کراچی کے پوش علاقوں سے نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کے اغوا برائے تاوان کی وارداتیں، اور مقدس گائے۔

ہمارے مُلک میں جرائم پیشہ افراد کی جڑیں کتنی مضبوط اور گہری ہیں اس کا مشاہدہ آپ کو میری یہ تحریر پڑھ کر ہوگا۔

جو لوگ آج تک جرائم پیشہ افراد کے چنگل سے بچے ہوئے ہیں ان سب پر اللہ پاک کا خاص کرم ہے۔ لوگوں کو جرائم پیشہ افراد سے بچانے میں پولیس اور عدلیہ کا کیا کردار ہے اُس کے ایک جھلک پڑھ لیں۔

کراچی کے پوش علاقوں سے نوجوانوں اور لڑکیوں کے اغوا برائے تاؤان کے گینگ کی کہانی جو پچھلے دس سالوں سے اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہیں اور پکڑ میں نہیں آرہے۔

میری پوسٹگ جب Avcc ( انسداد اغوا برائے تاؤ ان سیل) میں ہوئی تو مجھے بتایا گیا کہ Avcc میں ایک Asi تھا اُس نے اپنا ایک گینگ بنا لیا ہے اور وہ سب سے منفرد انداز میں ڈیفنس کے علائقے سے کسی کار سوار نوجوان کو ٹارگٹ کرکے اغوا کر لیتے ہیں اور بعد میں اپنی مرضی کے پیسے لیکر نوجوان کو آزاد کیا جاتا ہے۔ جیساکہ Asi نے Avcc میں کافی سال کام کیا تھا اس لیئے اُس کو پتہ ہے کہ Avcc سے کس طرح سے بچ کے چلنا ہے۔

گینگ کا نام افشا ہونے کے بعد Asi کو نوکری سے فارغ کردیا گیا تھا، Asi کو گرفتار کرنے کی کوششیں مجھ سے پہلے بھی ہو چکی تھیں اور میں نے بھی پوری کوششیں کیں جو لا حاصل گئیں اور پولیس اب بھی پوری کوششیں کر رہی ہے مگر تاحال Asi قانون کی پکڑ سے دور ہے۔

میری تعیناتی کے دوران ڈفینس سے ایک نوجوان اغوا ہو گیا۔ طریقہ واردات سے پتہ لگ گیا کہ Asi کے گینگ نے لڑکے کو اغوا کیا ہے جیساکہ Asi احتیاط بہت زیادہ کرتا ہے اور اُس کو یہ پتہ ہے کہ کن وجوہات کی وجہ سے مُلزم پکڑے جاتے ہیں اُس لیئے وہ جلد بازی سے کام نہیں لیتا ۔ ASI کے گینگ کے مغوی کی واپسی میں مہینے لگ جاتے ہیں اور گینگ تاوان کی وصولی کیلئے مغوی کا فون استعمال کرتے ہیں۔

اغوا کاروں کی طرف سے برابر تاوان کیلئے کالیں آرہی تھیں اور فیملی تاوان کی رقم کم کرانے کی کوششیں کر رہی تھی ہم لوگ ان کالوں کو مانیٹر کر رہے تھے اسی دوران یہ پتہ لگ گیا کہ ایک مار فانی قبیلے کا اغواکار ضلع شکارپور کے ایک تحصیل ہمایوں سے مغوی کے فون سے فیملی کو کالز کر رہا ہے۔ جیساکہ کراچی سے اگر پولیس پارٹی روانہ کی جاتی تو دیر ہو جاتی۔ ایسے موقعوں پر ضلع پولیس Avcc سے کوئی تعاون نہیں کرتی۔

اس وقت ہمارے آئی۔جی فیاض لغاری صاحب تھے۔ فیاض لغاری صاحب میں ایک خوبی یہ تھی کہ وہ چوبیس گھنٹے فون پر ملتے تھے۔ کبھی کسی بات پر ناراض نہیں ہوتے تھے اور پوری بات توجہ سے سنتے تھے۔ کبھی یہ بھی نہیں کہتے تھے یہ میرا کام نہیں آپ ڈی۔ آئی۔ جی بولیں یا فلاں فلاں !!!!
میں نے اُن کو فون کیا اور بتایا کہ سر آگر شکارپور پولیس فوری کاروائی کرے تو اغواکار مغوی کے فون سمیت گرفتار ہوسکتا ہے اور ملزم مغوی کو بھی برآمد کرا سکتا ہے۔

آئی۔ جی صاحب نے ڈی آئی جی لاڑکانہ اور ایس ایس پی شکارپور سے بات کی ایس ایس پی شکارپور نے مجھ سے رابطہ کیا اور میں نے اُن کو ٹیکنیکل انفارمیشن شیئر کیں اور اس طرح اغوا کار مغوی کے فون سمیت گرفتار ہو گیا شکارپور پولیس نے بڑی محنت کے بعد ہمایوں کے نوگو ایریا سے اغواکار کو گرفتار کیا تھا۔ شکارپور پولیس نے اغواکار سے پوچھ گچھ کی مگر مغوی لڑکا نہ مل سکا بعد ازاں اغواکار کو کراچی منتقل کر دیا گیا۔

اغواکار سے ہم نے پوچھ گچھ کی اغواکار کا تعلق ASI والے گینگ سے تھا مگر ASI نے اپنے تجربے کی بُنیاد پر فون کرنے والے ساتھی کو کافی باتوں سے لاعلم رکھا تھا۔

ابھی تک مغوی کا کوئی پتہ نہیں تھا اور مغوی کا فون پولیس کے پاس آجانے سے تاوان کی کالز آنے کا سلسلہ بھی رُک چکا تھا، ایسی صورت حال فیملی کیلئے موت سے بھی بدتر ہوتی ہے۔ فائنلی میں نے سوچا کہ پکڑے ہوئے اغوا کار کو باضابطہ گرفتار کرکے بند کردوں مغوی کے فون برآمد ہونے کی وجہ سے ملزم سزا سے بچ نہیں سکتا تھا۔

دوسرے دن میں اپنے ڈی، آئی، جی کے پاس چلا گیا اور اُن کو بتایا کہ میں پکڑے ہوئے مُلزم کو بند کرنے لگا ہوں آپ ڈی۔آئی۔جی لاڑکانہ کو بتادیں۔ ہمارے ڈی۔آئی۔جی صاحب نے ڈی۔آئی۔جی لاڑکانہ کو فون پر بتایا کہ شکارپور پولیس نے جو اغوا کار پکڑ کر دیا تھا ہم اُس کو بند کر رہے ہیں۔ ڈی۔آئی۔جی لاڑکانہ غیر متوقع طور پر ہتھے سے اُکڑ گئے۔ میرے ڈی، آئی، جی ان کو فون پر سمجھاتے رہے مگر وہ اپنی بات پر آڑے رہے۔ فون رکھتے ہی ہمارے ڈی، آئی، جی صاحب نے بتایا کہ ڈی، آئی، جی لاڑکانہ ناراض ہو رہے ہیں کہ ہم نے نوگو ایریا جاگن سے اغوا کار کو اس شرط پر گرفتار کیا ہے کہ اُس کو کیس میں بند نہیں کیا جائے گا اب اگر آپ کا ایس،پی مُلزم کو کیس میں بند کر رہا ہے تو اس کے بُرے نتائج ہونگے اور ان برے نتائج کو آپ کے ایس، پی کو بھگتنا ہوگا وغیرہ وغیرہ !!!!!

میں نے اپنے ڈی، آئی، جی صاحب سے پوچھا کہ سر اب کیا کرنا چاہئے ؟ ہم اغواکار کو کیسے بخیریت گھر جانے دیں ؟ میرے ڈی، آئی، جی صاحب نے مجھے سمجھاتے ہوئے کہا کہ نیاز آپ ہر بات پر ضد کرتے ہو اس مُلزم کی وجہ سے اغوا کار مغوی کو تو آزاد نہیں کررہے۔ اور کہا کہ میرا مشورا ہے کہ آپ مُلزم کو شکارپور پولیس کے حوالے کردیں کوئی فائدہ نہیں اس کو بند کرنے کا !!!!

میں نے دل نہ چاہتے ہوئے بھی اغوا کار کو شکارپور پولیس کے حوالے کردیا اور انھوں نے اُس کو چھوڑ دیا۔ کچھ وقت کے بعد مغوی ایک کروڑ روپیہ دیکر واپس آگیا

اُس کے بعد Asi کے گینگ نے ایک اور لڑکا ڈفینس کے علائقے سے اغوا کرلیا

مغوی کے فون سے گھوٹکی سے تاوان کیلئے فون کالز آنا شروع ہو گئیں، ہم ساری کالوں کو کراچی سے مانیٹر کررہے تھے۔ اسی دوران ہم کو پتہ چل گیا فون کالز کرنے والا منصور مغل نامی اغوا کار ہے اور کا گھر گھوٹکی شھر میں ہے اور اُس کے والد کا اپنا ذاتی اسکول ہے !!!!

میں نے اپنے ڈی، آئی، جی صاحب کو ساری بات بتادی اور آئی، جی فیاض لغاری صاحب کو فون پر اطلاع کردی اور کہا کہ ایس، ایس، پی گھوٹکی کو بھی فون کردیں کہ ہماری پولیس پارٹی کے ساتھ تعاون کریں، اور ایک پولیس پارٹی موبائل لوکیٹر کے ساتھ ایک ڈی، ایس، پی کی سربراہی میں گھوٹکی روانہ کردی۔

پچھلی بار کراچی سے پولیس پارٹی نہ بھیجنے کی وجہ سے ڈی،آئی، جی لاڑکانہ کے ساتھ جو بدمزگی پیدا ہو گئی تھی اُس سے بچنے کیلئے میں نے کراچی سے پولیس پارٹی روانہ کی تھی تا کہ وہاں کی لوکل پولیس کے پالیسیوں سے بچا جا سکے ۔ اُس وقت کے ڈی،آئی،جی صاحب لاڑکانہ آج تک مجھ سے ناراض ہیں مجھ سے بات چیت یا میسج کا جواب دینے سے پرہیز ہی کرتے ہیں۔

ہماری پولیس نے گھوٹکی پولیس اور موبائل لوکیٹر کی مدد مُلزم منصور مغل کے گھر پر الالصبح ریڈ کی، ریڈ میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا گیا اور مُلزم گھر کی چھت سے ساتھ ملے ہوئے گھروں کی چھتوں سے کود کر پولیس کے ہاتھوں سے نکل چکا تھا۔ کسی مُلزم کو پکڑنے کیلئے پہلے گھر کی چھت پر کچھ پولیس کے بندے چھڑہائے جاتے ہیں، چھت پر پہلے کنٹرول حاصل کرنے کے بہت فائدے ہیں۔ مگر ہماری پارٹی اور گھوٹکی پولیس نے ریڈ کو آسان لیا اور مُلزم آسانی سے بھاگ گیا۔

ڈی، ایس، پی نے فون پر سارا ماجرا بتایا کہ گھر میں عورتوں کے ساتھ منصور مغل کا والد ہے، میں نے اُسے کہا کہ آپ ملزم کے والد کو کراچی لے آؤ ۔

دوپہر دو بجے کے قریب مجھے سپریم کورٹ کراچی رجسٹری سے فون آیا کہ آپ جلدی سپریم کورٹ آ جائیں آپ کو فلاں جسٹس صاحب یاد کررہے ہیں ۔ (واضع رہے کہ وہ جسٹس صاحب اب رٹائر ہوچُکے ہیں)

تھوڑی دیر میں عدالت پہنچ گیا، جسٹس صاحب اپنے چیمبر میں تھے۔ فون کرنے والے افسر نے اندر چیمبر میں جاکر جسٹس صاحب کو میرے آنے کی اطلاع کی اور تھوڑی دیر میں باہر آکر مجھے چیمبر میں اندر جانے کا اشارہ کرکے خود باہر نکل گیا۔میں نے اندر جاکر جسٹس صاحب کو سیلوٹ کیا۔ جسٹس صاحب نے ٹھرے ہوئے لہجے میں مجھ سے پوچھا کہ آج صبح آپ کی پولیس پارٹی نے گھوٹکی میں ریڈ کیا ہے ؟

میں نے جسٹس صاحب کو سارا ماجرا بتایا کہ کراچی ڈفینس کے علائقے سے ایک نوجوان اغوا ہو گیا ہے مُلزم منصور مغل گھوٹکی سے مغوی کی فیملی سے دس کروڑ تاوان کیلئے کالیں کر رہا تھا، اور پورا بتایا کہ ہم نے کس طرح ٹیکنیکلی مُلزم منصور مغل کو پوائنٹ آوٹ کیا ہے۔ ہماری پولیس پارٹی نے آج گھوٹکی میں ریڈ کیا تھا مگر مطلوب مُلزم ہم کو نہ مل سکا، مُلزم کے عیوض میں ہماری پارٹی مُلزم کے باپ کو کراچی لا رہی ہے ۔ ( واضح رہے کہ مُلزم کا باپ راستے میں تھا اور ابھی تک کراچی نہیں پہنچا تھا)

جسٹس صاحب نے بڑے رعب دار آواز میں مجھے کہا آپ لوگوں کس نے اجازت دی ہے کہ مُلزم نہ ملے تو اُس کے گھر والوں کو اُٹھالو !!! آپ نے مُلزم کے باپ کو کیوں اٹھایا ہے ؟؟ میں نے جسٹس صاحب کو کہ آپ کا کہنا درست ہے اور بتایا کہ اغوا ہونے والے اور اُس کی فیملی کے بھی کچھ حقوق ہیں اور ہم کو مغوی کی سیف واپسی کیلئے اغوا کار کی فیملی سے مجبوراً اس طرح کا سلوک کرنا پڑتا ہے۔

جسٹس صاحب نے مجھے دو ٹوک انداز میں کہا کہ میں آپ کو 24 گھنٹوں کا ٹائم دے رہا ہوں، کل آپ نے اسی وقت آکر مجھے بتانا ہے آپ مُلزم کے والد کو آزاد کر رہے ہو یا نہیں۔ آگر آزاد نہیں کر رہے تو آپ کل جیل جانے کی تیاری کرکے آنا ۔ میں جسٹس صاحب کو سیلوٹ کرکے چیمبر سے باہر نکل آیا اور فون پر بلانے والے افسر سے ملکر باہر اپنی گاڑی میں آ بیٹھا۔

وہیں سے میں نے آئی، جی صاحب کے آپریٹر کو فون کرکے پوچھا کہ صاحب دفتر میں ہیں ؟ آپریٹر حبیب نے بتایا کہ ہاں صاحب دفتر میں ہیں۔ میں نے آپریٹر حبیب سے کہا کہ ایک ضروری کام ہے آپ آئی، جی صاحب سے پوچھ کر بتائیں کہ میں ملنا چاہتا ہوں۔ آپریٹر نے مجھے کچھ لمہے ہولڈ کرواکر بتایا کہ آپ بھلے ابھی آ جائیں ۔

تھوڑی دیر میں آنی جی صاحب کے سامنے تھا، میں نے اُن کو سیلوٹ کیا، آئی، جی صاحب نے مجھے بیٹھنے کا اشارا کیا، میں نے بیٹھتے ہی سارا ماجرا آئی، جی صاحب کو بتایا۔ آئی جی صاحب میری بات سننے کے بعد فکر مند ہوگئے، کچھ دیر خاموش ہو گئے، تھوڑی دیر کچھ سوچنے کے بعد مجھے کہا کہ نیاز آگر بات وزیراعظم یا کسی اور عہدیدار کی ہوتی تو میں ابھی اُن سے بات کر لیتا اور میں خود فیس کر لیتا مگر آپ کو خود پتہ ہے ہم عدالت کے آگے بے بس، مجبور اور بے یار و مددگار ہوتے ہیں۔

میں نے آئی، جی صاحب کو کہا سر یہ مغوی کی فیملی کے ساتھ سراسر زیادتی ہے اور دوسرا یہ کہ سپریم کورٹ کا یہ دائرہ اختیار بھی نہیں ہے، مُلزم کے باپ کو ہم نے اٹھایا ہے تو وہ اغواکار پارٹی بھلے ہمارے خلاف سکھر ہائیکورٹ میں جاتے ہیں تو جائیں ہم فیس کر لیں گے۔

آئی، جی صاحب نے کہا کہ نیاز آپ کی ساری باتیں درست ہیں، کسی بھی طرح جسٹس صاحب کو ذاتی طور پر اس طرح نہیں کرنا چاہیئے مگر ہمارے پاس بھی دوسرا راستہ نہیں ہے، آگر کل سپریم کورٹ کے جسٹس صاحب نے آپ کے خلاف کچھ کرلیا تو میں آپ کو بچا نہیں سکتا۔ بہتر ہے کل آپ مُلزم کے باپ کو جسٹس صاحب کے حوالے کردو ، ہم مغوی کی فیملی کیلئے اتنا ہی کچھ کر سکتے ہیں۔

دوسرے دن میں مقررہ وقت پر دوبارہ سپریم کورٹ پہنچ گیا، میں اپنی بے عزتی محسوس کر رہا تھا کہ مُلزم کے والد کو اپنے ساتھ عدالت لے جاکر جسٹس صاحب کے حوالے کروں، جسٹس صاحب اپنے چیمبر میں موجود تھے، کل فون کرنے والے افسر سے اندر اطلاع کروائی۔ اجازت ملنے پر چیمبر میں چلا گیا اور جسٹس صاحب کو سیلوٹ کرنے کے بعد کہا کہ سر مُلزم کا باپ میرے دفتر میں موجود ہے آپ حکم کریں کس کے حوالے کرنا ہے ؟ انھوں نے ایک وکیل کا نام لیا کہ وہ آپ کے دفتر آئیں گے بندہ اُن کو دے دیں، میں نے جسٹس صاحب کو کہا آگر آپ ناراض نہ ہوں تو ایک عرض کروں، اور میں اُن کو کہا آپ مہربانی کرکے مُلزم کے باپ کے شفارشیوں کو کہیں کہ وہ مغوی کو آزاد کردیں، مغوی کی ماں کی حالت بُہت خراب ہے۔ جسٹس صاحب نے جواب دیا کہ یہ میرا کام نہیں ہے، اور مجھے جانے کا اشارہ کیا، میں سیلوٹ کرکے چیمبر سے باہر نکل آیا-

جب اغوا کاروں کا بندہ دو دن میں اتنی بڑی شفارش سے باعزت طور پر گھر واپس آگیا تو آپ خود سوچیں کہ گینگ کے حوصلے کتنے نہ بُلند ہوئے ہونگے اور ہماری حالت کیا ہوئی ہوگی ؟ اور ہم خود کو کتنا پست سمجھ رہے تھے۔ ہم نے کیس پر مزید کام کرنا بند کردیا اور مغوی کی فیملی کو کہ دیا کہ دو تاوان دے کر اپنا لڑکا واپس کرالیں۔ مغوی چھ مہینے بعد دو کروڑ دیکر واپس آیا۔ اس گینگ نے اب پوش علائقوں سے نوجوان لڑکیوں کو اغوا کرنا شروع کیا ہے، بسما سلیم اور دعا منگی کو ASI کے گینگ نے اغوا کرکے بسما سلیم کے فیملی سے ایک کروڑ ستر لاکھ اور دعا منگی سے بیس لاکھ لیکر آزاد کیا۔۔۔

واقعہ شیئر کرنے کا مقصد ہرگز یہ نہیں کہ کسی مقدس گائے کی بے حُرمتی کی جائے یا کسی پردہ نشین کو بے پردہ کیا جائے ، بتانے کا مقصد یہ ہے کہ ہم کسی بھی” کرسی” پر بیٹھے ہوں اور کتنے ہی باآختیار کیوں نہ ہوں ہمارا کردار ااور ذہنی سوچ ایک ہی ہے، ہماری سوچ اغوا کا گینگ چلانے والے ASI سے ملتی جُلتی ہے۔ ہمیں یہ فرق نہیں پڑتا کہ ہم ڈی، آئی، جی کی کُرسی پر ہیں یا سپریم کورٹ کے جسٹس کی کُرسی پر ہیں۔ ہمیں کسی کے دُکھ درد سے کوئی واسطہ نہیں اور نہ ہی اپنی عزت اور وقار کا خیال ہے !!!!!

اللہ پاک ہمارے مُلک کے عوام اور ہمارے حال پر رحم فرمائے

تحریر: ایس ایس پی (ر) نیاز احمد کھوسو