ہراساں کیے جانے سے متعلق 15 برس تک کسی کو نہیں بتایا، عائشہ عمر

پاکستان کی نامور اداکارہ عائشہ عمر نے ایک مرتبہ پھر جنسی ہراسانی کا شکار ہونے سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے 15 برس تک اس حوالے سے کسی کو نہیں بتایا تھا۔

خیال رہے کہ می ٹو مہم کا آغاز دنیا بھر میں اکتوبر 2017 میں ہوا تھا جب ہولی وڈ کی نامور خواتین نے سامنے آکر پروڈیوسر ہاروی وائنسٹن پر جنسی ہراساں کرنے اور ریپ کرنے کے الزامات لگائے تھے اور ان پر مجموعی طور پر 100 خواتین نے الزامات لگائے تھے۔

اسی حوالے سے امریکی اداکارہ ایلسا میلانو نے ٹوئٹر پر ’می ٹو‘ (MeToo#) یعنی ’میں بھی‘ کے عنوان سے ایک ٹرینڈ کا آغاز کیا تھا۔

جس کے بعد متعدد خواتین اس مہم کے ذریعے اپنے تلخ تجربات کے عوام کے سامنے لائی تھیں۔

رواں برس نیویارک کی عدالت نے 2 خواتین کو جنسی استحصال کا نشانہ بنانے پر پروڈیوسر ہاروی وائنسٹن کو 23 سال قید کی سزا بھی سنائی تھی۔

یاد رہے کہ پاکستان میں اس حوالے سے سب سے پہلے اداکارہ و گلوکارہ میشا شفیع نے آواز اٹھائی تھی جس کے بعد پاکستانی شوبز انڈسٹری میں بھی می ٹو مہم کا شور اٹھا تھا۔

اس کے بعد اپریل 2018 میں عائشہ عمر نے بھی جنسی ہراساں ہونے کا انکشاف کیا تھا لیکن اس حوالے سے کوئی تفصیلات بیان نہیں کی تھیں۔


بعدازاں رواں برس جنوری میں ایک انٹرویو کے دوران عائشہ عمر نے انکشاف کیا تھا کہ انہیں پاکستانی انڈسٹری میں کئی مرتبہ جنسی ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا۔

اب اداکارہ اور ڈائریکٹر روز میکگوان سے انسٹاگرام پر لائیو سیشن کے دوران عائشہ عمر نے ایک مرتبہ پھر جنسی ہراساں ہونے پر بات کی۔

روز میکگوان، نے ہاروی وائنسٹن کی جانب سے ہراسانی کے 20 برس بعد 2017 میں اس کا انکشاف کیا تھا اور اس لائیو سیشن میں انہوں نے می ٹو مہم کے بعد اپنی جدوجہد پر گفتگو کی۔

عائشہ عمر کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے روز میکگوان نے انکشاف کیا کہ آخر کس طریقے سے انہوں نے اپنے ساتھ، جو کچھ ہوا، اس حوالے سے بات کرنے کی طاقت جمع کی تھی