علی زیدی کا نئی شپنگ پالیسی کا اعلان

وفاقی وزیر علی زیدی کا کہنا تھا کہ پاکستان کی زیادہ تر برآمدات بندر گاہوں سے ہوتی ہے، بندرگاہ پر پہلے جہاز لگانے کیلئے کرپشن کی جاتی تھی جس کا خاتمہ کر دیا،دنیا بھر میں انڈسٹری پورٹ کیساتھ لگتی ہے،ماضی میں میری ٹائم سیکٹر کو نظر انداز کیا گیا،پاکستان میں جتنا بھی تیل آتا ہے وہ پورٹ سے آتا ہے، 90 فیصد تجارت بندرگاہوں سے ہوتی ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ سب سے زیادہ ضروری منسٹری آف کامرس ہے،معیشت کی سمت کا تعین منسٹری آف کامرس کرتی ہے،رزاق داؤد کا بہت شکرگزار ہوں،پالیسی بنانے میں رزاق داؤد نے بہت اہم کردار ادا کیا۔ وفاقی وزیر علی زیدی کا مزید کہنا تھا کہ گوادر پورٹ سٹی ہے، پورٹ ہی شہر چلاتی ہیں،پورٹ کا شہر کی ترقی میں بہت بڑا حصہ ہوتا ہے،جب پاکستان بنا تو پاکستان کے پاس جہاز نہیں تھا،شپنگ انڈسٹری پاکستان میں پروان نہیں چڑھ سکی،آج بھی جن کے پاس جہاز ہیں وہ پاکستان میں رجسٹرڈ نہیں کراتے،سارا ڈیٹا دیکھ کر اس میں کچھ ترامیم کیں،2030 تک جو بھی پاکستانی جہاز پاکستان میں رجسٹرڈ کرائے گا اس کو 2030 تک جہاز پو کوئی کسٹم ڈیوٹی نہیں ہو گی،جہاز کی انکم اور سیلز پر کوئی ٹیکس نہیں ہو گا