ہم انڈیا کے ساتھ 1000 سال تک جنگ لڑیں گے لیکن کشمیر پر اپنا اختیار نہیں چھوڑیں گے

کراچی (5 اگست 2020) : وزیراعلیٰ سندھ سید مرادعلی شاہ نے یوم استحصال کشمیر کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں سب سے پہلے گورنر سندھ عمران اسماعیل اور پاکستان پیپلزپارٹی سندھ کے صدر نثار کھوڑو،فردو س شمیم نقوی اور یہاں آئے ہوئے ہر طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد کا شکریہ ادا کرتاہوں کہ انہوں نے یوم استحصال کشمیر جو حکومت سندھ کی جانب سے 5 اگست 2020 کومنایا جارہا ہے میں شرکت کی ۔انہوں نے کہا کہ کشمیر کا مسئلہ کوئی نیا نہیں ہے بلکہ وطن کی آزادی سے قبل 1946 میں جب الیکشن ہورہے تھے تب بھی قائد اعظم محمد علی جناح نے کشمیر کے اندر مسلمانوں کا جو استحصال ہورہا تھا اُس پر آواز اٹھائی۔ آزادی کے وقت یہ طے ہوا تھا کہ جن علاقوں میں مسلمانوں کی آبادی زیادہ ہوگی وہ پاکستان کا حصہ ہونگے مگر اس بات کو نظر انداز کرتے ہوئے انڈیا نے کشمیر پرقبضہ کرلیا۔ اُس وقت سے ہمارے لوگوں نے وہاں ہندوستانی قبضے کے خلاف آزادی کی جنگ شروع کی اور 1948 میں اقوام متحدہ کے قانون میں یہ بات کہی گئی تھی کہ کشمیر کے عوام حق خودارادیت کے ذریعے اپنا فیصلہ کرسکتے ہیں ۔ اُس کے بعد سب کو یاد ہوگا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے اقوام متحدہ میں بھی کشمیر کے حوالے سے تقاریرکیں اور انھوں نے کہا تھا کہ کشمیر پاکستان کا حصہ ہے اور اسے پاکستان کی شہ رگ قرار دیا اور آج تک شہید ذوالفقار علی بھٹو کی یہ باتیں اور وہ جذبہ ہمیں یاد ہے۔ شہیدذوالفقار علی بھٹو نے کہا تھا کہ ہم انڈیا کے ساتھ 1000 سال تک جنگ لڑیں گے لیکن کشمیر پر اپنا اختیار نہیں چھوڑیں گے ۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ہندوستان کی حکومت خاص طور سے جب سے مودی وہاں برسر اقتدار آیا ہے اُس نے پورے ہندوستان میں مسلمانوں پر جو مظالم ڈھائے ہیں وہ کسی سے چھپے ہوئے نہیں ہیں، خاص طورپر کشمیر کی وادی میں آج سے پورا ایک سال پہلے انہوں نے کرفیو/لاک ڈائون نافذ کیا تھاوہ دنیا کا طویل ترین کرفیو ہے لیکن اس کرفیو اور ان مظالم کے باوجود ہمارے کشمیری بھائی اور بہنیں اپنے حق خود ارادیت پر قائم ہیں اور پاکستان کا بچہ بچہ اپنے کشمیری بہن بھائیوں کے ساتھ کھڑا ہے کہ انہیں حق خودارادیت کا حق ملے۔انہوں نے کہا کہ انشاء اللہ وہ وقت دور نہیں ہے جب کشمیر ہندوستا ن کے غاصبانہ قبضے سے آزاد ہوگا کشمیریوں نے تو فیصلہ کرلیا ہے کہ ان کاجینا مرنا پاکستان کے ساتھ اور اسی طرح ہماری زندگی اورہمارا جینا مرنا بھی کشمیریوں کے ساتھ ہےاور اس ایک معاملے پر پوری قوم یکجا ہے اور ہمیشہ اکٹھی رہی ہے اور کسی قسم کا کوئی پروپیگنڈہ اور سازش کشمیر کے حوالے سے پاکستانی قوم خاص طورپر پاکستان پیپلزپارٹی کبھی کامیاب ہونے نہیں دے گی۔ میں ایک بار پھر شکر گزار ہوں خاص طورپر گورنر صاحب کا کہ انہوں نے نہ صرف ریلی میں شرکت کی بلکہ اس مارچ کی رہنمائی بھی کی۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ہم نے جو مثالی مارچ کیا ہے، یہ پوری دنیا کو ایک پیغام ہے کہ پورا پاکستان کشمیریوں کے ساتھ ہے۔ پاکستان کے تمام صوبوں کے ہر ایک شہر سے اور اسلام آباد سے کشمیریوں سے یکجہتی کا اظہارکیاجارہاہے۔ آج ہم نے صوبائی اسمبلی کا اجلاس بھی طلب کیا ہے اور کشمیر کے حوالے سے اس اجلاس میں ہم ایک قرار داد پاس کریں گے اور پوری دنیا کو باور کرائیں گے کہ پاکستان کی عوام کبھی بھی اپنے کشمیری بہن بھائیوں کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ آج یوم استحصالِ کشمیر ہے۔آج کشمیریوں کی شناخت پر حملے کو ایک سال مکمل ہوگیا جب ایک سال پہلے غاصب بھارت نے کشمیریوں کا تشخص چھینا اور ان کا جھنڈا اتارا ۔365 دن کا دنیا کا طویل ترین کرفیو بھی کشمیریوں کو جھکا نہ سکا اور کشمیریوں کے حوصلے بلند ہیں ۔انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کی آزادی کی صدا اور زیادہ بلند ہوگئی ہے۔ کشمیریوں کی پکار نے عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہےجبکہ بھارت کے حصے میں رسوائی کے سوا کچھ نہیں آیا ہے۔آزادی کی اس جدوجہد میں ہم کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور وہ دن دور نہیں جب جبر کی طویل رات ختم ہوگی اور آزادی کا سورج طلوع ہوگا ۔
قبل ازیں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر کشمیری عوام پر بھارتی مظالم کے خلاف ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کشمیر ی عوام کے ساتھ یکجہتی ریلی میں بھی شرکت کی اور اس موقع پر گورنر سندھ، صوبائی وزراء اور عوام کی بڑی تعداد موجود تھی۔
عبدالرشید چنا
میڈیا کنسلٹنٹ ، وزیراعلیٰ سندھ