حکومت عید الاضحی کے موقع پر آن لائن قربانی کا فراڈ کرنے والی کمپنیوں کے خلاف سخت کارروائی کرے

حکومت عید الاضحی کے موقع پر آن لائن قربانی کا فراڈ کرنے والی کمپنیوں کے خلاف سخت کارروائی کرے- صارفین آن لائن شاپنگ کرتے ہوئے کیش آن ڈلیوری کو ترجیح دیں – SECP تمام آن لائن کاروبار کرنے والی کمپنیوں کو رجسٹر کرے- ممکنہ فراڈ کو روکنے کے لئے قانون سازی وقت کی اہم ضرورت ہے- کوکب اقبال چیئرمین کنزیومر ایسوسی ایشن آف پاکستان
کراچی ( ) حکومت عید الاضحی کے موقع پر آن لائن قربانی کا فراڈ کرنے والی کمپنیوں کے خلاف سخت کارروائی کرے- کراچی کے ہزاروں شہری آن لائن قربانی سروس کمپنیوں کے ہاتھوں رل گئے جس میں میٹ ماسٹر، لال میٹ، اے وار وائی کیٹل فارم، بکرائیٹ، فریش ون اور دیگر کمپنیاں شامل ہیں -یہ بات صارفین کی نمائندہ تنظیم کنزیومر ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین کوکب اقبال نے کیپ کے دفتر میں میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہی- انہوں نے کہا کہ کرونا وائرس سے بچاؤ کی حکومتی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے ہزاروں لوگوں نے بکرا منڈی جانے کے بجائے مختلف آن لائن کمپنیوں کو قربانی کے آرڈر بک کئے تاکہ ان کو باآسانی قربانی کا گوشت میسر آسکے اور ان کی قربانی بروقت ہوجائے جس کے لئے انہوں نے مہینے پہلے اپنے آرڈر بک کرادئیے مگر جب عید کے دن صارفین نے ان کمپنیوں سے اپنے دئیے گئے آرڈر کے لئے رابطہ قائم کیا تو صارفین کو مختلف بہانے بنا کر کہا گیا کہ گوشت آپ کے گھر پہنچ جائے گا مگر عید کے تیسرے دن بھی صارفین کو گوشت کی فراہمی ممکن نہ ہوسکی اور کچھ لوگوں کو گوشت ملا بھی وہ گلاسڑا اور نہایت بدبودار جس پر لوگوں نے کمپنی کے آفس پہنچ کر احتجاج کیا تو یہ کہا گیا کہ جو کرنا ہے کرلو- کوکب اقبال نے کہا کہ عید الاضحی سے چند مہینے پہلے سے ہی مختلف ٹی وی چینلز اور سوشل میڈیا کے ذریعے آن لائن بکنگ کے اشتہارات سے صارفین کو راغب کیا- دوسری طرف وفاقی حکومت نے بھی کرونا وائرس سے احتیاط کے طور پر اجتماعی قربانی کو ترجیح دینے اور خصوصاً آن لائن قربانی کے لئے ہدایات جاری کیں جس کے نتیجے میں کراچی کے ہزاروں لوگوں نے آن لائن قربانی سروس مہیا کرنے والوں سے رابطہ کرکے آرڈر بک کرے- نتیجتاً انہیں مایوسی کے ساتھ آن لائن کا بہت خراب تجربہ ہوا اور جو تکالیف لوگوں کو ہورہی تھیں اس کو واٹس اپ، فیس بک اور دیگر سوشل میڈیا پر شیئر کیا جس سے معلوم ہوا کہ آن لائن قربانی سروس کمپنیوں نے نہ صرف اپنا اعتماد کھودیا بلکہ ہزاروں لوگوں کو مضر صحت گوشت کے ساتھ ساتھ سخت ذہنی کوفت بھی اٹھانا پڑی- کوکب اقبال نے کہا کہ پاکستان میں کرونا وائرس کی وجہ سے اکثر لوگ آن لائن شاپنگ کو ترجیح دیتے ہیں مگر کیونکہ کمپنیاں پہلے پیسے وصول کرلیتی ہیں اور جب صارف ڈلیوری وصول کرتا ہے تو اس کو جو چیز دکھائی جاتی ہے اس کے بجائے کچھ اور آئٹم جو کم قیمت اور ناقص معیار کا ہوتا ہے وہ ملتا ہے- اسلئے حکومت کو چاہئے کہ وہ آن لائن کاروبار کرنے والوں کو SECP میں رجسٹر کرے یا ان کے لئے کوئی علیحدہ محکمہ بنایا جائے تاکہ عام صارف کے ساتھ فراڈ کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی ممکن ہوسکے-
کوکب اقبال نے کہا کہ پورے سال آن لائن شاپنگ کے ذریعے صارفین کولوٹا جارہا ہے لہذا ضروری ہے کہ اب وقت کے تقاضے کو مدنظر رکھتے ہوئے اور آن لائن فراڈ سے بچنے کے لئے صارفین کیش ان ڈلیوری کو ترجیح دیں تاکہ ان کی رقم محفوظ رہے- انہوں نے کہا کہ حکومت فوری طور پر آن لائن قربانی کے ذریعے فراڈ کرنے والی کمپنیوں کے خلاف قانونی کارروائی کرے- اس سلسلے میں FIA کے ذریعے انکوائری رکوائی جائے تاکہ فراڈ کرنے والوں کا احتساب کیا جاسکے- کوکب اقبال نے صارفین سے اپیل کی کہ وہ آئندہ ایسی کسی بھی آن لائن قربانی سروس میں اعتماد نہ کریں جو کہ دھوکہ دہی میں ملوث ہوں – کوکب اقبال نے کہا کہ ملک میں آن لائن سروس مہیا کرنے والوں میں زیادہ تعداد فراڈیوں کی ہے جو کہ مختلف طریقوں سے صارفین کو پیسے بٹورنے کے نت نئے ہتھکنڈے استعمال کررہے ہیں –