یوٹرن الیون … شیخ جی کے قلم سے

اردو میں یوٹرن کے لغوی معنی ہیں اپنی بات سے مکر جانا (Backtracking) یا جان بوجھ کر ذہن تبدیل کرنا (Reversal of mind) گو کہ شرفا کے ہاں اس کے معنی ڈوب کر مر جانے کے ہیں یا کہیں منہ نہ دکھانے کے ہیں. مگر شومئی قسمت اب ہمارے حکمران اسے وقت ضرورت کہے سے مکر جانا یا پھر ڈھٹائی سے انکار کر دینا قرار دیتے ہیں اور اب یہ ایک فیشن بن گیا ہے اور حکومت نے اس کام کیلئے پوری ٹیم تیار کر لی ہے جسے عرف عام میں یوٹرن الیون کہا جاتا ہے. اس میں ایک غیر جماعتی کھلاڑی کو بھی شامل کیا گیا ہے اور کئی متبادل کھلاڑی بھی ہیں. اس ٹیم کے کپتان عالمی شہرت یافتہ یوٹرن خان ہیں اور یہ مندرجہ ذیل عظیم کھلاڑیوں پر مشتمل ہے. اس ٹیم کے اوپنر مختلف ٹیموں کی نمائندگی کرکے عالمی شہرت حاصل کرنے والے ڈبو خان ہیں اور ان کے ساتھ غیر جماعتی کھلاڑی انجن خان اننگز کا آغاز کرتے ہیں. ون ڈاؤن کی پوزیشن پر آتے ہیں شوقین خان جو ٹیم کی مرادیں پوری کرنے کی کوشش کریں گے. چوتھے نمبر پر افلاطون خان ہیں جو خیالی رنز کا انبار لگائیں گے. ان کے بعد کریز پر آئیں گے چھوڑو خان جو ہر وقت پیڈ باندھے پھرتے ہیں اور جس گراؤنڈ میں ضرورت نہیں ہوتی وہاں بھی پہنچ جاتے ہیں. چھٹے نمبر پر بڑک خان آئیں گے جو ٹیم کے داخلی مسائل کو ہوا دینے میں ہراول دستے کا کام کریں گے. ساتویں نمبر پر وکٹ کیپر بیٹسمین دربار خان ہونگے جو دم دعا سے ٹیم کا مورال بڑھانے کی کوشش کریں گے. گیند کرانے والوں میں مالم خان اور نیب خان بالنگ کا آغاز کریں گے اور اپنی نپی تلی نوبال اور وائیڈ بال سے مخالف بیٹسمینوں کو گرمائیں گے جبکہ نصاب خان اور پارلیمان خان اپنی اسپن بولنگ کا جادو جگائیں گے اور مخالف کھلاڑیوں کو چوکے چھکے مارنے سے روکنے کی کوشش کریں گے. اس کے علاوہ متبادل کھلاڑی بھی ٹیم میں شامل ہیں جن میں جہاز خان، سازش خان، فراڈ خان اور سچا خان قابل ذکر ہیں. مگر ان میں سب سے اہم کھلاڑی میچ فکسنگ اور جوئے کے الزام میں نااہل قرار دیئے جانے والے کھلاڑی ہیں ہیلی کاپٹر خان جن کی مشاورت سے یوٹرن تشکیل دئیے جاتے ہیں. ٹیم کے کپتان کا کمال یہ ہے کہ یہ پہلے مخالفین کو گالیاں دیتے ہیں جواب میں انکی گالیاں بھی کھاتے ہیں اور پھر یوٹرن لیکر انکو ساتھ ملا لیتے ہیں. آن کے چند معروف یوٹرن میں انجن خان کو گالیاں دیں، گالیاں سنی اور پھر ساتھ ملا لیا؛ اینکر خان کو گالیاں دیں، گالیاں سنیں اور پھر ساتھ ملا لیا؛ سابق وزیراعظم سے زمین لی، چندہ لیا اور اب اس کی مخالفت میں زمین آسمان ایک کر دیا؛ ایک سابق چیف جسٹس کو امید کی کرن کہا پھر گالیاں دیں؛ ایک سابق جج کو پارٹی میں عزت دی پھر ہیلی کاپٹر خان اور مالم خان کی بدعنوانیاں سامنے لانے پر ذلیل و خوار کیا بلکہ پارٹی سے بھی نکال باہر کیا؛ ایک سابق پستہ قد چیف جسٹس کے ایما پر الیکشن لڑا اور ہارنے کے بعد اس کو رسوا کیا؛ ایک سابق آمر کو استصواب میں ووٹ دیا مگر وزارت نہ ملنے پر گالیوں سے نوازا؛ ایک سابق صدر کو چور ڈاکو بھی کہا مگر اپنے مفاد میں اسکی پارٹی کو ووٹ دیا؛ اپنی ایک سابقہ بیوی کو قوم یوتھ کی ماں کہا پھر اسی قوم سے اسکی عزت کا جنازہ نکلوا دیا؛ ایک سردار کو فون کر کے بڑے صوبے کا وزیراعلیٰ بنوایا اور اگلے دن اسکو ذلیل کر کے نکلوادیا؛ اپنی ایک اور سابقہ بیوی سے بیٹی پیدا کرنا اور پھر اسے بیٹی کہنے سے مکر جانا؛ ایک خاتون رکن اسمبلی کو گندے میسج کر نا پھر قوم یوتھ سے اسے گالیاں دلوانا؛ عالمی مالیاتی فنڈ سے قرضہ لینے سے بہتر خودکشی کر لینے کا دعویٰ کرنا اور خود کشی نہ کرکے قوم کو مایوس کرنا؛ مہنگائی کو ناسور قرار دینا اور اس وقت کے حاکم کو چور اور خائن قرار دینا اور اپنے پر وقت آنے پر مکر جانا؛ دوسروں کے دور میں پیڑول، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کو عوام دشمن قرار دینا اور اپنی باری پر عوام کو صبر کی گولی دینا جبکہ پہلے کہنا کہ جب قرضے بڑھ جائیں، ڈالر، بجلی، گیس مہنگی ہو جائے تو سمجھ لو کہ وزیراعظم چور ہے کہ نعرے وغیرہ تو یوٹرن کی صرف چند مثالیں ہیں. موجودہ حکومت کے یوٹرن کی ایک طویل فہرست ہے بقول شاعر کہاں تک سنو گے کہاں تک سنائیں مگر بدقسمتی سے یوٹرن الیون اور قوم یوتھ ان تمام یوٹرن کے دفاع میں سینہ سپر نظر آتی ہے. ایک مزاح نگار نے کیا خوب کہا ہے کہ اگر علامہ اقبال کو پتا ہوتا کہ یوٹرن خان بھی وزیراعظم بنے گا تو یقین جانے وہ پاکستان کا خواب دیکھنے والی رات جاگ کر گزارتے.(کسی بھی قسم کے کردار کی مماثلت محض اتفاقیہ تصور کی جائے اور راقم کو اس کا ذمہ دار نہ سمجھا جائے).