بُزدل!

بُزدل!

دلیر خان گذشتہ چار برس سے ایک سرکس میں شیروں کے ٹرینر کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے تھے۔

ایک روز صبح ناشتہ کرتے ہوئے بیگم سےتکرار ہوگئی۔ دلیر خان کو غصہ آگیا اور وہ ناشتہ چھوڑ کر سرکس چلے گئے۔ بیگم بھی غصے میں آگ بگولہ تھیں۔ انہوں نے بھی شوہر کو روکا نہیں۔

شام کو اچانک دھواں دار بارش شروع ہوگئی۔ دلیر خان کا غصہ ابھی تک ٹھنڈا نہیں ہوا تھا۔ انہوں نے فیصلہ کیا آج رات گھر نہیں جاوں گا۔ چنانچہ وہ شیر کے ساتھ ہی پنجرے میں لیٹ گئے اور کمبل تان کے سو گئے۔

رات زیادہ گزر گئی تو گھر پر بیگم کو تشویش ہوئی۔ موبائل پر رابطہ کیا لیکن دلیر خان گہری نیند سو رہے تھے۔ فون سنا ہی نہیں۔ بیگم کی پریشانی عروج پر پہنچ گئی۔

بیگم نے کار نکالی اور خود ڈرائیو کرکے سرکس جا پہنچیں۔ دیکھا دلیر خان شیر کے پنجرے میں خرانٹے لے رہے ہیں۔ بیگم نے ایک چھڑی اٹھائی اور ڈرتے ڈرتے پنجرے کے قریب گئیں اور چھڑی اپنے شوہر کو چبھوتے ہوئے بولیں۔ ” ڈرپوک، بزدل کہیں کے، یہاں چھپے بیٹھے ہو ؟؟

اصغر علی ( اسپین )