‎ صحافت کا ایک بڑا نام۔ اطہر ہاشمی بھی رخصت ہوئے

‎اردو زبان و ادب کے استاد اور ملک کے نامور ایڈیٹر، کالم نگار اطہر ہاشمی کے انتقال سے اردو صحافت ایک تجربہ کار صحافی اور ادیب سے محروم ہو گیاوہ اردو نیوز جدہ کے بانیوں میں شامل تھے اور کافی عرصے تک اس کے ادبی ایڈیشن کے ایڈیٹر رہے۔انتقال کے وقت ان کی عمر 74 سال تھی۔ انہوں نے کوچہ صحافت میں 44 برس کام کیا۔وہ روزنامہ جسارت کے چیف ایڈیٹر تھے۔

‎اطہر ہاشمی کے اس طرح اچانک رحلت کی خبر پر ابھی تک یقین نہیں آتا۔ ان کی بیماری کی خبریں سوشل میڈیا پر گردش میں تھیں لیکن وہ اتنی جلدی رخصت ہوں گے اس کا بلکل یقین نہیں تھا۔ان کا درجہ اور مقام کراچی کی اردو صحافت میں ایک ایسے بہترین استاد کا تھا جن کو اردو زبان کی انشا،املا، گرامر، محاوروں اور نثر نگاری پر کامل عبور حاصل تھا۔ جس کی شہادت ان کے اردو زبان و بیان سے متعلق ان کے کالم ہیں۔ وہ اخبار میں نو آموز صحافیوں کی خبروں اور تحریروں کی اصلاح اور رہنمائی میں کبھی بخل سے کام نہ لیتے۔ ان کے شاگرد صحافیوں کی بڑی تعداد اس وقت مختلف اخبارات اور ٹی وی چینلز میں خدمات انجام دے رہی ہے۔ہم جیسے صحافیوں کو جب بھی کوئی مشورہ یا تعاون درکار ہوتا تو صائب مشورہ دیتے اور تعاون کرتے۔ وہ ایک کہنہ مشق صحافی تھے جن کو اردو صحافت اور زبان میں بڑی مہارت حاصل تھی۔ ان کا کالم ” خبر لیجئے زبان بگڑی” بہترین کالموں میں شمار ہوتا تھا اور اس کا انتظار کیا جاتا تھا۔ ان کے انتقال سے اردو صحافت میں بلاشبہ ایک ایسا خلا پیدا ہوگیا ہے جس کو پر ہونے میں کافی وقت درکار ہو گا۔

اطہر ہاشمی ایک اجلے کردار کے ایسے شریف اور بڑی خوبیوں کے حامل انسان تھے جن سے دوستی پر فخر کیا جا سکتا تھا۔ وہ بڑی سنجیدہ طبیعت کے مالک تھے اور کسی سے آسانی کے ساتھ بے تکلف نہیں ہوتے تھے۔ہم ان سے دوستی کا دعوی نہیں کریں گے لیکن ہم ہمیشہ ایک دوسرے کا احترام کرتے تھے اور ہمیں اپنی تحریروں میں ان سے اصلاح لینے کا شرف بھی حاصل ہے۔ اللہ تعالی اطہر ہاشمی صاحب کی مغفرت فرمائے اور ان کے درجات بلند فرمائے۔