پاکستان قونصلیٹ جدہ میں 5 اگست ”یوم استحصال کشمیر“ کے موقع پر ایک تقریب کا اہتمام

جدہ ، ریاض (امیر محمد خان سے ) پاکستان قونصلیٹ جدہ میں 5 اگست ”یوم استحصال کشمیر“ کے موقع پر ایک تقریب کا اہتمام کیا گیا جس کے مہمان خصوصی میڈیا کنسلٹنٹ مسٹر منصور نظام تھے۔تقریب میں وادی کشمیر میں بھارتی مظالم سے متعلق ایک مختصر دستاویزی فلم بھی پیش کی گئی۔ صدر پاکستان، وزیر اعظم پاکستان، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے پیغاما ت پڑھ کر سنائے گئے، واضح رہے کہ کسی سرکاری و قومی تقریب میں صدر اور وزیر اعظم کے ساتھ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے پیغام بھی پڑھ کر سنایا گیا ۔ صدر پاکستان کا پیغام شائق بھٹو جبکہ وزیر اعظم کا پیغام قونسل پریس حمزہ گیلانی نے پڑھ کر سنایا۔۔ اس موقع پر پاکستان کا نیا نقشہ بھی اسکرین پر دکھایا گیا۔ قونصل جنرل خالد مجید نے اپنے خطاب میں گزشتہ سال 5 اگست کے ہندوستان کی غیرقانونی اور یکطرفہ کارروائیوں پر روشنی ڈالی اور اس بات پر زور دیا کہ کشمیر کو پنجرے میں تبدیل کرنے کے باوجود، ہندوستان آزادی پسند کشمیری عوام کے ناقابل تسخیر جذبے کو دبانے میں کامیاب نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے ہندوستان کی ناقابل قبول کارروائیوں اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو اجاگر کرنے کے لئے حکومت پاکستان کے مختلف بین الاقوامی فورمز پر اٹھائے گئے اقدامات کا ذکر کیا۔۔چیئرمین کشمیر کمیٹی مسعود پوری، جنرل سکریٹری، جموں و کشمیر اوورسیز کمیونٹی سردار وقاص، نائب صدر اوؤسیز کشمیر کمیونٹی چودھری معروف حسین نے اپنے خطاب میں اسلام آباد میں مندر بنانے پر احتجاج کیا اور کہا کہ کشمیر کا مقدمہ بیرون دنیا تک پہنچانے کیلئے آزاد کشمیر کے رہنماؤ ں کو باہر بھیجا جائے تاکہ وہ زیادہ بہتر انداز میں کشمیر کا مقدمہ پیش کرسکیں، نائب صدر جموں و کشمیر اوورسیز کمیٹی، اور مسٹر پرویز یوسف، ممبر کشمیر کمیٹی جدہ
نے بھی اظہار خیال کرتے ہوئے کشمیر تقسیم کا ایک نامکمل ایجنڈا ہے اور اسے اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق حل کرنے کی ضرورت ہے۔ سفارت خانہ ریاض میں یوم استحصال کی مناسبت سے آن لائن بات چیت کا اہتمام کیا جس میں پاکستانی اور کشمیریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی، جس میں ماہرین تعلیم، میڈیا اور مقامی تھنک ٹینک کے علماء کراس شامل تھے۔ قومی سلامتی سے متعلق وزیر اعظم کے معاون خصوصی (ایس اے پی ایم)، ڈاکٹر معید یوسف نے بطور کلیدی نوٹ اسپیکر شرکت کی۔ دیگر ممتاز مقررین میں سابق قومی سلامتی کے مشیر، لیفٹیننٹ جنرل (ر) نصیر خان جنجوعہ، بھارت میں پاکستان کے سابق سفیر جناب عبدالباسط خان، فلسطین کے نمائندے عبدالباسط العابداللہ، چیئرمین، امن و ثقافت کی تنظیم، محترمہ مشال حسین مولک شامل ہیں۔، پاکستان میں سابق سعودی سفیروں، جناب علی اود اسیر، سابق سعودی سفارتکار علی غامدی، اور سابقہ??ہائی کمشنر اور سینئر تجزیہ کار جناب اکبر ایس احمد شامل تھے۔وزیر اعظم کے معاون خصوصی قومی سلامتی معید یوسف نے حاضرین کو آگاہ کیا کہ حکومت پاکستان نے تنازعہ کشمیر کے حل کے لئے جارحانہ سیاسی اور سفارتی پالیسی اپنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس موقع پر سعودی عرب میں پاکستان کے سفیر راجہ علی اعجاز نے خطاب کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ جموں وکشمیر ایک بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ ”متنازعہ” علاقہ ہے، جس کی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعدد قراردادوں نے تصدیق کی ہے۔ حقوق کے لئے ہمیشہ دنیا میں ضمیر کی آواز بنے گا اور کشمیر کاز کا ثمر آور ہوگا۔ آئی او جے اینڈ کے میں اس کے سات دہائیوں سے زیادہ عرصے