مساجد کی حرمت پامال نہ ہو

مساجد کی حرمت پامال نہ ہو
محکمہ اوقاف کے اہلکاروں بالخصوص خطیب کو بھی قانون کے مطابق سزا دیں

( طارق اقبال )


اداکارہ صبا قمر اور بلال سعید کا لاہور کی تاریخی جامع مسجد وزیر خان میں گانے کی شوٹنگ ویڈیو میں فیصل مسجد لاہور کے بھی کچھ مناظر سامنے اۓ۔
کیا ہم مسلمان ہیں کیا یہ ایک اسلامی ملک میں ہو رہا ہے۔؟؟؟
دانشور اب کس بل میں چھپے ہو۔؟؟
یہاں آنکھیں اندھی اور زبانیں گنگ ہو گئیں۔؟؟
کیا مسجدیں اس لیے ہوتی ہیں۔؟؟
ایک نجی پروڈکشن کمپنی نے مسجد وزیر خان میں ریکارڈنگ کے لئے وضع کئے گئے قواعد و ضوابط کو پامال کرتے ہوئے رقص اور قابل اعتراض عکسبندی کی ہے۔ مقدس مقامات سے عقیدت اور احترام پاکستانیوں کے ایمان کا حصہ ہے۔مقدس مقامات کی بے حرمتی کی پاکستانی قانون میں گنجائش ہے نہ ہی معاشرتی اقدار ایسا کرنے کی اجازت دیتی ہیں ۔پاکستان جہاں اقلیتوں کے مقدس مقامات کا احترام کیا جاتا ہے ایسے میں مسجد کا کسی مسلمان کے ہاتھوں تقدس پامال ہونا انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت امر ہے۔ اس سے انکار نہیں کہ مغلیہ دور کی تاریخی مسجد وزیر خان میں عسکبندی کی باضابطہ اجازت لی گئی تھی ۔مساجد کو فلموں میں دکھانا قابل تعریف ہے مگر مسجد کے تقدس کا احترام پروڈکشن کمپنی کی ذمہ داری تھی جس انتظامیہ نے عکس بندی کی اجازت دی اسکا بھی فرض تھا اس کے اہلکار مسجد کے تقدس کو قائم رکھنے کے لئے ضروری اقدامات کو یقینی بناتے ۔بدقسمتی سے متعلقہ افراد کا اس مجرمانہ سرگرمی پر خاموشی اختیار کئے رکھنا باعث شرم ہے۔
اب جب کہ سیکرٹری اوقاف نے ڈی جی اوقاف کو ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت کی ہے تو بہتر ہو گا ڈی جی نہ صرف پروڈکشن کمپنی کے خلاف سخت کارروائی کریں بلکہ اس مذموم فعل میں ملوث محکمہ اوقاف کے اہلکاروں بالخصوص خطیب کو بھی قانون کے مطابق سزا دیں تاکہ مستقبل میں کسی کو عبادت گاہوں کا تقدس پامال کرنے اور مسلمانوں کے جذبات سے کھیلنے کی جرات نہ ہو سکے۔