بھارتی جاسوس اور فروغ نسیم

کسی کو اچھا لگے یا برا لیکن سچ تو یہ ہے کہ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو پاکستان کا ایک قومی مسئلہ بن چکا ہے۔ اگر یہ قومی مسئلہ نہ ہوتا تو صدر عارف علوی اس جاسوس کو ہائی کورٹ میں اپیل کا حق دلوانے کے لئے ایک خصوصی صدارتی آرڈیننس جاری نہ کرتے۔

عمران خان کی حکومت کے وزراء کا دعویٰ ہے کہ صدارتی آرڈیننس جاری کرنا ایک مجبوری تھی کیونکہ عالمی عدالت انصاف نے پاکستان کو ہدایت کی تھی کہ کلبھوشن یادیو کی سزائے موت پر نظرثانی کی جائے۔
hamid mir urdu columnist urdu writer
عمران خان کی حکومت کے دو سال میں تین مرتبہ وزیر قانون کا حلف اٹھانے والے سینیٹر فروغ نسیم نے تو یہاں تک کہا کہ اگر پاکستان کی طرف سے کلبھوشن یادیو کو اپیل کا حق دینے کے لئے صدارتی آرڈیننس جاری نہ کیا جاتا تو بھارت اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے ذریعے پاکستان پر پابندیاں لگوا دیتا لیکن ہم نے صدارتی آرڈیننس جاری کرکے بھارت کے ہاتھ کاٹ دیے۔

جناب فروغ نسیم کا یہ بیان سن کر مجھے ان کی وہ پریس کانفرنس یاد آ جاتی ہے جس میں وہ اپنے محسن الطاف حسین کے لئے بادِ نسیم کا جھونکا بنے اور انہوں نے بانی متحدہ قومی موومنٹ کو دورِ جدید کا نیلسن منڈیلا قرار دے ڈالا۔

جس شخص کو پاکستان کی عدالتوں نے دہشت گرد قرار دیا اسے فروغ نسیم نے نیلسن منڈیلا قرار دیا اور انہوں نے آج تک اپنے اس دعوے کی تردید نہیں کی۔ لہٰذا جب وہ بھارت کے ہاتھ کاٹ ڈالنے کی بات کرتے ہیں تو نجانے کیوں ہمارے موٹے دماغ میں ایک سوال باقاعدہ چیخ بن کر ابھرتا ہے کہ جس سلامتی کونسل کی پابندیوں سے آپ ہمیں ڈرا رہے ہو اس سلامتی کونسل کی غیرمستقل رکنیت کے لئے آپ کی حکومت نے بھارت کی حمایت کیوں کی؟

اس سوال کا بھی ایک ٹیکنیکل سا جواب فروغ نسیم کے پاس موجود ہوگا لیکن پاکستان کی سیاست میں ٹیکنیکل معاملات کو پولیٹیکل معاملہ بنانے کی روایت کو فروغ دینے میں فروغ نسیم کی حکومت نے بڑا بھرپور کردار ادا کیا ہے اور شاید اسی لئے پاکستان پیپلز پارٹی کے نوجوان چیئرپرسن بلاول بھٹو زرداری نے بھی کلبھوشن یادیو کے بارے میں کچھ اہم ٹیکنیکل سوالات اٹھا دیے ہیں جن کا حکومت کی طرف سے کوئی تسلی بخش جواب نہیں آیا۔

بلاول پوچھتے ہیں کہ کلبھوشن یادیو کے بارے میں صدارتی آرڈیننس مئی 2020ء میں جاری کیا گیا اور قانون کے مطابق اس آرڈیننس کو جون 2020میں شروع ہونے والے بجٹ اجلاس میں پیش کرنا ضروری تھا لیکن حکومت نے اس آرڈیننس پر ایک پُراسرار خاموشی کیوں اختیار کی؟

بلاول کے اس سوال کو سیاست سے ہٹ کر ذرا ٹیکینکل انداز میں پرکھنے کی ضرورت ہے۔ زیر نظر صدارتی آرڈیننس 20مئی 2020کو جاری کیا گیا اور 29مئی 2020کو اسے گزٹ آف پاکستان میں شائع بھی کردیا گیا لیکن حکومت نے اسے 23جولائی کو قومی اسمبلی میں پیش کیا جس پر اپوزیشن نے اسے کلبھوشن یادیو کے لئے ایک این آر او یعنی قومی مفاہمتی آرڈیننس قرار دے دیا اور اس آرڈیننس کو اسمبلی سے منظور نہ ہونے دیا۔

بلاول بھٹو زرداری نے دوسرا اہم سوال یہ اٹھایا کہ صدارتی آرڈیننس جاری ہونے کے باوجود کلبھوشن یادیو نے فوجی عدالت سے دی جانے والی سزائے موت کے خلاف ہائی کورٹ میں کوئی اپیل دائر نہیں کی تو حکومت پاکستان نے خود ہی کلبھوشن یادیو کے لئے وکیل کا بندوبست کرنے کا فیصلہ کیوں لیا؟

ان دونوں اہم سوالات کے جواب میں حکومتی وزراء کا کہنا ہے کہ کلبھوشن یادیو کے معاملے میں عمران خان کی حکومت جو کچھ بھی کر رہی ہے وہ عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کاتقاضا ہے لیکن اپوزیشن جماعتیں اس معاملے پر سیاست کر رہی ہیں۔ اپوزیشن کو سیاست کا طعنہ دینے والے بھول گئے کہ جب نواز شریف وزیراعظم تھے تو یہی تحریک انصاف اپنے لب و لہجے پر جذبہ حب الوطنی طاری کرکے بڑے پرجوش انداز میں انگلیاں لہرا کر اور آنکھیں مٹکا کر پوچھا کرتی تھی کہ بتائو تمہاری زبان سے کلبھوشن یادیو کی مذمت میں الفاظ کیوں نہیں نکلتے؟

عمران خان کے جلسوں میں یہ نعرہ بھی بڑا پاپولر تھا۔ ’’مودی کا جو یار ہے، غدار ہے غدار ہے‘‘۔ مکافات عمل دیکھئے کہ صر ف دو سال کے بعد عمران خان وزیراعظم ہیں اور آج کی اپوزیشن انہیں مودی کا یار قرار دے رہی ہے حالانکہ وہ کئی دفعہ مودی کو نازی ہٹلر کا نیا روپ قرار دے چکے ہیں۔

اسلام آباد کی سازشی فضا میں یہ سرگوشیاں سنائی دے رہی ہیں کہ کلبھوشن یادیو کے معاملے پر موجودہ حکومت کو کسی پُراسرار دبائو کا سامنا ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ چین کے ہاتھوں لداخ میں بھارت کی ٹھکائی کے بعد پاکستان کلبھوشن یادیو کے معاملے پر جارحانہ رویہ اختیار کرتا۔

پاکستان نے نہ صرف کلبھوشن کو اس کے خاندان سے ملاقات کی اجازت دی بلکہ بار بار قونصلر رسائی بھی دی لیکن اس کے جواب میں بھارت کی طرف سے مسلسل ایک ہی دھمکی دہرائی جاتی رہی کہ آزاد کشمیر پر قبضہ کرلیا جائے گا۔ 13جولائی کو یومِ شہدائے کشمیر منایا جاتا ہے لیکن پاکستان نے 13جولائی کو افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے لئے واہگہ بارڈر کھولنے کا اعلان کیا اور ساتھ ہی ساتھ کلبھوشن کو تیسری مرتبہ قونصلر رسائی دینے کا اعلان کیا۔ کیا بھارت کی طرف سے پاکستان کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کےلئے تہاڑ جیل میں قید کشمیری رہنمائوں کے لئے کسی سہولت کا اعلان کیا گیا؟

ونگ کمانڈر ابھی نندن کی رہائی سے لے کر کلبھوشن یادیو کے لئے جاری ہونے والے صدارتی آرڈیننس تک پاکستان کی پالیسی کو اگر معذرت خواہانہ کہنا اچھا نہ لگے تو اسے اعتدال پسندانہ بھی نہیں کہا جا سکتا۔ یہ کسی ایٹمی طاقت کی پالیسی نہیں ہے۔ کلبھوشن کے معاملے پر فروغ نسیم کے موقف کو آنکھیں بند کرکے تسلیم کرنا بہت مشکل ہے کیونکہ کئی ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ بھارتی جاسوس کے پاس فوجی عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل کا حق پہلے سے موجود ہے۔ اس معاملے پر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر جناب اکرم شیخ کا موقف بڑا اہم ہے۔

انہوں نے کلبھوشن کے معاملے پر عالمی عدالت انصاف میں خود بیٹھ کر ساری کارروائی سنی۔ وہ کہتے ہیں عالمی عدالت انصاف کے فیصلے میں یہ کہیں نہیں کہا گیا کہ حکومت پاکستان کلبھوشن کےلئے کوئی نئی قانون سازی کرے بلکہ وہاں تو پاکستان کے اٹارنی جنرل انور منصور نے پشاور ہائی کورٹ کے جسٹس وقار سیٹھ کا فیصلہ یہ کہہ کر پیش کیا تھا کہ ہماری ہائی کورٹ نے فوجی عدالت کا ایک فیصلہ معطل کردیا تھا اور فوجی عدالت کے فیصلے پر نظرثانی کا حق موجود ہے۔ یہ وہی وقار سیٹھ ہیں جن کے مشرف کے خلاف فیصلے پر فروغ نسیم نے انہیں ذہنی مریض قرار دیا تھا۔

اکرم شیخ کہتے ہیں کہ عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کی غلط تشریح کی جارہی ہے اور نہ ہی پاکستان اس فیصلے پر عملدرآمد کا پابند ہے۔ بہتر ہوگا کہ فروغ نسیم اور اکرم شیخ میڈیا کی موجودگی میں آمنے سامنے بیٹھ جائیں اور عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کی اصل حقیقت کو سامنے لائیں۔ اکرم شیخ تو کسی بھی وقت کہیں بھی وزیر قانون کو چیلنج کرنے کے لئے تیار ہیں لیکن فروغ نسیم کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا
Hamid-Mir-Jang