سابق وزیر اعلیٰ سندھ علی محمد مہر کے ملازم پر نامعلوم کا تشدد اور گھر میں گھس کر لوٹ مار ۔ جیوے پاکستان رپورٹ

سابق وزیر اعلیٰ سندھ علی محمد مہر کے ملازم نے پولیس کو رپورٹ کرائی ہے کے نامعلوم افراد جن کو ڈاکو قرار دیا گیا ہے گھر میں گھس کر لوٹ مار کی اور علی محمد میں پر تشدد کیا واضح رہے کہ علی محمد مہر وفاقی وزیر برائے نارکوٹکس ہیں اور حال ہی میں انہوں نے وزیراعظم عمران خان کو اپنے علاقے گھوٹکی میں مدعو کیا تھا جہاں وزیراعظم سے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے بے نظیر بھٹو کا نام نکالنے کا مطالبہ بھی کیا گیا تھا جس پر سندھ میں شدید ردعمل سامنے آیا ہے ۔
وفاقی وزیر ہونے کے ناطے علی محمد مہر کی سکیورٹی نہ ہونا نہ صرف حیران ہیں بلکہ مشکوک بھی قرار دیا جا رہا ہے علی محمد مہر خود جس قبیلے کے ایک سردار ہی قبیلے نے ان کی سیکیورٹی بھی تعینات کررکھی ہے جو ہمہ وقت مستعد رہتی ہے علی محمد مہر کے گھر ڈکیتی کی خبروں پر سیاسی اور سرکاری حلقوں میں حیرت کا اظہار کیا جا رہا ہے اس حوالے سے تبصرے سامنے آرہے ہیں کہ کس طرح بعض نامعلوم لوگ وفاقی وزیر کے بیڈروم میں جا گھسے اور ان پر تشدد کیا ان کے ملازم کے مطابق ملزمان چالیس منٹ سے زیادہ کارروائی میں مصروف رہے اور جاتے ہوئے ملازموں کے موبائل فون بھی ساتھ لے گئے ۔
علی محمد مہر اپنے لائف اسٹائل کے حوالے سے مشہور شخصیت سمجھے جاتے ہیں ان کی قیمتیں جوتے اور مہنگے پرفیوم کا ہمیشہ چرچا رہا ہے ۔وہ ایک خوش اخلاق شخصیت کے طور پر بھی جانے جاتے ہیں اپنے دور وزارت اعلی میں بھی ان کے طرز زندگی کے حوالے سے متعدد باتیں کرتے کرتی رہی ۔کچھ عرصہ قبل اسلام آباد میں ایک سیاسی رہنما جو ایک مذہبی جماعت کے سربراہ بھی تھے ساتھ پیش آنے والا واقعہ اس نوعیت کا تھا جس میں ملزمان نے مذہبی رہنما کو قتل کر دیا تھا ایک وفاقی وزیر ہونے کے ناطے وفاقی اور سندھ حکومت کی جانب سے ان کی سیکورٹی کے سخت اقدامات نہ کرنا ایک سوالیہ نشان بھی ہے