لفظ کھسرا گالی کیوں ہے؟

مرد کوئی گالی نہیں نہ ہی اس میں کچھ گھٹیا ہے۔ عورت بھی کوئی گالی نہیں نہ ہی اس میں کچھ گھٹیا ہے پھر کھسرا کیوں گالی اور گھٹیا ہوا، ایسی کیا وجہ ہو سکتی ہے کہ کھسرا لفظ جو کہ ایک جنس کی نمائندگی کرتا ہے کیوں گالی بنا دیا گیا۔ کیوں اسے گھٹیا بنا دیا گیا۔

لفظ سے معانی کشید کرنا ایک جمالیاتی پہلو ہے۔ کھسرا لفظ سے جب معانی کشید کیا گیا تو کون سا پہلو مستعمل رہا ہو گا۔ میں اکثر جواب ہی دیتی ہوں سوال نہیں کرتی، آپ سب سے آج میرا سوال ہے کہ کھسرے کو اگر کھسرا کہا جائے تو اس کو معاشرے میں گالی یا گھٹیا کیوں سمجھا جاتا ہے۔

ہماری کمیونٹی میں کھسرا کہلائے جانا برا نہیں سمجھا جاتا، لیکن عام معاشرے میں اس سے بالکل الٹ ہے۔ کچھ لوگوں نے میری بات سے غلط تاثر لیا ہے۔

کھسرا؟

اکثر لوگوں کو یہ لفظ گھٹیا لگتا ہے لیکن ہماری کمیونٹی میں اس کی بڑی قدر ہے جب خواجہ سرا شعور کی منزل کو نہیں پہنچا ہوتا، اور اپنے ارد گرد صرف دو اجناس کو ہی دیکھتا ہے اور اپنا امتیازی تشخص کبھی عورتوں اور مردوں میں تلاش کرتا ہے تو وہ لوگ جو اس کی واضح جنس کو جانتے ہیں وہ اسے کھسرا، ہیجڑا بلاتے ہیں تو وہ اس کا احتجاج کرتا ہے اور اس لفظ سے چڑتا ہے۔ یعنی اسے سب سے پہلے اس کے گھر والے یا معاشرے کے لوگ بتاتے ہیں کہ وہ ایک کھسرا ہے پھر جوں جوں بڑا ہو جاتا ہے شعور کی آنکھ کھلتی ہے اور کچھ اپنے جیسے لوگ بھی مل جاتے ہیں اور وہ ان میں اپنائیت محسوس کرتا ہے۔ ان کا درد مشترک ہوتا ہے تو وہ یہ جان جاتا ہے کہ وہ باقی دو اجناس سے مختلف ہے اور اپنا ایک الگ تشخص رکھتا ہے۔

اب آپ جانتے ہیں کہ اگر ایک مرد کو عورت اور ایک عورت کو مرد کہا جائے تو عجیب لگے گا۔ اسی طرح ایک کھسرے کو ایک مرد یا عورت کہا جائے تو اسے بھی برا لگے گا۔ یہ تو تھا نفسیاتی اور معاشرتی پہلو، اب آگے چلتے ہیں جس طرح عورت صرف جسمانی اعضا کا نام نہیں یا مرد بھی اسی طرح صرف جسمانی اعضاء نہیں، اسی طرح کھسرا بھی کسی جسمانی عضو کا محتاج نہیں، کھسرا وہی ہو گا جو قواعد قوانین، اور روایت کو لے کر چلے گا۔

مثال کے طور پہ اگر کسی کھسرے نے کسی کا کچھ دینا ہو تو دوسرے کھسرے اسے کہیں گے کہ ”اگر تم کھسرے ہو تو اپنے قول پہ پورے اترو اگر تم پورے نہیں اترتے تو ہم تمہیں کھسرا تسلیم نہیں کرتے“ اب جس نے دینا ہو اسے یہ بات کھا جائے گی اور جو بھی دینا ہو گا وہ اسے جلد لوٹانے کی کوشش کرے گا تاکہ وہ کھسرا ہی رہے۔

اگر کسی کی تعریف کرنی ہو تب بھی کچھ اس طرح کہا جائے گا ”شاباش کھسروں والا کام کیا آج تمہیں ہم کھسرا تسلیم کرتے ہیں“ ۔

یعنی اس کا مطلب ہے کہ جس طرح ایک مرد کو مرد ہونے پہ اور ایک عورت کو عورت ہونے پہ فخر ہوتا ہے اسی طرح ایک کھسرے کو کھسرا ہونے پہ فخر ہوتا ہے۔ لہٰذا ہمارے لیے یہ لفظ گھٹیا نہیں، اور مجھے معلوم ہے کہ یہ ناکافی ہے لیکن اس سے کچھ نرمی پیدا ہو جائے گی۔

کافی سارے لوگوں نے میرے کھسرا لفظ استعمال کرنے پر سوالات اٹھائے تھے تو میں نے اپنے تئیں کوشش کی ہے کہ مطمئن کر سکوں۔

خواجہ سرا بڑے مہمان نواز ہوتے ہیں۔ بہترین پکوان، صاف ستھرے بستر، مضافاتی علاقہ ہے تو فضا بھی بہت صاف ستھری ہے۔ کھلا آسمان، اور پندرہ بیس بزرگ کھسرے پرانی تاریخ کی باتیں کر رہے ہیں۔ کتنے خوبصورت لوگ ہوتے ہیں ہم، مجھے دوبارہ زندگی ملے تو میں انہی لوگوں میں زندہ ہونا چاہوں گی۔
احقر خواجہ سرا۔
from-humsub-pages