ملک بھر میں اخباری اداروں اور ان کے پرنٹنگ ہاؤسز میں بغیر اطلاع اور پیشگی اجازت چھاپہ مار کاروائیوں پر شدید تشویش کا اظہار

کراچی ( ) کونسل آف پاکستان نیوزپیپر ایڈیٹرز (سی پی این ای) کے عہدیداروں کے اجلاس میں اس امر پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے کہ وفاقی وزارت اطلاعات کا عملہ نامعلوم اشخاص کے ہمراہ ملک بھر میں اخباری اداروں اور ان کے پرنٹنگ ہاؤسز میں بغیر اطلاع اور پیشگی اجازت چھاپہ مار کاروائیوں کے انداز سے داخل ہو کر مختلف قسم کی بازپرس اور پوچھ گچھ کے ذریعے اخباری اداروں کے عملے کو ہراساں کر رہا ہے۔ وفاقی وزارت اطلاعات کو چاہئے کہ وہ مذکورہ سرگرمیوں کے ضمن میں سی پی این ای سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے اور اخباری اداروں میں پیشگی اطلاع اور اجازت کے بغیر داخلے سے اجتناب کرے کیونکہ اخباری اداروں پر دہشت گردوں کے کسی بھی ممکنہ حملوں سے بچاؤ کے لئے وفاقی وزارت اطلاعات اور سیکیورٹی ایجنسیوں کی ہدایات پر تمام میڈیا اداروں میں سیکیورٹی کے خصوصی انتظامات ہیں۔ اس سلسلے میں سی پی این ای کے صدر عارف نظامی کی زیر صدارت ویڈیو لنک کے ذریعے سی پی این ای کے عہدیداروں اور صوبائی کمیٹیوں کے چیئرمینوں کے منعقدہ ہنگامی اجلاس میں حالیہ صورتحال پر غور کیا گیا اور پرنٹ میڈیا کو درپیش دیگر مسائل اور حکومتی رویے پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ اجلاس میں کہا گیا کہ سی پی این ای نے وفاقی وزارت اطلاعات کی جانب سے حالیہ اقدامات پر پرنسپل انفارمیشن آفیسر سمیت اعلیٰ حکام کو اپنے خدشات سے پہلے ہی آگاہ کر چکی ہے کیونکہ کورونا وباء کی وجہ سے طویل لاک ڈاؤن کے دوران اخباری ادارے عملے کی انتہائی کم حاضری کے باوجود تمام صوبوں کے اخباری دفاتر اور پرنٹنگ ہاؤسز احتیاطی تدابیر پر عمل پیرا ہیں، ایسی صورت میں وفاقی وزارت اطلاعات کی جانب سے جانچ پڑتال کے نام پر بلا اجازت میڈیا اداروں میں اچانک داخل ہونا مناسب اقدام نہیں ہے۔ اجلاس میں مزید کہا گیا کہ کورونا کی وجہ سے پیدا شدہ موجودہ صورتحال سے مقامی اور علاقائی اخبارات کو جہاں شدید معاشی مسائل کا سامنا ہے وہاں پی آئی ڈی کے مختلف ریجنل دفاتر کی جانب سے اخباری اداروں کو غیر ضروری اور بے جا تنگ کرتے ہوئے پہلے سے جمع شدہ دستاویزات کی دوبارہ طلبی کے لئے خطوط لکھے جا رہے ہیں جس کا سدباب انتہائی ضروری ہے۔ اجلاس میں حکومت پر زور دیا گیا کہ اخباری ادارے بشمول مقامی اخبارات کے تعاون سے آڈٹ بیورو آف سرکولیشن اور اشتہارات کا ایک ایسا شفاف نظام تشکیل دیا جائے جس سے سرکاری اشتہارات کی تقسیم کو منصفانہ، ہمہ گیر اور شفاف بنایا جائے نیز عوامی خزانے سے جاری کئے گئے اشتہارات میں مقامی اور علاقائی اخبارات کو بھی ان کا خاطر خواہ حصہ دیا جائے جبکہ اخباری اداروں کو واجبات کی فوری ادائیگیاں بھی کی جائیں۔ اجلاس میں سی پی این ای کے صدر عارف نظامی، سیکریٹری جنرل ڈاکٹر جبار خٹک، سابق سیکریٹری جنرل اعجازالحق، نائب صدور سردار خان نیازی، ارشاد احمد عارف، ڈاکٹر حافظ ثناء اللہ خان، ڈپٹی سیکریٹری جنرل عامر محمود، فنانس سیکریٹری حامد حسین عابدی، سیکریٹری اطلاعات عبدالرحمان منگریو، سندھ کمیٹی کے چیئرمین غلام نبی چانڈیو، پنجاب کمیٹی کے چیئرمین محمد حیدر امین، ڈپٹی چیئرمین ایاز خان، خیبرپختونخوا کمیٹی کے چیئرمین طاہر فاروق اور بلوچستان کمیٹی کے ڈپٹی چیئرمین عارف بلوچ نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔

جاری کردہ: کونسل آف پاکستان نیوزپیپر ایڈیٹرز۔