کاش ہم ایک قوم بن جائیں، پاکستانی بن جائیں۔ بھٹو کی کرشماتی شخصیت۔ تاریخ کا ایک ورق

اختیار اور اقتدار کی ساری کنجیاں بھٹو کے ہاتھ میں آ گئیں تھیں۔ سقوط ڈھاکہ پر ہر شخص پریشان اور دل برداشتہ تھا۔ بھٹو کے سامنے سب سے بڑا چیلنج وطن عزیز کے عوام اور فوج کا مورال بلند کرنا تھا، جذبوں کو جگانا تھا۔ یہ احساس دلانا تھا کہ پاکستانی ایک زندہ قوم ہیں۔اس مرحلے پر بھٹو نے اپنے دوست اور دنیا کو حیران کر دینے والے عظیم مدبر چو این لائی سے دریافت کیا کہ میں نے اپنی قوم سے وعدہ کیا ہے کہ میں پاکستان کو ایک فلاحی ریاست بناؤنگا۔ میں نے ان سے روٹی کپڑا اور مکان کی فراہمی کا وعدہ کیا ہے۔ میرا خواب ہے کہ میں دفاعی اعتبار سے پاکستان کو نا قابل تسخیر بنا دوں۔ بیجنگ کے گریٹ ہال میں ایک قدیم صوفے پر براجمان پاکستان کے چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر اور صدر مملکت نے پہلو بدلتے ہوئے کہا کہ مجھے اس کے لئے کیا کرنا ہو گا؟ بھٹو نے اپنے مخصوص انداز میں ہاتھ لہراتے ہوئے چو این لائی سے دریافت کیا کہ اب میری ترجیحات کیا ہونی چاہیئے۔ گہری سوچ کی گرفت سے خود کو آزاد کرتے ہوئے چین کے وزیر اعظم نے کہا۔ آپ کو سب سے پہلے اپنی قوم کا اعتماد اور اعتبار حاصل کرنا ہو گا۔ انہیں یہ یقین دلانا ہو گا کہ آپ پوری نیک نیتی اور بھر پور عزم کے ساتھ ان کے مفادات کا تحفظ کر رہے ہیں۔ آپ کو آبادی کی شرح کم اور خواندگی کی شرح کو بڑھانا ہو گا۔ آپ کو دیکھنا ہو گا کے چاروں طرف آپکے قریبی ساتھی آپکے وژن اور پروگرام سے متفق بھی ہیں یا نہیں۔وہ آپکی طرح اور قوم کے خواہشات کے مطابق کام کرنا چاہتے ہیں یا نہیں۔آپکے ساتھی با صلاحیت، ایماندار اور محنتی ہونے چاہیئے۔ انہیں آپکے وژن کا ادراک ہونا چاہیئے۔
پھر چو این لائی نے بھٹو کی طرف دیکھتے ہوئے کہا میرے دوست ایک جامع پالیسی کے تحت ملک کو آگے بڑھانے کے لئے آپکو کم از کم پندرہ سال چاہیئے۔آپ اتنے عرصے اپنے ملک کی قیادت کر سکیں گے یا کم از کم ان پندرہ سالوں میں ان پالیسیوں کا تسلسل قائم رہ سکے گا، جنکی بنیاد آپ ڈالیں گے۔بھٹو نے چونکتے ہوئے کہا کہ شاید یہ ممکن ہو اور شاید نہ بھی ہو۔چو این لائی نے کہا کہ جناب صدر آپ کا یقین اور غیر یقینی آ پ کے اس سوال کا جواب ہے۔ آپ ایک ذہین انسان ہیں اور مجھے یقین ہے کہ آپ جلد اپنی قوم کو غیر یقینی کی کیفیت سے باہر نکال لینگے اور اگر آپ پاکستان کے عوام کو ایک قوم بنا سکے تو یہ آپ کا سب سے بڑا کارنامہ ہو گا۔ یہ سن کر بھٹو خاموش ہو گئے۔
اوریانا فلاسی اپنی خود نوشت میں لکھتی ہیں کہ میں نے بھٹو سے پوچھا کہ آپ کو اقتدار مل گیا اوراب آپ کتنے دن اس ملک پر حکمرانی کر سکیں گے؟
بھٹو نے بلا تذبذب کہا! میں سمجھتا ہوں کہ پچیس سال تک۔
بین الاقوامی شہرت یافتہ اطالوی جرنلسٹ اوریا فلاسی نے بھٹو سے پھر پوچھا! لگتا ہے کہ فوج کا پاکستانی سیاست میں ایک اہم اور کلیدی کردار ہے اور ایسی صورت میں آپ اتنے عرصے کیسے حکومت کر سکتے ہیں؟
بھٹو نے پر اعتماد لہجے میں جواب دیا کہ میں پاکستان کا مقبول ترین لیڈر ہوں۔ نوجوان لڑکے میری پارٹی کے جھنڈے سے مماثلت رکھتے رنگوں کی ٹائیاں باندھتے ہیں۔ نوجوان لڑکیاں بالوں میں اس رنگ کی چوٹیلے اور ریبن باندھتی ہیں۔
فلاسی نے کہا! مسٹر پرائم منسٹر میں فوج کی بات کر رہی ہوں؟
بھٹو نے برجستہ جواب دیا کہ نوجوان فوجی آفیسروں کے پرس میں دیکھیں آپکو میری تصویر نظر آئی گی۔
فلاسی لکھتی ہیں کہ بھٹو کی بین الاقوامی سیاسی تاریخ پر اتنی ہی گہری نظر تھی جتنی کہ ہنری کسنجر کی۔ وہ کینیڈی کی طرح نڈر اور اپنا نقطہ نظر سمجھانے میں ڈیگال کے ہم پلہ دکھائی دیتے تھے۔ وہ شاہ فیصل، معمر قذافی، سوئیکارنو کے ذاتی دوست تھے۔ میکا ولی کی یاد داشتیں انہیں زبانی یاد تھیں۔قدرت نے انہیں خطابت کے غیر معمولی جوہر سے نوازا ہو اتھالیکن غرور،ضد اور ہٹ دھرمی ان کی کمزوریاں تھیں۔ وہ پر جوش تخیلاتی انسان تھے لیکن مشاورت پر ذیادہ یقین نہیں رکھتے تھے۔ فلاسی کا خیال ہے کہ بھٹو ایک سحر انگیز شخصیت کے مالک تھے، جو ان سے ملتا ان کا گرویدہ ہو جاتا تھا۔
فلاسی یہ بھی لکھتی ہیں کہ ہاں مجھے پاکستان میں یہ دیکھ کر حیرانگی ہوئی کہ جہاں بھٹو کے حامی ان کے لئے کچھ بھی کر گزرنے کو تیار رہتے تھے، وہیں ان کے کٹر مخالفین کی تعداد بھی کچھ کم نہ تھی۔ بعض توایسے بھی تھے جو سمجھتے تھے کہ اقتدار کو طول دینے کی خواہش میں یحیٰ خان نے بھٹو کو ساتھ ملا لیا تھا اور یحیٰ خان کے انہی اقدامات کے سبب جنہیں بھٹو کی حمایت حاصل تھی، پاکستان دو لخت ہو گیا۔
بھٹو کی شخصیت کے کئی پہلو تھے،بھٹو نے اوریانا فلاسی کو بتایا کہ ہم ایک جاگیر دار فیملی سے تعلق رکھتے ہیں۔میں کم عمر تھا، جب میری شادی مجھ سے بڑی عمر کی خاتون سے کر دی گئی۔ اس وقت میں کرکٹ کھیلنا چاہتا تھا لیکن ہم ساتھ ساتھ روایتی لوگ بھی ہیں۔ عام لوگ سمجھتے ہیں کہ میں آکسفورڈ کا فارغ التحصیل ہوں، خوبصورت ڈریسنگ کرتا ہوں، بہترین انگریزی بولتا ہوں، سحر انگیز گفتگو کرتا ہوں لیکن میں سندھ کا ایک زمیندار بھی ہوں۔ ان علاقوں کی اپنی روایات ہیں۔ ہم ان روایات کے دائرے سے چاہتے ہوئے بھی باہر نہیں نکل سکتے۔
پھربھٹو نے گہری سوچ سے نکلتے ہوئے کہا کہ ہاں میرے بڑے بڑے خواب ہیں۔جس میں سے ایک خواب یہ بھی ہے کہ میں چو این لائی کی بات پوری کر کے دکھاؤں اور انہیں پاکستانی عوام کو ایک قوم بنا کر دکھاؤں۔وہ یہ باتیں اتنی یقین سے کہہ رہے تھے کہ جیسے منزل انکے سامنے ہے۔
ذولفقار علی بھٹو نے پاکستان پر ساڑھے پانچ سال حکومت کی، مگر میں یہ سمجھتا ہوں کہ فلاسی کی یہ بات درست ہے کہ بھٹو ایک دور اندیش اور ذہین لیڈر تھے۔ بھٹو نے کئی تاریخی کارنامے سر انجام دیئے۔ انہوں نے پاکستان کو متفقہ آئین دیا۔اسلامی سر براہی کانفرنس کا انعقاد کیا۔ اسلامی بلاک بنانے میں شاہ فیصل اور کرنل قذافی کا ہاتھ تھاما۔ پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کے لئے مشکل حالات میں اقدامات کئے۔ اندرا گاندھی کے ساتھ آبرو مندانہ انداز میں شملہ معاہدہ کیا لیکن بھٹو کے پاکستان کی صنعتوں کو قومیانے کے فیصلے کی حمایت نہیں کی جاسکتی کیونکہ اس کے دور رس منفی اثرات مرتب ہوئے۔
میں نے ایک بار بے نظیر بھٹو صاحبہ سے دریافت کیا کہ اگر آپ کے والد سندھ کے پسماندہ علاقوں سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کو اس بات پر آمادہ کرتے اور انہیں تحریک دلاتے کہ وہ محنت اور میرٹ کے ذریعے اوپر آئیں تو یہ درست اسٹریجی نہیں ہوتی۔
دختر مشرق نے کہا کہ فاصلے بہت تھے، فرق بہت تھا۔ شہری اور دیہی سندھ میں تعلیمی سہولتوں میں زمین آسمان کا فرق تھا۔ میرے خیال میں بھٹو صاحب نے جو معاہدہ کروایا تھا اس پر آبادی کی دونوں اکائیوں کی قیادت نے دستخط کئے تھے۔ میں نے وزیر اعظم بے نظیر بھٹو صاحبہ سے دریافت کیا کہ اس طرح آ پ کی جماعت سندھ شہری آبادی کے ایک بہت ہی موثر طبقے کی حمایت سے محروم نہیں ہو گئی؟
محترمہ بے نظیر بھٹوصاحبہ نے کہا ہر گز نہیں۔سندھ کے شہری آبادی کے کردار اور خدمات سے کون انکار کر سکتا ہے،ہاں اس کے لئے بلا تفریق شہری اور دیہی سندھ کی ترقی اور خوشحالی کے لئے کام ہوتے رہنا چاہیئے تھا تاکہ یہ فاصلے سمٹ سکے۔ میں سمجھتی ہوں کہ تمام ہم وطنوں کے حقوق یکساں ہیں اور کہیں سے احساس محرومی کی آواز نہیں آنی چاہیئے۔
اب ذرا (73) تہتر سالہ تاریخ میں پیچھے مڑ کر دیکھیں یہ درست ہے کہ ہم اب تک مختلف ٹکڑیوں میں بٹے ہوئے ہیں۔ ہم پنجابی، سندھی، بلوچی، پشتون، سرائیکی، مہاجر اور مختلف لسانی اکائیوں میں بٹے ہوئے ہیں۔ ہم مذہبی طور پر فرقوں میں بٹے ہوئے ہیں حالانکہ یہ تو اس گلدستے کے پھول ہیں جسے اسلامی جمہوریہ پاکستان کہتے ہیں اورحقیقت یہ ہے کہ ہماری پہلی شناخت مسلمان اور پاکستانی ہو نی چاہیئے۔
تاریخ کا یہ سبق ہے کہ جن قوموں کے لوگ صرف اپنی ذات کے لئے محنت کرتے ہیں انہیں قضا چاٹ جایا کرتی ہے۔ جن قوموں کے لوگ صرف اپنی ذات کے گرد گھومتے ہیں، وہاں بھر بھر ی دیواریں، ٹوٹی چھتیں اور کچی پکی اینٹیں انسان سے ذیادہ قیمتی ہو جاتی ہیں۔ کبھی آپ نے سوچا کہ ہم اتنے تھکے ہوئے،چڑ چڑے، بے زار اور مردہ دل کیوں ہو گئے ہیں؟
کتنے دکھ کی بات ہے کہ قوم کو پوری گھن گرج کے ساتھ نئے پاکستان میں لے جانے کا خواب دکھانے والے موجودہ حکمران اس سنگین بحران کی آہٹ نہیں سن رہے جو ان کے دروازے پر بار بار دستک دے رہا ہے۔کبھی میں ان لوگوں سے ملتا ہوں جو پسماندہ دیہی علاقوں میں رہتے ہیں، جہاں ان پڑھ، سادہ اور محروم لوگ بستے ہیں۔ جب میں ان لوگوں سے ملتا ہوں۔ پرانی بیٹھکوں، کھلے چوپالوں، سلین زدہ
ڈیوڑھیوں میں کھانستے، لرزتے، کاپنتے، اور کانوں پر ہاتھ رکھ کر بدلتے وقت کی آواز سننے کی کوشش کی، تو میں انہیں پاکستان کے لئے متفکر پاتا ہوں۔ کاش ہم ایک قوم بن جائیں، کاش ہم پاکستانی بن جائیں۔

سہیل دانش