صحافیوں کی مدد کے لئے ویلفیئر فنڈ قائم کرنا وقت کی ضرورت ہے۔

تحریر: سہیل دانش

صحافیوں کی مدد کے لئے ویلفیئر فنڈ قائم کرنا وقت کی ضرورت ہے۔
تحریر: سہیل دانش
آج میری سمجھ میں آ گیا تھا کہ کوئی شخص اپنی غربت اپنی محرومیوں، اپنی ناکامی، اپنی بے روزگاری، اپنی حوصلے کی کمی کا، تدبیر اور محنت سے مقابلہ کرنے کے بجائے، جل مرنے، چھلانگ لگا دینے اور زہر پی لینے کے منصوبے کیوں بناتا ہے۔ کرونا کے سبب لاک ڈاؤن کے دور میں مجھے متعدد اپنے ہم پیشہ ایسے دوستوں سے ملاقات کا موقع ملا جو بے روزگاری کے عذاب میں مایوسی کے سمندر میں غوطے کھا رہے ہیں۔ سچ پوچھیں تو ان کی باتوں سے ان کی بے بسی صاف نظر آ رہی تھی۔ایسا لگ رہا تھا کہ انکے آنسوؤں کے جذبات و احساسات اب چھلک پڑنے کو ہیں۔ میں سوچ رہا تھا کہ کاش انکی یہ دکھ بھری حقیقت، کوئی درد بھری کہانی ہوتی۔ ان کے گھر کی بھوک کوئی کردار ہوتی، بچوں کی بیماری خیالی ہوتی یا پھر یہ سب کوئی افسانہ ہوتا۔ ان کے گھروں کی بے چینی، بے کلی اور اضطراب کوئی تخیل ہوتا لیکن نہ تو یہ بھوک اور تنگدستی افسانوی ہے اور نہ ہی سفید پوشی کا یہ بھرم ایک ڈرامہ ہے۔ خاندانی شرافت کسی شخص کے آگے ہاتھ پھیلانے کی اجازت نہیں دیتی۔ مجھے ان سب دوستوں کے حوصلے ٹوٹتے نظر آئے،کسی کے والدین کی دوائیوں کا مسئلہ تھا، کسی کے بچے اسکولوں کی فیس ادا نہ کرنے کے سبب اپنا نام کٹوا بیٹھے تھے۔
صرف ایک کیمرہ مین کا مسئلہ ہی ایسا تھا کہ مجھ سے رہا نہ گیا۔ اس کی بچی سیکنڈ ائیر میڈیکل کی طالبہ ہے وہ کینسر کے موذی مرض میں مبتلاء ہے اور اس کے علاج کے لئے پیسے بھی نہیں تھے۔ اسے دیکھ کر مجھے احساس ہوا جیسے افلاس نے اس کی رگوں کا لہو چوس لیا ہے۔ غربت اس کا حوصلہ چاٹتی رہی ہے،فاقے اس کی برداشت کی بنیادیں ہلاتے رہے ہیں۔ محرومی اس کی آنکھوں کی چمک اور بیٹی کی بیماری نے اسکے لہجے کی شوخی چرا لی ہے۔ میں نے اسے تسلی دی کہ وہ مجھے صرف کل تک کا وقت دے، میں اس کی بیٹی کی بیماری کے لئے ادویات کا بھی بندوبست کروا دونگااور اس کے اخراجات کے لئے بھی کوئی راستہ تلاش کر لونگا۔ مجھے معلوم تھا کہ سیلانی ویلفئیر کے حضرت مولانا بشیر فاروقی، عالمگیر ویلفئیر کے شکیل دہلوی صاحب اور ایدھی ٹرسٹ وغیرہ ایسے کئی ویلفیئر اداروں کے روح رواں میری کسی درخواست کو رد نہیں کرینگے۔ مجھے شہر میں اپنے کئی ایسے صاحب ثروت دوستوں کا خیال آیاجو عموماً میری گزارشات پر ضرورتمند وں کے کام آتے رہے ہیں۔
میں نے سوچا کہ برادرم سہیل وڑائچ سے درخواست کرکے روزنامہ جنگ میں ایک تاثیر انگیز دردمندانہ کالم لکھ ڈالوں کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ قدرت بعض اوقات بے جان الفاظ میں بھی اتنی تاثیر اور حدت پیدا کر دیتی ہے کہ لوگوں کے دل پگھل جاتے ہیں اور ذہن آمادہ ہو جاتے ہیں۔ میرا یہ طریقہ کار بے بس اور مجبور لوگوں کی مدد کے لئے ہمیشہ کارگر رہا ہے کیونکہ میرا ایمان ہے کہ نیک نیتی سے بڑی کوئی طاقت نہیں ہوتی لیکن میرے پاس صرف چوبیس گھنٹے تھے۔ میں نے اپنے ساتھی کیمرہ مین کو یقین جتنا امید کا سہارا دے دیا تھا،پھر میرے ذہن میں ایک نام آیا کیونکہ یہ ایمر جنسی کا معاملہ تھا۔ میں نے بسم اللہ پڑھی اور اس عظیم شخص کا نمبر ملا دیا۔ ا س شخص نے فون اٹھایا میں نے صورت حال بیان کی تو آبدیدہ ہو گئے اور مدد کے لئے حامی بھر لی مگر پہلی شرط یہ رکھ دی کہ میرا نام کہیں ظاہر نہیں کروگے۔ انہوں نے صرف یہی کہا کہ اس کا اکاؤنٹ نمبر بھجوا دو یا گھر کا ایڈریس۔ میرا بندہ خود جا کر رقم پہنچا آئے گا اور اسکے مسائل حل ہو جائینگے۔یقین جانیں میرے لئے یہ انتہائی طمانیت اور سکون کی بات تھی اور میرا دل کہہ رہا تھا کہ ایسے ہی لوگوں کو اس زمین پر ہمیشہ زندہ رہنے کا حق ہے جو اس کی مخلوق پر زندگی کا سفر آسان کرتے ہیں۔ میں نے کیمرہ مین کو فون کرکے ان کا ایڈریس حاصل کیا اور اس سے کہا مجھے یقین ہے کہ یہ غیبی مدد تمہارے لئے رزق کے دروازے پر پڑے قفل کے لئے چابی ثابت ہو گی اور میرا رب تم پر کشادگی کے تمام دروازے کھول دے گا۔
اس ایک جیتا جاگتا واقعہ لکھنے کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ موجودہ صورت حال میں ایسے درجنوں نہیں سینکڑوں ہمارے ہم پیشہ صحافیوں اور ساتھیوں کو ایسی ہی گھمبیرصورت حال کا سامنا ہے۔ متعدد اداروں میں بے شمار صحافیوں کو ملازمتوں سے فارغ کر دیا گیا ہے۔ صحافت کے شعبے میں ایک بحران آ گیا ہے جسکی وجہ سے چاروں طرف مایوسی اور دل گرفتگی نظر آ تی ہے۔ ایسی صورت حال میں ہم صحافیوں کو سوچنے کی ضرورت ہے کہ ہم اپنے ہم پیشہ تمام دوستوں اور ساتھیوں کی کس طرح مدد کر سکتے ہیں۔ ہم صبح سے رات تک ٹیلی ویژن چینلوں پر بیٹھ کر دنیا بھر کے مسائل اور معاملات پر نئے زایوں سے گفتگو کرتے ہیں۔ اخبارات اور رسائل میں حکمرانوں سے لیکر اداروں کی کارکردگی کا پورسٹ مارٹم کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ملک کے غربت کو کم کرنے، معاشی صورتحال کو بہتر بنانے اور ترقی و خوشحالی کے لئے نئی نئی ترکیبیں بتاتے ہیں۔ایمانداری، خلوص نیت اور عزم و حوصلے کی نئی نئی داستانیں سناتے ہیں۔ پالیسی سازوں اور حکمرانوں سے ایسے ایسے سوالات کر ڈالتے ہیں کہ انہیں ائیر کنڈیشن اسٹوڈیوز میں بھی پسینے آ جاتے ہیں۔ اپنے کالموں میں دنیا بھر کے تمام مسائل کا کھوج بھی لگاتے ہیں اور بڑی دانش مندی سے ان کا حل بتاتے ہیں۔ دور اندیشی کا یہ عالم ہے کہ مستقبل کے پوشیدہ امکانات سے پردہ بھی اٹھا دیتے ہیں۔ نیکی، شرافت، ایمانداری، خلوص نیت، باہمی محبت اور اخوت ان تحریروں اور گفتگو کا بنیادی نقطہ ہوتا ہے۔ ہم میں سے متعدد اینکرز اور قلمکار اپنے اپنے اداروں سے پر کشش معاوضہ بھی لیتے ہیں۔ ہم میں سے بعض پر خدا کی کرم نوازی بھی ہے۔ مالی طور پر ہم میں سے بعض اتنی استطاعت ضرور رکھتے ہیں کہ اگر ہم بہت ذیادہ نہیں تو کچھ نہ کچھ ضرور کر سکتے ہیں۔
ہم اس ملک کے سارے محروم لوگوں اور ان کے بچوں کے لئے شاید کچھ کرنے کی پوزیشن میں نہ ہوں لیکن اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ ہم اپنی اسطاعت کے مطابق اپنے ”ہم پیشہ افراد“ کے لئے اور انکے بچوں کے مستقبل لئے کچھ نہیں کر سکتے۔ مجھ سمیت ہم میں سے بہت سے صحافی دوست ہفتے میں ایک بار ریسٹورنٹ میں اپنے بچوں کے ساتھ کھانا کھاتے ہیں،اگر ہم یہ کھانا نہ کھائیں تو کیا مر جائیں گے؟ ہم ہر مہینے بچوں کے لئے شاپنگ کرتے ہیں اور آؤٹنگ پر جانا بھی ہمارے معمولات میں شامل ہوتا ہے اگر یہ سب کچھ اور ذیادہ اعتدال سے کریں تو کیا ہماری زندگی ختم ہو جائے گی؟ ہر روز کولڈ ڈرنک اور آئسکریم سے بچوں کی تواضع کرتے ہیں اگر نہ کریں تو کیا قیامت آ جائے گی؟ ان فضول اخراجات کو بچا کر ہم ان پیسوں سے جرنلسٹ کا ایک فنڈ تشکیل دے سکتے ہیں اوریہ پیسے ان کی ویلفیئرکے لئے جمع کر سکتے ہیں۔
میں یقین سے کہتا ہوں کہ ایسی بیسویں چیزیں اور سامنے آئیں گی جنہیں ہم ترک کر دیں تو ہمارا لائف اسٹائل متاثر نہیں ہو گا۔ ہم میں سے متعدد جرنلسٹ ایسے ہیں کہ جو جب چاہیں صدر اور وزیر اعظم کو فون کر سکتے ہیں۔ چیف منسٹر سے میٹنگ کرسکتے ہیں اور وزراء اور بیورو کریسی کے اعلیٰ ترین آفیسران سے تعاون حاصل کر سکتے ہیں۔ شہر کے صنعتکار وں، متمول اور صاحب ثروت حضرات سے اس فنڈ کے لئے رقم جمع کر سکتے ہیں۔ مسئلہ صرف ارادے کی پختگی، عزم اور نیک نیتی کا ہے۔ ہم ویلفیئر اداروں کو بھی با آسانی، با قاعدہ اور با ضاطہ اپنے پینل میں شامل کر سکتے ہیں۔ ہم اس نیک کام کا آغاز کراچی سے کر سکتے ہیں۔ ہم ہسپتالوں کو اپنے پینل میں شامل کر سکتے ہیں جس کے تحت انہیں ہماری برادری کے تمام صحافیوں کو بمع اہل و عیال علاج معالجہ نسبتاً کم خرچ پر پابند کیا جا سکتا ہے۔ممکن ہے آپ میں سے بعض لوگ اس نیک مقصد کو دیوانے کا محض ایک خواب سمجھیں لیکن مجھے اس لئے یہ ٹارگٹ بہت آسان لگتا ہے کہ جب میرے جیسے غیر معروف صحافی کے ٹیلی فون پر کسی کیمرہ مین کو دو لاکھ روپے مل سکتے ہیں تو پھر میرا یہ کالم پڑھ کر بہت سے لوگ اس کار خیر میں شامل ہو سکتے ہیں۔
میرا یہ کالم شائع ہونے کے بعد دو چار گھنٹے میں مجھے درجنوں فون آ گئے۔ ان میں گھریلو خواتین، چھوٹے بچے، چھوٹے موٹے دکاندار، سرکاری ملازمین، چند سماجی کارکن اور دو چار بینکار بھی تھے لیکن ابھی میں یہ طے نہیں کر پایا تھا کہ کس کس کو اس ضرورتمند کا ایڈریس بھیجوں۔ پھر ایک ایسا ٹیلی فون آ گیا جس نے آپریشن کے تمام اخراجات برداشت کرنے پر رضامند ی ظاہر کر دی اور درجنوں نہیں سینکڑوں ضرورتمند وں کو شہر کے بہترین ہسپتالوں میں ویلفیئر دلوا دی۔ صحافیوں کی فلاح و بہبود کا یہ کام اتنا مشکل نہیں، صرف عمران خان جیسا عزم، ڈاکٹر یونس جیسی تدبیر، ایدھی جیس خدا ترسی اور مولانا بشیر فاروقی جیسا اعتماد اور ایمانداری چاہیئے اور مجھے پورا یقین ہے کہ ہماری صفوں میں ایسے اسٹارز بھی موجود ہیں، جنہیں پورا پاکستان جانتا ہے۔ ایسے صحافی بھی ہیں کہ جن کی ایمانداری اور دیانتداری مسلمہ ہے۔ بس صرف ارادے کی ضرورت ہے۔ تنظیمی صف بندی کے لئے کسی کو آگے بڑھنا ہو گا۔ ہمیں ایک دوسرے کا ہاتھ تھامنا ہو گا۔ اپنی ذات کی قید سے آزاد ہو ناہوگا۔ بے غرض خدمت کا جذبہ پیدا کرنا ہو گا۔ میرا یقین ہے کہ ہم کسی بھی شعبے سے ذیادہ موثر انداز میں اپنی مدد آپ کا اصول اپنا سکتے ہیں۔ پھر آپکو خود زمین سے آسمان سے نازل ہونے والے انعامات و کرامات دکھائی دینے لگیں گی۔