مولانا فضل الرحمن کے دورہ کراچی کے ثمرات

یاسمین طہٰ
—–
۔پی ٹی آئی کے اراکین صوبائی اسمبلی نے لوکل گورنمنٹ بل کا ترمیمی مسودہ جمع کرادیا
مولانا فضل الرحمن کے دورہ کراچی کے ثمرات، ضیا الرحمن ڈپٹی کمشنر ضلع وسطی تعینات

مولانا فضل الرحمن کے دورہ کراچی اور آصف زرداری سے ملاقات کے ثمرات ظاہر ہونا شروع ہوگئے ہیں۔اور ان کے بھائی ضیا الرحمن کو ڈپٹی کمشنر ضلع وسطی تعینات کردیا گیا ہے۔ایسا محسوس ہورہا ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی نے وفاقی حکومت پر دباؤ بڑھانے کے لئے یہ تعیناتی کی ہے، اور مرکزی قیادت کے حکم پر سندھ حکومت نے صوبے کے سینئر افسران کو نظر انداز کر کے مولانا فضل الرحمن کے چھوٹے بھائی پرووینشل مینجمنٹ سروس (کے پی کے) کے گریڈ 19 کے افسر ضیا الرحمن کو ڈپٹی کمشنر ضلع وسطی تعینات کردیا ہے۔متحدہ قومی موومنٹ اورپاکستان تحریک انصاف نے تعیناتی کوسیاسی فیصلہ قراردہے،اور کہا ہے کہ سندھ حکومت نے دوسرے صوبے کے افسر کو ضلع وسطی میں ڈپٹی کمشنر لگادیاہے۔واضع رہے کہ اس سے قبل سندھ حکومت نے لاڑکانہ سے پولیس افسران کی کراچی میں تعیناتی کی تھی۔کراچی کے شہریوں کو نظر انداز کرکے سیاسی تقریاں کرنا سندھ حکومت کا وطیرہ بن چکا ہے۔سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف فردوس شمیم نقوی نے کہا ہے کہ بلدیاتی آرڈیننس 2013 نے بلدیاتی اداروں کو بے اختیار اور ناکارہ بنادیا ہے۔ اس وقت مضبوط بلدیاتی نظام صوبے کی ضرورت ہے۔پی ٹی آئی کے اراکین صوبائی اسمبلی نے لوکل گورنمنٹ بل کامسودہ تیارکیا ہے۔شہری علاقے میں میئربراہ راست منتخب کیا جائے۔ایریا کاؤنسل میں ناظم بھی براہ راست منتخب ہو پی ٹی آئی کے اراکین صوبائی اسمبلی نے فردوس شمیم نقوی کی قیادت میں لوکل گورنمنٹ بل کامسودہ سیکریٹری سندھ اسمبلی کے پاس جمع کروایا۔فردوس شمیم نے کہا کہ اگرحکومت نے اس بل کومنظورنہ کیا توعدالت جائیں گے۔یہ ایک اچھی تجویز ہے جس پر عمل درآمد سے ایک طرف تو مئیر کے انتخاب میں مبینہ لین دین کا خاتمہ ہوگا،اور دوسری جانب عوام کا منتخب کردہ مئیر براہ راست عوام کو جواب دہ ہوگا اور عوام کی جان ہر وقت اختیارات کا رونا رونے والوں سے بھی چھوٹ جائے گی۔اور شیر کے ترقیاتی کاموں کے لئے راہ ہموار ہوگی،لیکن سندھ حکومت اتنی آسانی سے یہ بل پاس نہیں ہونے دیگی اس طرح بلدیاتی ادارے خود مختار ہوجائیں گے جو سندھ حکومت کبھی نہیں چاہے گی۔ سندھ کابینہ کی جانب سے عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالنے کے لئے ایک نئی اسکیم پر کام شروع ہونے والا ہے اور نئے سیکیورٹی فیچرز کی حامل نمبر پلیٹس متعارف کروانے کی منظوری دے دی گئی ہے۔ان نمبر پلیٹس پر ریٹرو ریفلیکٹو ورق استعمال کیا جائے گا۔کابینہ کی جانب سے نمبر پلیٹس کی مینوفیکچرنگ کا کنٹریکٹ کرنے کی ایکسائیز اینڈ ٹیکسیشن کو منظوری دی گئی، کابینہ اجلاس کے دوران نئی نمبر پلیٹس نومبر تک متعارف کیے جانے کا فیصلہ بھی کی گیا۔اجلاس کے دوران وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے کہاکہ نمبر پلیٹس کی قیمت کم سے کم ہونی چاہیے تاکہ عوام پر زیادہ بوجھ نہ پڑے۔یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس وقت جب کرونا نے پہلے ہی عوام کی معاشی صورت حال ابتر کردی ہے،ایسے میں عوام کی جیبوں پر یہ نیا بوجھ ڈالنے کا کیا مقصد ہے،اگر نئی نمبر پلیٹ ناگزیر ہے تو اسے پرانی کے بدلے دینے کا فیصلہ کیا جائے،جسے عوام نے پہلے ہی کئی ہزار دے کرگاڑیوں میں لگوائی تھی اورمراد علی شاہ کے علم میں یہ بات نہ ہو کہ سوک سینٹر سے نمبر پلیٹ حاصل کرنا ایک معرکہ سر کرنے سے کم نہیں۔سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی میں جعلی ڈگریوں اور سیاسی بھرتیوں کا ایک اور بڑا اسکینڈل سامنے آیا ہے،جس سے کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کو سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی میں تبدیل کرنے کے مقاصد بھی سامنے آگئے ہیں،کہا جاتا ہے کہ ادارے کو مبینہ سیاسی بھرتیوں کیلئے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی میں تبدیل کیا گیا،گریڈ 16 اور گریڈ17 کے اہم منافع بخش عہدوں پرجعلی بھرتیوں کے باعث ادارے کو مکمل طور پر تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا گیا،صوبائی محکمہ انسداد رشوت ستانی نے ایس بی سی اے میں جعلی بھرتی کے الزام پر25افسران کی ڈگریوں اور مکمل سروس کا ریکارڈ طلب کرلیا ہے،اینٹی کرپشن کی تحقیقات کے نتیجے میں ایس بی سی اے کے افسران اور منظور کئے گئے نقشے متنازعہ ہوکر رہ گئے۔ صوبائی محکمہ انسداد رشوت ستانی(اینٹی کرپشن) نے ایس بی سی اے میں بوگس دستاویزات پر جعلی بھرتیوں کی شکایات پر ادارے کے25 افسران کیخلاف تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔ نیپرا کی طرف سے قائم کی گئی تحقیقاتی کمیٹی نے کراچی میں ہونے والی بدترین لوڈ شیڈنگ کا ذمہ دار کے الیکٹرک کو قرار دیدیا ہے۔وزیر توانائی سندھ امتیاز احمد شیخ نے منگل کونیپرا کے زیر اہتمام زوم پر منعقدہ عوامی سماعت میں شرکت کی جس میں سندھ میں بجلی کی طویل لوڈ شیڈنگ, زائد بلنگ،پرانے ٹرانسفارمرز اور دیگر متعلقہ مسائل پر بات ہوئی۔ اس موقع پر وزیر توانائی سندھ نے کہا کہ سندھ کے تمام ڈویژنز میں گزشتہ کئی سالوں سے ٹرانسفارمر تبدیل نہیں کیے گئے۔انہوں نے کہا کہ ٹرانسفارمر کی مرمت کے لیے حیسکو اور سیپکو کا عملہ عوام کو مختلف طریقوں سے تنگ کر رہا ہے۔کراچی میں ہونے والی بدترین لوڈ شیڈنگ کے بعد نیپرا نے ایک تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی تھی جس نے اپنی رپورٹ نیپرا کو جمع کرادی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کے الیکٹرک نے بجلی کی پیداوار کے لیے بامقصد سرمایہ کاری نہیں کی۔ بجلی کے بحران کی وجہ ایندھن کی کمی قرار دینا غلط ہے۔ تحقیقاتی کمیٹی کی سفارشات پر نیپرا نے کے الیکٹرک کو شوکاز نوٹس جاری کردیاہے۔واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں کراچی بدترین لوڈشیڈنگ کا شکار ہے۔اور وفاقی حکومت کی مداخلت کے بعد بھی صورتحال میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی۔ نیپرا نے غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ پر کے الیکٹرک کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے لائسنس معطل کرنے کاعندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ 15 روز میں شوکاز نوٹس کا جواب نہ ملا تو سمجھا جائے گا کہ کمپنی کے پاس کوئی جواب نہیں۔نیپرا نے اپنی چارج شیٹ میں کہا ہے کہ کے الیکٹرک بن قاسم پاور پلانٹ کے لئے 1 لاکھ 20 ہزار ٹن فرنس آئل ذخیرے کا انتظام نہیں کیا، اور پلانٹ سے کم بجلی پیدا کی گئی، مشینوں کی مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کے باعث پلانٹ کئی بار بند رہا،کے الیکٹرک مناسب مینٹی ننس سے250 میگاواٹ تک اضافی بجلی بنا سکتا تھا، لیکن بروقت مرمت نہ ہونے سے کراچی والوں کو بدترین لوڈشیڈنگ کاسامنا کرنا پڑا۔ کے الیکٹرک نے سوئی سدرن کے ساتھ گیس فراہمی کا دیرپا معاہدہ نہ کیا، متعدد پاورپلانٹس کو متبادل فیول پر بھی نہیں چلایا گیا۔پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے وفاق پر وار جاری ہیں انھوں نے نیب کو غیر آئینی وغیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا ہے جب سلیکٹڈ نیب کے ذریعے حکومتیں بناتے ہیں تو پھر معیشت اور جمہوریت کا یہی حال ہوتا ہے۔سپریم کورٹ نے اپنے تحریری فیصلے میں کہہ دیا ہے کہ نیب کا ادارہ پولیٹیکل انجینئرنگ اور سیاسی مخالفین کے لئے استعمال ہوتا ہے، سپریم کورٹ کے تحریری فیصلے کے بعد چیئرمین نیب کے پاس اس عہدے پر رہنے کا کوئی جواز نہیں۔اس فیصلے سے ہمارا نیب کے کا لے قانون کے بارے میں موقف سچ ثابت ہو گیا ہے۔ پارلیمنٹ کو اس پر فوری ایکشن لینا چاہیے اور اسے ختم کرنا چاہیے اور اسٹیک ہولڈرز کو مل کر کام کرنا چاہیے، ایسا قانون ہونا چاہیے جس میں سب کا بلا امتیاز احتساب ہو اور ایسی قانون سازی ہو جس سے واقعی کرپشن ختم ہو۔