نظام انصاف سے شاقی لوگ

یادوں کے جھوکوں سے

عابد حسین قریشی

(14)

نظام انصاف سے شاقی لوگ

اپنی تعمیر اُٹھاتے تو کوئی بات بھی تھی
تم نے اک عمر گنوا دی میری مسماری میں

اپنی یاداشتوں کی گزشتہ قسط نمبر 13 “نظام انصاف کے نام” پڑھنے کے بعد دوست احباب خصوصاً نظام انصاف سے کسی نہ کسی طرح منسلک لوگوں کا ردّعمل دیکھ کر اور اُنکی طرف سے کئی اہم سوالات اُٹھانے پر اسی موضوع پر دوسری قسط لکھنے کی جسارت کر رہا ہوں۔ اس میں اُنکی طرف سے اٹھائے گئےنکات کا اپنی عقل و فہم اور عدالتی تجربات کی روشنی میں شافی جواب دینے کی کوشش کے ساتھ ساتھ درمیان میں کہیں کہیں اپنی یاداشتوں کا تڑکا لگانے کی سعی بھی شامل ہوگی۔ کئی احباب کی طرف سے بے حد حوصلہ افزائی کے ساتھ یہ تجسّس برقرار ہے کہ میں شاید کُھل کر نظام انصاف کی خرابیوں و خامیوں پر بوجوہ نہ لکھ رہا ہوں۔ مجھے حوصلہ دینے کے ساتھ ساتھ “ورغلایا” بھی جا رہا ہے۔ ابتداً ہی عرض کیے دیتا ہوں کہ میں اپنی جرات و دلیری کی حدود و قیود سے بھی آگاہ ہوں اور پھر جس نظام اور ادارہ سے تقریباً چار دہائیوں سے منسلک رہ کر بڑی عزت کمائی اور یہ ادارہ میری شناخت کا سبب بنا اُسکے خلاف ریٹائرمنٹ کے بعد کچھ لکھنا شاید اخلاقی طور پر بھی مناسب نہ ہے۔ بعض سوالات اتنے سنجیدہ اور حسّاس بھی ہیں کہ اُنہیں چھیڑنے سے واقعی عزت سادات کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ پھر یہ خیال بھی دماغ کے نہاں خانوں میں موجزن ہے کہ کیا میں سارا کچھ کہہ بھی سکتا ہوں۔ 1965 کی پاک بھارت جنگ کے دوران گجرانوالہ شہر کا ایک سچّا واقعہ بیان کرنا حسب حال ہو گا۔

ہوا یوں کہ اس جنگ کے دوران نماز جمعہ کے خطبہ میں خطیب صاحب پاک بھارت جنگ کو حق و باطل کا معرکہ قرار دیتے ہوئے جذباتی گفتگو فرما رہے تھے کہ نیچے سے کسی نوجوان نے شرارت کرتے ہوئے ایک چٹ پر ایک سوال لکھ کر قبلہ خطیب صاحب کی طرف روانہ کر دیا۔ سوال یہ تھا کہ آپ اس جنگ کو ایک مقدس جنگ کا نام دے رہے ہیں۔ مگر ایک اخباری خبر کے مطابق ایک “مخصوص بازار” کی عورتیں بھی زخمی فوجی جوانوں اور civilians کو خون دینے کے لیے ہسپتالوں کا رُخ کر رہی ہیں۔ خطیب صاحب نے فوری پینترا بدلا اور فرمایا لاحول ولا قوة یہ کوئی حق و باطل کا معرکہ نہ ہے۔ اُنکی شکایت ضلع کے ڈپٹی کمشنر کو ہو گئی۔ اُس زمانہ میں ڈپٹی کمشنر بڑے با اختیار ہوتے تھے۔ ڈی۔سی صاحب نے مولانا کو ڈیفنس رولز آف پاکستان میں پکڑوا دیا۔ رات کو علاقہ کے کچھ معززّین اکٹھے ہو کر ڈی۔سی صاحب کو ملے اور اُنکے آئیندہ کے قول و فعل کی ضمانت دے کر انہیں رہا کروایا۔ اتفاق سے اگلا جمعہ پھر جنگ کے دوران ہی آ گیا۔ خطیب صاحب پھر اُسی فلسفہ جنگ پر بول رہے تھے بلکہ زیادہ روانی سے بول رہے تھے۔ غالباً اسی نوجوان نے پھر شرارت کی اور چٹ پر یہ سوال لکھ کر بھیجا کہ مولانا یہ کیسا معرکہ ہے جس میں ملکہ ترنم نور جہاں اگلے مورچوں پر جاجا کر جنگی ترانے گا رہی ہیں تو مولانہ ایک دم جذباتی ہو گئے اور فرمایا کہ “خدا کے بندوں سارے اندر کروانے والے سوالات مجھی سے کرنے ہیں”

لہٰذا اپنی کم مائیگی، حدود و قیود اور معاملہ کی حساسیت کو مدّنظر رکھتے ہوئے کسی خاص حد تک ہی جا سکتا ہوں۔

بد قسمتی سے ایک انحطاط پذیر معاشرہ میں سچ لکھنا، سچ سُننا اور سچ برداشت کرنا سب سے مشکل کام ہے۔ نظام عدل میں کیا خامیاں ہیں۔ ہر کوئی اس سے آگاہ ہے۔ مگر صرف اُس حد تک سچ سُننا چاہتا ہے جو اُسے پسند آئے۔ یہی حال ہمارے معاشرہ کا ہے۔ یہاں اخلاقی اور انسانی اقدار اس بُری طرح مجروح ہو چکی ہیں کہ انصاف کا مفہوم صرف یہی رہ گیا ہے کہ جو میرے حق میں ہو وہی انصاف ہے۔ میں نے خود بے شمار لوگوں سے یہ بات سُنی کہ اُنکے ساتھ انصاف نہ ہوا ہے۔ کیونکہ اُن کا مقدمہ عدالت نے اُنکے خلاف فیصلہ کر دیا ہے۔ اس مائینڈ سیٹ اور سوچ میں ان پڑھ اور پڑھے لکھے کی کوئی تفریق نہ ہے۔ مثلاً لاہور میں ایک مدعی جو ہر عدالت کو تنگ کر رہا تھا اور تقریباً 14/15 ایڈیشنل ڈسٹرکٹ ججوں نے اُس مقدمہ کو سننے سے انکار کر دیا۔ وہ مدعی ہمارے پاس بطور ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج لاہور پیش ہوا۔ میں نے کہا کہ اب ایک ہی طریقہ ہے کہ اس مقدمہ کو میں خود فیصلہ کر دوں۔ کیا خوبصورت جواب آیا کہ سر اگر آپ نے میرے حق میں کرنا ہے تو اپنے پاس رکھ لیں۔ اب بتائیں یہاں انصاف کا کیا مفہوم ہے۔ کونسا انصاف اور کیسا انصاف اس طرح کے لوگوں اور ماحول میں ممکن ہے؟ لیکن اس کے باوجود ہماری عدالتیں یہ فریضہ بخوبی انجام دے رہی ہیں۔

یہاں معاملہ جو زیر بحث آ سکتا ہے وہ یہ ہے کہ تمام سٹیک ہولڈرز کو انصاف میں تاخیر گراں گزرتی ہے۔ یہ ایک کڑوا سچ ہے۔ اسے ماننا پڑے گا۔ اپنے طویل عدالتی تجربات کی روشنی میں کچھ اہم نکات اس غیر ضروری تاخیر جو کہ عدلیہ کے لیے ایک stigma بن چکی ہے پر کچھ عرض کرنے کی جسارت کر رہا ہوں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ 1996 سے قبل تک ہمارے سول جج صاحبان صرف سول نوعیت کے مقدمات سن رہے تھے۔ اُنکی کاز لسٹ کنٹرول میں تھی۔ میں نے خود پہلے بھی بیان کیا ہے کہ مشکل سے کبھی 40 سے زائد مقدمات ایک دن میں مقرر کیے۔ ابھی بھی کسی بھی سول جج کو 40/50 کے قریب روزانہ مقدمات کی کاز لسٹ دے دیں مقدمات جلد فیصلہ ہونا شروع ہو جائیں گئے۔ زیادہ معاملہ خراب اچانک فوجداری مقدمات جو کہ انتظامیہ اور عدلیہ کی علیحدگی کی صورت میں ہمارے حصّہ میں آئے وہاں سے شروع ہوا۔ ہم شاید ذہنی طور ہر اس بوجھ کو اٹھانے کے لیے تیار نہ تھے۔ نہ ہی ہائی کورٹ کی طرف سے کوئی ہوم ورک کیا گیا تھا۔ لہٰذا اُس وقت تقریباً تین سو کے قریب سول ججوں پر سینکڑوں ایگزیکٹو مجسٹریٹ صاحبان کی عدالتوں کے لاکھوں مقدمات کا بوجھ اچانک آن پڑا۔ نتیجہ سامنے تھا۔ اتنی قلیل تعداد میں سول جج اتنا بوجھ اٹھانے کی پوزیشن میں نہ تھے۔ نہ ہی ہمارے پاس مناسب تربیت اور انفراسٹریکچر تھا۔ لہٰذا جب توجہ فوجداری کام کہ جس میں ہمیشہ urgency involve ہوتی ہے کی طرف مبذول ہوئی تو سول کام عدم توجہگی کا شکار ہو گیا۔ اس طرح نئے سول ججز کی بھرتی تک چار پانچ سال کام اکٹھا ہونا شروع ہو گیا اور backlog کی ایک اہم وجہ بنا۔ یہاں ایک دلچسپ صورتحال پیدا ہوئی کہ وہ جسمانی ریمانڈ کی درخواست جو ایگزیکٹو مجسٹریٹ کے پاس کبھی شاذ ہی argue ہوتی تھی اب ہمارے پاس ہر مقدمہ میں پہلی تاریخ پر ہی زوردار طریقہ سے contest ہونا شروع ہو گئی۔ درخواست ہائے ضمانت، درخواست سپرداری کے فیصلہ کرنے میں خاطر خواہ وقت لگتا ہے۔ جس سے روٹین کی کاذ لسٹ کا متاثر ہونا ایک فطری عمل ہے۔ جسکی وجہ سے اصل سول و فوجداری مقدمات نظر انداز ہونا شروع ہو گئےاور پھر کئی سالوں میں یہ تعداد لاکھوں تک پہنچ گئی۔ اب کوئی حل اس گھمبیر صورتحال سے نکلنے کا نظر نہ آ رہا ہے۔


1988 سے شروع ہو کر گزشتہ تیس سال کے دوران تین چار سال بعد عام انتخابات کی نگرانی عدلیہ کے سپرد کر دی گئی اور ہر مرتبہ تقریباً تین ماہ تک عدالتی کام معطّل رہا کہ سبھی ججز الیکشن ڈیوٹی کے قومی فریضہ میں مصروف ہونے کی بنا پر عدالتی فرائض سر انجام دینے سے قاصر تھے۔ اس الیکشن ڈیوٹی کی وجہ سے عدلیہ کے حصّہ میں نیک نامی کی بجائے بےشمار الزامات اور تہمتّیں جن کا زمینی حقائق سے کوئی تعلق واسطہ نہ تھا وہ برداشت کرنا پڑیں اور ساتھ جوڈیشل ورک کو ناقابل تلافی نقصان بھی اُٹھانا پڑا۔ اس بات کی مزید وضاحت کے لیے عرض کرنا چاہتا ہوں کہ اس وقت گزشتہ تقریباً چار ماہ سے کرونا وائرس کی وجہ سے دیگر شعبہ ہائے زندگی کی طرح عدالتی نظام بھی شدید متاثر ہوا ہے۔ اور اب جو مقدمات کرونا وائرس کی وجہ سے ملتوی ہو رہے ہیں وہ تقریباً ایک ایک دو دو سال سیدھے نہیں ہو پائیں گے۔ یہی صورت حال ہر الیکشن کے بعد ہم نے نوٹ کی۔ عدالتی طریقہ کار، گنجلک پروسیجر، سو سال سے زائد رائج ضابطہ دیوانی اور ضابطہ فوجداری اور بے شمار دیگر عوامل اس نظام انصاف کی سُست روی کے ذمّہ دار ہیں۔

ایک بہت ہی اہم معاملہ بار اور وکلاء کے طرز عمل اور ڈسپلن کا بھی ہے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں ہیں کہ 2007 سے پہلے والی بارز 2007 کی وکلاء تحریک کے بعد والی بارز سے یکسر مختلف ہیں۔ اسکے کئی سیاسی عوامل بھی ہیں۔ وکلاء کی اپنی سیاست اور اپنی معاشرت ہے۔ ہم اُس پر تنقید نہیں کر سکتے مگر اب بطور ایک بار ممبر کے نظام عدل کی اصلاح اور بہتری کے لیے یہ جسارت کر سکتا ہوں کہ وکلاء کی اعلٰی قیادت خصوصاً پاکستان بار کونسل کو اس پر گہری سوچ و بچار کی ضرورت ہے۔ نوجوان وکلاء کی مناسب ٹریننگ، عدالتی آداب سے آگاہی، ضابطہ اخلاق اور اس طرح کے دیگر عوامل میں بہتری بہرحال بار کونسل کی ذمّہ داری ہے۔ ہم نے خود یہ بات نوٹ کی ہے کہ نوجوان وکلاء بڑی بھاری امیدوں کے ساتھ اس پیشہ میں داخل ہوتے ہیں مگر آتے ہی مالی اور دیگر مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جس سے اُنکی frustration بڑھتی ہے جو آگے جا کر عدالتی ماحول پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔ ان نوجوان وکلاء کے لیے مناسب stipend ایک خاص وقت تک ہر صورت میں یا حکومت وقت مقرر کرے یا اُنکےسینئر ادا کریں۔ پیشہ وکالت میں داخلہ کے لیے کسی سینئر کے چیمبر کے ساتھ منسلک ہونا ضروری قرار دیا جائے۔ جوڈیشل اکیڈمی میں ججز کی تربیت کے ساتھ نوجوان وکلاء کی ٹریننگ کا بھی بندوبست کیا جائے۔ اور شاید سب سے ضروری کہ بار ایسوسی ایشن اور بار کونسلز کے موجودہ طریقہ انتخابات فوری تبدیلی کے متقاضی ہیں۔ یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ ان الیکشنز میں بے تحاشہ روپیہ خرچ کیا جاتا ہے اور پھر اسکے فطری نتائج سے بھی سبھی آگاہ ہیں۔ اس لیے اصلاح احوال کی فوری ضرورت ہے۔ بار کے دوستوں کے لیے صرف اتنا عرض کرنا ہی کافی ہے کہ اگر عدالتیں خوشگوار ماحول میں عزّت و احترام کے ساتھ آزادانہ طور پر کام کریں گی تو بار کا احترام بھی بڑھ جائے گا اور ادارہ کی نیک نامی بھی دو چند ہو جائے گی۔

عدلیہ اور بار لازم وملزوم ہیں۔ کسی ایک فریق کو نیچا دکھا کر انصاف کا عَلم نہ بلند ہو سکتا ہے۔ نہ ہی مطلوبہ نتائج کا خواب شرمندۂ تعبیر ہو سکتا ہے۔ لہٰذا ایک دوسرے کو حریف سمجھنے کی بجائے پیار و محبت، عزت و احترام، یکجہتی و یگانگت کا عملی مظاہرہ کرتے ہوئے اس نظام کو آگے چلنے دیا جائے ورنہ نظام بیٹھتا نظر آ رہا ہے۔ پھر سارے فریق سوائے پشیمانی اور ذہنی قلق کے کچھ نہ کر سکیں گے۔

غیر ضروری التوا مقدمات میں تکلیف دہ تاخیر کا باعث بنتا ہے۔ لہٰذا آخری موقع برائے شہادت، پھر قطعی آخری موقع اور پھر حتمی آخری موقع کو کہیں بریک لگانا پڑے گی۔ تاکہ مقدمات کے جلد فیصلہ ہونے سے ادارہ کی نیک نامی میں اضافہ ہو۔ اسی طرح بحث سماعت کرنے کے بعد مقدمہ کو برائے مزید بحث و حکم اور پھر کسی طرح کا التوا نہ صرف مقدمات میں غیر ضروری تاخیر کا باعث بنتا ہے بلکہ عدالت کی قابلیت اور اہلیت پر کئی سوالیہ نشان چھوڑ جاتے ہیں۔

پوری ذمہ داری سے یہ عرض کر رہا ہوں کہ اب ڈسٹرکٹ جوڈیشری کے جج صاحبان کے خلاف integrity کی بہت کم شکایات آتی ہیں۔ البتہ اہلیت اور وقابلیت پر بے شمار سوالات اُٹھائے جاتے ہیں۔ جو بعض اوقات تکلیف دہ اور پریشان کُن حد تک ٹھیک ہوتے ہیں۔

ان تمام قباحتوں کے باوجود ہماری عدالتوں کو اپنا کام تندہی، لگن اور جذبہ ایمانی سے کرتے رہنا چاہیے۔ انصاف اور justice with mercy کی طرف بڑھنے کے لیے روایتی طریقوں کی بجائے out of box حل کی طرف ایک انقلابی سوچ اور متحرک لائحہ عمل کے ساتھ گامزن رہنا چاہیے۔ روایتی نظام انصاف کی سُست روی اور قانونی پچیدگیاں، فریقین مقدمہ کی حیلہ بازیوں اور دیگر عوامل سے بچنے کے لیے 2017 میں اس وقت کے چیف جسٹس عزت مآب جسٹس منصور علی شاہ صاحب نے مصالحتی عدالتوں Mediation Centres کا نظریہ دیا اور پھر لاہور میں ہم نے بطور ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اس پر کامیابی سے آغاز کیا اور پھر سارے پنجاب میں ان عدالتوں کا قیام اور بڑے ہی حوصلہ افزا نتائج۔ ان مصالحتی عدالتوں کی بحالی اور حوصلہ افزائی کافی سارے backlog میں کمی کا باعث اور عدلیہ کی نیک نامی کا موجب بن سکتی ہے۔ بطور ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج لاہور مجھے یہ منفرد اور تاریخی اعزاز بھی حاصل ہوا کہ پاکستان میں پہلی Mediation Court ، صنفی جرائم کے لیے پہلی GBV Court اور پاکستان کی پہلی چائلد کورٹ لاہور میں قائم ہوئیں اور پھر پورے پنجاب میں اور دیگر صوبوں میں بھی اسی طرح کی کورٹس قائم کی گئیں۔ پاکستان کی پہلی ایوننگ کورٹ کا قیام بھی لاہور میں میرے اسی عرصہ تعیناتی میں ہوا۔ بہت تھوڑے وقت میں اتنے سارے نئے تجربات پر مبنی عدالتوں کا قیام اور وہ بھی لاہور میں ایک ایسا سحر انگیز، خوش کُن اور پُر کیف تصّور ہے کہ جس کا لطف مدتوں تک بھلانا مشکل ہو گا۔

اپنے ڈسٹرکٹ جوڈیشری کے جج صاحبان سے صرف اتنی گزارش ہے کہ وہ یقیناً نامساعد حالات اور مخاصمانہ فضا میں کام کر رہے ہیں۔ مگر “ ہرنیوں کو چوکڑی بھرنی تو ہے” انصاف صرف اور صرف خوف خدا کو پیش نظر رکھ کر کیجیے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان عالی شان ہے کہ اللہ تعالٰی کا خوف حکمت و دانائی کا سرچشمہ ہے۔ Ideal حالات میں کام کرنا کوئی بہادری نہیں ہوتی۔ مشکل اور کٹھن حالات میں بلا خوف و خطر انصاف کرنا اور پھر دلیری سے انصاف کرنا ہی جوانمردی ہے۔

اس نظام عدل کے سب سے اہم سٹیک ہولڈر فریقین مقدمہ اور وہ سائیلیںن ہیں جو روزانہ ہزاروں کی تعداد میں موسم کی شدّت اور حدّت برداشت کرتے ہوئے عدالتوں کے باہر اپنے مقدمہ کی پکار سننے کے لیے اضطراب انگیز صورت حال میں بیٹھے جب پکار پر عدالت کے اندر جا کر صرف آئندہ تاریخ پیشی لے کر مایوسی اور بوجھل دل کے ساتھ گھروں کو واپس ہوتے ہیں تو اس نظام پر سوالیہ نشان اُٹھنا ایک فطری عمل ہے۔ لہٰذا ان سائیلین کی نہ صرف بروقت حق رسی ضروری ہے بلکہ کچہری اور عدالتوں میں ان کی عزّت و توقیر بھی اس نظام عدل کے بقا کی ضامن ہو گی۔

حکومت وقت کی بھی ذمہ داری ہے کہ نظام عدل کی بہتری اور reforms کے لیے آ گے بڑھے۔ ہماری پارلیمنٹ مناسب قانون سازی کر کے پروسیجر کو آسان بنائے۔ ایسے قوانین منظور کرے اور اس طرح کا سادہ اور سہل طریقہ کار کہ فیصلے سالوں کی بجائے دنوں میں ہوتے نظر آئیں۔ تب عام آدمی کا اس ادارہ پر دگرگوں اعتماد یقین محکم میں تبدیل ہو گا۔

اسی طرح پولیس کے طریقہ تفتیش میں بے شمار خامیاں ہیں۔ عدالتیں وقتاً فوقتاً ان کی نشاندہی کرتی رہتی ہیں۔ مگر بے سود۔ کوئی خاص لیول کا کام اس پر نہ ہوا۔ کئی کمیشن بیٹھے اور اُٹھے۔ مگر تفتیش کی صورتحال وہی ہے۔ نا قص تفتیش کا فائدہ ہمیشہ ملزم اُٹھاتے ہیں اور جس سے معاشرہ میں افراتفری، عدم استحکام اور خوف و حراس پیدا ہوتا ہے اور نظام انصاف پر کئی سوال اٹھتے ہیں۔ جدید طریقہ ہائے تفتیش خصوصاً فرانزک سائنس سے آگاہی پولیس کے فرسودہ طریقہ تفتیش میں نئی کروٹ کا سبب بن سکتا ہے۔

اسکے علاوہ بھی بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے جس سے نظام عدل و انصاف میں اصلاح ہو سکتی ہے۔ بشرطیکہ حکومت اس نظام انصاف کو اپنی ترجیح اوّل کے طور پر گردانتے ہوئے عملی اقدامات کے لیے آ گے بڑھے۔ اعلٰی عدلیہ بھی اس سلسلہ میں اپنا رول ادا کرے۔ وکلاء اور دیگر اسٹیک ہولڈرز معاملہ کی اہمیت و حساسیّت کو سمجھتے ہوئے اپنا مثبت رول ادا کریں اور friendly atmosphere اور خوش کُن و راحت آمیز عدالتی ماحول تشکیل دیں۔ ورنہ بقول شاعر اپنی پوزیشن تو اسطرح ہو گی

یہی دل تھا کہ ترستا تھا مراسم کے لیے
اب یہی ترکِ تعلق کے بہانے مانگے