معروف افسانہ نگار سلطان جمیل نسیم بھی دار فانی سے رخصت ہوگئے


کراچی ( نمائندہ خصوصی)
حضرت صبا اکبر آبادی کے بڑے فرزند، معروف شاعر و سابق ڈائریکٹر پی ٹی وی نیشنل وجہ ایم پی ٹی وی کراچی تاجدار عادل کے بڑے بھائی عالمی شہرت یافتہ افسانہ نگار سلطان جمیل نسیم گزشتہ روز انتقال کر گئے تفصیلات کے مطابق معروف شاعر و مرثیہ نگار صبا اکبر آبادی کے بڑے فرزند سلطان جمیل نسیم جن کا نام عالمی ادبی حلقوں میں کسی تعارف کا محتاج نہیں گذشتہ روز انتقال کر گئے سلطان جمیل نسیم گزشتہ چھ عشروں سے پرورش لوح و قلم میں مصروف ہیں۔ نابغہ روزگار مرثیہ نگار،ممتاز دانشور حضرت صبا اکبر آبادی کے صاحبزادے ،پی ٹی وی کے سینئر ڈائریکٹر پروڈیوسر اور شاعر تاجدار عادل صاصب کے بڑے بھائی تھے سلطان صاحب نے بڑے زوروں سے اپنی صلاحیتوں ،تخلیقی کامرانیوں ،ادبی فعالیتوں اور افسانوں کو حقائق کے پیرائے میں بیان کرنے کے معجز نما اسلوب اور زبان و بیان پر اپنی خلاقانہ دسترس کا لوہا منوایا ہے۔ سلطان جمیل نسیم نے روشنی کے اس سفر کا آغاز ۱۹۵۳ میں کیا جب ان کا پہلا افسانہ شائع ہوا۔ اب تک ان کے اڑھائی سو سے زائد افسانے شائع ہو چکے ہیں۔ انھوں نے اپنے منفرد اسلوب کے اعجاز سے اردو کے نامور اور ممتاز افسانہ نگار کی حیثیت پوری دنیا میں شہرت حاصل کی۔ ان کے افسانوں کے تراجم دنیا کی بڑی زبانوں میں شائع ہو چکے ہیں
سلطان جمیل نسیم کا پہلا افسانوی مجموعہ ۱۹۸۵ میں شائع ہوا اس کا نام تھا
ان کا دوسرا افسانوی مجموعہ ’’سایہ سایہ دھوپ‘‘ ۱۹۸۹ میں منظر عام پر آیا۔ اس کے بعد ’’ایک شام کا قصہ‘‘ کے عنوان سے ان کا تیسرا افسانوی مجموعہ ۲۰۰۰ میں شائع ہوا۔ ’’میں آئینہ ہوں ‘‘ کے عنوان سے سلطان جمیل نسیم کے افسانوں کا چوتھا مجموعہ ۲۰۰۲ میں شائع ہوا۔
خیالات کی تونگری،عقل و خرد کی ثروت،فہم و ادراک کی وسعت اور تجربات و مشاہدات کا تنوع اور ندرت وہ لائق صد رشک و تحسین اوصاف ہیں جو سلطان جمیل نسیم کو عالمی شہرت کا حامل عصر حاضر کا نابغہ اور بے مثال افسانہ نگار ثابت کرتے ہیں

سلطان جمیل نسیم کا شمار عالمی شرت کے حامل مایہ ناز پاکستانی ادیبوں اور دانشوروں میں ہوتا ہے۔ انسانیت کے وقار اور سر بلندی کے لیے ان کی خدمات کا عدم اعتراف نہ صرف حقائق سے شپرانہ چشم پوشی کے مترادف ہو گا بلکہ اسے احسان فراموشی پر محمول کیا جائے گا۔ اردو ادب کا کوئی دیانت دار نقاد ان کے کمالات کا اعتراف کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ ان کے بارے میں اختر الایمان کا یہ شعر لکھتے ہوئے ایک گونہ طمانیت کا احساس ہوتا ہے کہ اس وقت اردو افسانے کا جو تخلیقی منظر نامہ ہے وہ افق ادب پر مثل آفتاب ضو فشاں ہیں ؛اختر الایمان کا یہ شعر سلطان جمیل نسیم کے اسلوب کے بارے میں بر محل ہے ؎

کون ستارے چھو سکتا ہے راہ میں سانس اکھڑ جاتی ہے