میں یہ وہ صنعت ہے جو ہماری باقی صنعتوں کو بھی سہارا دے گی۔ یو ں ہماری اکانومی ایک بار پھر ”کھڑی” ہو جائے گی۔ اس صنعت کو نہ صرف باقی صنعتوں کی طرح عزت دی جائے۔ بلکہ اس کو پروموٹ بھی کیا جائے۔ اپنی پروڈکٹ کو باہر بھی فروخت کیا جائے تاکہ ان کو ہر اعتبار سے علم ہو سکے کہ ہم کسی طرح ان سے پیچھے نہیں ہیں۔ ملک میں بھی یہ سب پروڈکٹ عام دکانو ں پہ دستیاب ہو نی چاہئیں۔ جیسے باقی “جنسی اوزار” دستیاب ہوتے ہیں۔

جس طرح ہمیں دوسروں کے بچوں، بچیوں، اور لڑکیوں کے ساتھ کوئی جنسی فعل کرتے ہو ئے شرم نہیں آتی۔ بالکل یونہی اس سب کو خریدتے ہوئے بھی ہمیں شرم محسوس نہیں ہونی چاہیے۔ کیونکہ جو اس وقت ملک کی صورت حال ہے اسے اندازہ ہوتا ہے کہ ہمارا اہم ترین مسئلہ جنس ہے۔

اگر حکومت اس انقلابی صنعت کی طرف توجہ دے توحکومت اگلے الیکشن جیت سکتی ہے۔ ہم سب دلی طور پہ منتظر ہیں یہ بل اسمبلی میں کون پیش کرے گا۔

——–

رابعہ الربا
from-humsub-pages