مبحت

مبحت
کیا لکھیں کچھ سمجھ میں آ بھی رہا ہے اور کچھ نہیں بھی …..کچھ الفاظ ہماری نوکِ زبان پر آ رہے ہیں مگر آپس میں بہیت گڈ مڈ ہو رہے ہیں .
پہلے ہم مبحت کو کیا سمجھتے تھے لیکن اب کیا سمجھتے ہیں , یہ دو الگ الگ باتیں ہیں ..
 ہم مبحت کو پہلے کچھ تنگ نظر سے دیکھتے تھے ,مگر وقت نے, مبحت نے محبوب نے ,ماں پاپا نے ,باقی  گھر والوں نے سوسائٹی نے ھمارا اندازِ نظر بدل دیا.
ہم کوئی فلاسفرتو نہیں ہیں جو مبحت کی اچھے سے وضاحت کر سکیں گے, مگر ہم جتنا سمجھ سکیں ہیں اُتنا  لکھنا چاہتے ہیں …
ہم مبحت کی وضاحت کی تہمید کسی روائتی جملے پر نہیں رکھیں گے .
مبحت ایک جذبہ ہے , لیکن کیسا جذبہ ؟؟ یہ جذبہ ہمیں کیا سیکھاتا ہے ؟ کس راہ پر لے جاتا ہے ؟ مبحت ہوتی کس سے ہے ؟مبحت کو کامیاب کیسے بنایا جا سکتا ہے ؟
کچھ سوال پیدا ہوتے ہیں یہاں , اگر چہ یہ سوال دیکھنے میں بےحد آسان نظر آتے ہیں مگر یقین مانیے یہ آسان نہیں ہیں , لیکن اتنے کھٹن بھی نہیں ہیں کہ انسان ان سوالوں کے جواب تلاش کرنے میں ناکام رہیں .مبحت کیا ہے ؟
ہمیں لگتا “مبحت ایک ایسا احساس ہے جو انسان کو خود کی پہچان کرواتا ہے , خدا سے مِلاتا ہے , اور مبحت دل کی وہ کیفیت ہے کہ جب انسان کسی ذات کے ساتھ جُڑ جاۓ تو پھر اُس کے در و دیوار سے بھی مبحت ہوتی ہے ,اُس کے کوچہ و بازار سے بھی مبحت ہوتی ہے لب و رخسار , زلفیں تو رہی فانی چیزیں اُسکی روح آپکو خود میں محسوس ہونے لگتی ہے   ”
یہ بات سمجھنے میں ہمیں بھی کافی وقت لگا ..
مگر آخر  سمجھ میں آیا …..
ہم نے سُنا تھا کہ مبحت میں انسان اندھا ہو جاتا ,اسے سہی ,غلط کی پہچان نہیں رہتی ….
انسان بےمروت ہو جاتا , رشتوں کا پاس نہیں رکھتا .
اور ہمارے یہاں یہ المیہ ہے کہ سُنی,سُنائی بات کو سچ مانا جاتا ,اس پر عمل کیا جاتا اور ایک وقت آتا جب انسان ویسا ہی ہو جاتا ,جیسا اُسے  نہیں ہونا ہوتا ..
 اور ہماری سوسائٹی کا بہیت ہاتھ رہا ہے آج کی جنریشن کو مبحت کے بارے میں غلط انفارمیشن ڈیلیور کرنے میں ,
مبحت بہیت وسیع کونسیپٹ ہے , مبحت کو کسی ترازو میں نا تولا جا سکتا ہے اور نا کسی تہ خانے میں بند کیا جا سکتا ہے.
مبحت ھمارے مطابق ہمیں خود کی پہچان کرواتی ہے وہ ایسے کہ سب سے پہلے ہمیں مبحت  یہ بتاتی ہے کہ ہم کیسے انسان ہیں .
ہماری لائف میں ایسا وقت آتا ہے جب ہم یہ جان سکتے ہیں کہ کیا ہم اللہ پر یقین رکھتے ہیں . کیا ہم فرمابردار اولاد ہیں .کیا ہم رشتوں کا پاس رکھ سکتے ہیں .کیا ہم میں اپنے بڑوں سے بات کرنے کی تمیز باقی ہے .کیا ہم  اپنے ماں پاپا کے فیصلوں کو مان دے سکتے ہیں .کیا ہم اپنے مفاد سے بالا تر ہو کر دوسروں کے لیے کچھ اچھا سوچ سکتے ہیں ….
اور مبحت ہمیں دعا مانگنا بھی سیکھاتی ہے اور جب انسان اللہ پاک سے دعا مانگتا ہے تو آٹومیٹک لی خود کو خدا کے قریب پاتا ہے ❤
ایکچولی ہم خود بھی ابھی تھوڑا  ڈرتے ہیں کچھ بھی کُھل کے لکھنے سے ہمیں نہیں پتا کہ جو بات ہم بتانا چاہ رہے ہیں وہ بات بتا پا رہے ہیں یا نہیں, لیکن امید ہے کہ سمجھا جاۓ گا .☺
مبحت ہوتی کس سے ہے ؟مبحت ہمیشہ حسین سے ہوتی ہے اور لفظ ‘حسین’ کو بیان کرنے کے لیے شاہد ھمارے پاس الفاظ نہیں اور ہاں خوبصورت اور حسین ہونے میں بہیت فرق ہے.ہم نےمسٹر ہدایت عباسی سے پوچھا, تو وہ کہنے لگے” مجنوں کی لیلا حسین تھی اور ارطغرل کی حلیمہ خوبصورت “.
مبحت کو کامیاب کیسے بنایا جا سکتا ہے ؟ مبحت تاریکی نہ  رہے ,نور بن جاے , مبحت زوال نہ رہے عروج بن جاے , مبحت پستی نہ رہے بلکہ بلندی بن جاے .مبحت بیوفائی نہ رہے وفا بن جاے .مبحت رسوائ نہ رہے ادب و احترام بن جاے .مبحت درد نہ رہے دُعا  بن جاے .مبحت سختی نہ رہے شائیستگی  بن جاے .مبحت شکوہ , شکایت اور گلہ نہ رہے بلکہ یقینِ محکم ،ارادہ مصمم ،بن جاے .مبحت ہجر کی تنگی نہ رہے بلکہ وصل کا سکوں بن جاے .اسکا واحد اور یکتا حل یہ ہے کہ مبحت کسی ایسی ذات سے کی جاے جو لا محدود ہو .
وجہ : کیونکہ جب مبحت کسی محدود ذات سے جُڑ جاتی ہے ہے تو اُس مبحت سے جنم لینے والے احساسات, جذبات ,خیالات ,خطرات, تشنگی, امید حسرت, تصور, اداہیں ,نزاکتیںـں, شوخیاں ,بناوٹ, چاہتیں, اور خلوص سب کچھ   محدود ہی ہو جاتا ہے  اور  ان چیزوں پر عمل کر کے محب , محدود سے  محدود تر ہوتا چلا جاتا ہے اور مبحت ذلت و رُسوائ اور  درد و تکلیف کی طرف کار فرما ہو جاتی ہے ,اور پھر مبحت میں نہ یقین رہتا ہے ,نہ نور رہتا ہے , نہ عزت رہتی ہے اور دل احساس سے آری ہو جاتا ہے .اور اگر دنیا میں , زندگی میں , کائیات میں, سب سے پہلے مبحت کے لائق اور اہل کوئی ذات ہے تو وہ صرف اللہ ربِ زولجلال کی ذات ہے  جو وفا کا بدلہ وفا سے ,اور ایک ندامت کے آنسو پے ریت کے زرارت کے برابر , سمندر کی جھاگ کے برابر گناہوں کو معاف کر دیتا ہے یہ ہے مبحت کا کمال اور جمال . یہ ہے مبحت کی لامتناہیت 

حنا بٹ