آرمی پبلک سکول قتل عام: تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ میں کیا؟

پاکستان کی سپریم کورٹ میں سانحہ آرمی پبلک سکول پشاور کے کیس کی سماعت کے دوران جب قتل کیے گئے ایک بچے کی ماں نے اے پی ایس کمیشن کی تحقیقاتی رپورٹ کی کاپی فراہم کرنے کی استدعا کی تو جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ کمیشن رپورٹ رزادرانہ و حساس نوعیت (کنفیڈینشل) کی ہے۔ ایک مقتول بچے کی ماں نے کہا کہ کمیشن رپورٹ ہمارے بچوں سے زیادہ کانفیڈیشل تو نہیں۔

رپورٹ: جہانزیب عباسی

سپریم کورٹ میں چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے اے پی ایس قتل عام کیس کی سماعت کی۔ عدالت نے پشاور ہائی کورٹ کے جسٹس محمد ابراہیم کی سربراہی میں قائم کمیشن کی رپورٹ اٹارنی جنرل کو فراہم کرنے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے قرار دیا اٹارنی جنرل حکومت سے رپورٹ پر ہدایت لے کر عدالت کو جواب دیں۔

کیس کی سماعت کے دوران آرمی پبلک سکول پر حملے میں قتل کیے گئے بچوں کے والدین عدالت میں آبدیدہ ہوگئے۔ والدین نے چیف جسٹس سے کہا عدالت سے گزارش ہے کہ ہمیں انصاف چاہیے، جس کرسی پر آپ بیٹھے ہیں اللہ نے آپکو بہت عزت دی ہے۔چیف جسٹس نے کہا ہماری آپ سے بے حد ہمدردی ہے، جو آپ کے ساتھ ہوا ایسا ہرگز نہیں ہونا چاہے تھا۔

چیف جسٹس نے شہدا کے والدین سے پوچھا آپ عدالت سے کیا چاہتے ہیں۔شہدا کے والدین نے کہا ہمیں کمیشن رپورٹ کی کاپی چاہے۔جسٹس اعجاز الااحسن نے کہا کمیشن رپورٹ حساس ہے۔ شہید بچے کی والدہ نے کہا کمیشن رپورٹ ہمارے بچوں سے زیادہ حساس نہیں ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ”رپورٹ ابھی ہم نے نہیں پڑھی اور حکومت کا جواب آئے گا تو دیکھ لیں گے۔“

جسٹس اعجاز الااحسن نے کہا کہ چھ والیم پر مشتمل رپورٹ ہے پہلے عدالت دیکھے گی پھر بتائیں گے۔ چیف جسٹس نے کہا قانون اور آئین کے مطابق جو ہوگا وہی کریں گے، ہم نے کمیشن بنایا ہے ہے اسے پایہ تکمیل تک پہنچائیں گے۔

چیف جسٹس نے مزید کہا کہ ”یہاں قانون کی حکمرانی ہے، کوتاہی برتنے والوں کو قانون کے مطابق دیکھیں گے، ہم نے کسی بھی زمہ دار کو نہیں چھوڑنا ہے۔“

جسٹس اعجاز الااحسن نے کہا کہ جو رپورٹ آئی ہے اس پر فیصلہ عدالت نے ہی کرنا ہے۔

عدالت نے کیس کی سماعت چار ہفتوں کیلئے ملتوی کردی۔

کیس کی سماعت کے بعد شہید بچوں کے والدین نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا ٹاک کرتے ہوئے کہا ہماری بات پہلے بھی پوری طرح ٹی وی پر نہیں آتی۔

شہید بچے اسفند یار کی والدہ نے میڈیا ٹاک میں مزید کہا جب میڈیا ہماری بات آگے پہنچاتا ہی نہیں تو بات کرنے کا فائدہ نہیں، آج کیس کی سماعت میں عدالت نے اٹارنی جنرل کو نوٹس کر دیا ہے، ”ہمیں صرف اس کیس میں انصاف چاہیے، رپورٹ میں تین ہزار صفحات ہی نہیں ہونے چاہئیں، بڑی کوششوں اور منتوں سے یہ کمیشن بنا ہے۔“

شہید بچے زین اقبال کی والدہ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا اس سانحہ میں جو شہید ہوئے وہ سب ہمارے بچے اور آپس میں کولیگ تھے، آئین میں ہمارے حقوق کا تحفظ کیا گیا ہے، اتنے سال کے بعد بھی ہم انصاف سے محروم ہیں، ایک طرف بچے پر تشدد کرنے سے استاد کو سکول سے نکال دیا جاتا ہے،اگر بچے سکول میں شہید ہو جائیں تو ذمہ داران کو قانون کے سامنے لانا چاہیے،جو بچے شہید ہو گئے وہ واپس نہیں آئیں گے، حکومت سے اپیل ہے کہ ایسا قانون بنائیں جو سکول کے ذمہ دار لوگ ہیں وہ پکڑے جائیں،حکومت ایک کو پکڑے باقی سارا نظام ٹھیک ہو جائے گا۔

مقتول بچوں کے لواحقین نے مزید کہا کہ والدین کا سب سے زیادہ اعتماد سکول پر ہوتا ہے اس لیے ایسے واقعات کی تفتیش ضروری ہے، چیف جسٹس صاحب سے رپورٹ کی کاپی دینے کی استدعا کی ہے، یہ کوئی چھوٹی انکوائری نہیں ہے جو اس پر چھ سال اس پر لگ گئے، پاکستان میں کسی کو احساس نہیں کہ ایک سوپچاس گھرانے برباد ہو گئے ہیں، ہماری نسلیں برباد ہو گئی ہیں، انکوائری میں تاخیر اس لیے ہوئی کہ ہمارے بچے شاید انسان نہیں تھے، یہ حملہ ہمارے نظام تعلیم اور مستقبل پر حملہ ہے۔

شہید کی والدہ نے مزید کہا اگر کوئی ہمارے گھر میں داخل ہوا تو اس کا مطلب ہے دروازہ ہم نے اندر سے کھولا تھا،اگر ایک ہتھنی پر انکوائری ہو سکتی ہے تو ان بچوں کے قتل پر کیوں نہیں؟ہم سپریم کورٹ اس لیے آئے تھے کہ یہ سب سے بڑی کرسی تھی،ہمارے بچے لاوارث نہیں ہیں ہم اپنے بچوں کے خون کا جواب مانگیں گے۔

ایک شہید بچے کے والد نے گفتگو میں امریکی غلامی اور اعلیٰ عسکری قیادت کے بارے میں بات کرتے ہوئو سوال اٹھایا کہ احسان اللہ احسان کو کس نے فرار کروایا۔


Pakistan24.tv-report