شجرہ نصب براہوئی بلوچ، یہ شجرہ نصب خان آف قلات کے پاس ہے انکے محل میں لگا ہوا ہے۔

شجرہ نصب براہوئی بلوچ، یہ شجرہ نصب خان آف قلات کے پاس ہے انکے محل میں لگا ہوا ہے۔ جس طرح رند، لاشار، کورائی، ہوت، جتوئی ان بلوچ قبائل اور ان قبائل کے سب قبائل یا زیلی شاخوں کے جد امجد امیر جلال خان بلوچ ہیں اسی طرح امیر میرو اول بلوچ، براہوئی (نوٹ براہوئی بلوچوں نے جو زبان اپنائی دراویڈین وہ براہوئی کے نام سے مشہور ہوئی جس طرح موجودہ بلوچوں کی زبان بلوچی سے مشہور ہوئی) بولنے والے بلوچ قبائل کے جد امجد ہیں۔ اسی طرح ناروئی بلوچ قبائل اور انکے سب قبائل کے جد امجد امیر ناران بلوچ ہیں۔ اور نواب اکبر خان بگٹی نے اپنے ایک انٹرویو میں واضح کیا تھا کہ امیر جلال خان بلوچ 44 بلوچ قبائل کے سردار تھے لیکن تمام بلوچ قبائل کے نہیں۔ اور بلوچ تاریخ میں بھی بلوچ قوم تین گروہ یعنی 3 بلوچ سرداروں کی سربراہی میں بلوچستان آئی ایک امیر ناران بلوچ جو ناروئی سے مشہور ہوئے امیر میرو اول کیکانی براخوئی بلوچ جو میروانی اور براہوئی سے مشہور ہوئے۔ اور امیر جلال خان بلوچ جو رند و لاشار سے مشہور ہوئے۔ چونکہ سب سے بڑا بلوچ لشکر امیر جلال خان کے پاس تھا اور 44 بلوچ قبائل اس وقت امیر جلال خان کے جھنڈے تلے تھے تو تاریخ دانوں نے زیادہ تر بلوچ تاریخ انکے حوالے سے لکھی حالانکہ کہ تینوں بلوچ امیروں اور لشکر کا بلوچ تاریخ بلوچ زمین بلوچ ننگ و ناموس بلوچ بہادری، غیرت اور جرآت میں برابر ہیں۔ جس طرح 15 صدی میں رند و لاشار الگ الگ ہوئے اسی طرح 3 بلوچ لشکر الگ الگ بلوچستان پر وارد ہوئے۔

یہ شجرہ نصب اور تحریر جو تصاویروں میں ہے۔ خان آف قلات کا دیا ہوا ہے۔

نوٹ: سلیمانی، رخشانی ،مکرانی، کھیترانی، دہواری، براہوئی، لاسی، جدگالی، سرائیکی ڈیرہ والی یہ سب ہماری بعد میں پہچان بنے اصل میں ہم سب کی پہچان صرف بلوچ ہے۔ ہم بلوچوں کو ہی علاقوں اور زبانوں کی وجہ سے اس طرح پہچانا جاتا ہے۔ مطلب مکران کے بلوچ مکرانی کہلائے اور انکی بلوچی زبان کو مکرانی نام دیا گیا مکرانی لہجہ۔ کوہ سلیمان کے پہاڑوں میں آباد بلوچ سلیمانی کہلائے انکی بلوچی کو سلیمانی لہجہ کہا گیا، کھیتران بلوچوں کو کھیترانی اور انکی بلوچی زبان کو کھیترانی اسی طرح براہوئی بلوچوں کی زبان کو براہوئی نام دیا گیا۔۔ اور لاسی جدگالی دہواری اور سرائیکی بولنے والے بلوچ ان زبانوں سے مشہور ہوئے۔

بلوچ نسلن کرد ہیں ۔ کرد قبائل کو بلوچ لقب ساسانیوں نے دیا۔ پچلے 3000ہزار سال سے ہماری پہچان صرف بلوچ، اور بلوچستان ہے۔ باقی کچھ نہیں کیونکہ زبانوں میں ہمیشہ دوسری قومیں وقت کے ساتھ ضم ہوجاتی ہیں۔ جس طرح بلوچوں میں افریقن نسل کے لوگ اور انڈین مرہٹہ آج ضم ہیں جو اصل میں بلوچوں کے کیساتھ کینیا اور انڈیا میں جنگ کے دوران شکست تسلیم کرلی تھی اور بلوچوں نے انہیں اپنے ساتھ بلوچستان لے آئے تھے۔
آج افریقن نسل کے شیدی خالص بلوچی بولتے ہیں مکرانی نام سے مشہور ہیں کیونکہ انکو کینیا سے مکران لایا گیا تھا پھر یہ لوگ لیاری آباد ہوئے دوسرے بلوچ قبائل کے ساتھ لیکن آج مکرانی کے حوالے سے یہ سب سے زیادہ مشہور ہیں حقیقت میں مکران ایک علاقہ ہے جو بلوچوں کا مسکن چلا آرہا ہے مکران کا بلوچ مکرانی کہلایا انکی کڑک بلوچی زبان مکرانی لہجہ کہلائے لیکن آج ان دونوں کے مالک افریقن شیدی زیادہ بن گئے مکران کی پہچان اب انہی کے چہرے سے ہوتی ہے۔ اسی طرح ہر بلوچ لہجے زبانوں میں کچھ اس طرح کے دوسرے لوگ بھی ضم ہیں جو 1 سے 10% کے حساب سے ہیں باقی 90% بلوچ خالص ہیں۔ اسلئے ہمیں زبانوں اور قبائیلوں کی حساب سے خود کو تقسیم نہیں کرنا چاہیے صرف بلوچ اور بلوچستان کا سوچیں اور اپنی قوم کے اتحاد تعمیر و ترقی کا سوچیں اور شیدی مرہٹہ ان جیسے جتنے بھی غیر بلوچ جو آج بلوچ میں ضم ہیں وہ سب اب ہماری قوم کا حصہ ہیں اور رہیں گے وہ بھی اب بلوچ ہیں صرف مثال کے طور پر یہ باتیں تحریر کی۔ ورنہ میری نظر میں اب سب ایک ہیں۔ کوئی نہیں اب سردار، عام یا غلام اب سب ابن بلوچ ابن بلوچ۔

تمام بلوچ اپنے نام کے سامنے بلوچ کا اضافہ کریں اپنے سرکاری دستاویزات پر بھی بلوچ نام لگائیں اپنے بچوں کے نام کے آگے۔ کیونکہ قبائل ہماری صرف بلوچ علاقائی پہچان ہے لیکن بلوچ ہماری قومی اور انٹرنیشل پہچان ہے۔

(بسم اللہ کردبلوچ)

شکریہ