سفارت خانوں اور قونصل خانوں میں تعنیات ہونے والے افسران کی زندگی خانہ بدوشی کی زندگی سے کم نہیں، تین سال،

سفارت خانوں اور قونصل خانوں میں تعنیات ہونے والے افسران کی زندگی خانہ بدوشی کی زندگی سے کم نہیں، تین سال، تین سال سے زائد، تین سال سے کم ایک ملک میں قیام، اسکے بعد پھر کسی اور ملک یا اپنے ملک واپسی، بچوں کی تعلیم کا حرج جو مدرسوں کی تبدیلی اور ماحول کی تبدیلی کی وجہ سے ہوتا ہے، ہر ملک میں نئے دوستوں میں اپنے قریب ترین دوستوں کی تلاش جو انکے کام کو سہل بنانے میں مدد دیں،یہ تمام تکلیف دہ کام ہیں مگر وہ نہائت جانفشانی سے اپنی ذمہ داریوں کو بہ حسن خوبی نبھاتے ہیں، انکی محنت سے کمیونٹی میں محبت پیدا ہوتی ہے ، جو محنت نہ کرے کمیونٹی اور ملک کی دی گئی ذمہ دریوں کو بہ حسن خوبی نہ نبھائے اسکے جانے کی کمیونٹی
نہ صرف کوششیں کرتی بلکہ دعا بھی کرتاہے ، جدہ اور سعودی عرب میں بارہا مواقع پر دونوں کام ہوتے رہے ہیں خدمت کرنے والوں اور دعائیں، تعریفیں لینے والوں کی تعدا د میں نے گزشتہ تیس سال میں زیادہ دیکھی ہے۔۔ گزشتہ دنوں ایسے ہی محنتی اور دعائیں لینے والے افسر ارشد منیر جو یہاں پریس قونصلر کے عہدے پر تعنیات تھے انکا تباد لہ ہوا ، پاکستانی صحافیوں کی معروف اور مستند تنظیم ”پاکستان جنرنلسٹ فورم“ نے انکے اعزاز میں عشایہ کا اہتمام کیا ، عشایہ قونصل جنرل خالد مجید نے بطور خاص شرکت کی، انہوں نے اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا آج کے دور میں صحافت کو بڑی اہمیت حاصل ہے اسکے ضروری ہے کہ اسے پیشہ ورانہ طور پہ استعمال ہونا چاھ نیز تعلیم اور حالات پر نظر رکھنا قونصلیٹ اور صحافیوں میں تعاون سے کمیونٹی کے معاملات کو بہتر کرنے اور پاکستان اور سعودی تعلقات میں مزید مضبوطی پیدا ہوتی ہے۔، جدہ کے قونصل خانہ میں پریس قونصلر ارشد منیر کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں انکار نہیں کیا جاسکتا، جب میں نے جدہ میں اپنی ذمہ داری سنبھالی تو ارشد منیر مجھے یہاں کی لاکھو کی تعداد میں مقیم تارکین کے
مسائل اور اسکے حل کے صائب مشورے بھی دیتے رہے جسے پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے اصل سفارتی کامیابی تھی، قونصل جنرل خالد مجید نے کہا کہ ارشد منیر کی کورونا وائرس کے دوران دی گئی خدمات اورتعاون فراموش نہی کی جاسکتی، وہ جہاں بھی جائیں گے جد کی کمیونٹی کے دلوں میں زندہ رہینگے اس موقع پر قونصل رابطہ ابو نصر شجاع، قونصلرمحمد خالد عظیم، پی جے ایف کے عہدیداران اور ممبران نے شرکت کی۔
تقریب سے امیر محمد خان چیئرمین پی جے ایف نے تمام مہمانوں کا خیرمقدم کیا اور پی جے ایف اور ارشد منیر کے مابین قریبی روابط پر روشنی ڈالی۔ اور انھیں جدہ میں اپنے 3 سال سے زائد تعیناتی کی کامیاب تکمیل پر مبارکباد پیش کی۔انہوں نے پریس سیکشن کی خدمات کو بہتر بنانے، سعودی اور پاکستانی میڈیا ہاؤسز کے مابین تعلقات بڑھانے میں ان کی کاوشوں کی تعریف کی۔ عرب نیوز سے تعلق رکھنے والے سینئر اور مشہور صحافی سراج وہاب نے اس موقع پراپنی بات چیت میں کہا ارشد منیر کے آمد سے قبل یہاں صحافیوں کا قونصلیٹ سے رابطہ ختم ہوگیا تھا ارشد منیر کی آمد انکے بھرپور تعاون سے صحافیوں کو اپنی پیشہ ورآنہ ذمہ داریوں کو بہتر انداز میں نبھانے کا موقع ملا اور صحافیوں کے خاندان میں شامل ہوگئے، سراج وہاب نے کہا کہ ارشد منیرکے دوستانہ طرز عمل نے پاکستان،اور سعودی عرب کے تعلقات کی مضبوطی کیلئے صحافیوں کو معلومات بہاؤ میں فروغ دیا۔دیگر صدر شاہد نعیم نے منظوم خراج تحسین پیش کیا جبکہ، جنرل سکریٹری جمیل راٹھور،ایکزیکیٹیو ممبران سید مسرت خلیل، اسد اکرم، معروف حسین، مصطفیٰ خان، ارسلان ہاشمی، محمد عدیل، محمد امانت اللہ اور یحییٰ اشفاق نے بھی ارشد منیر کے حسن تعاون کا شکریہ ادا کیا اور مستقبل میں ان کی کامیابی کی دعا کی اس موقع پر شرکا ء کے فرمائش پر اپنی خوبصورت آواز میں اشعار پیش کئے ارشد منیر نے تمام شرکاء اور پی جے ایف کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ میں اور میری اہل خانہ اپنے قیام کی اچھی یادوں کو ساتھ لیکر جا رہے ہیں۔ میں سعودی عرب کے امن اور اس کے عوام کی خوشحالی کی دعا گو ہوں ساتھ ہی دوران قیام ”پاکستان جرنلسٹس فورم” جو ایک تجربہ کار وشفاف صحافت کا امین ہے، انکے بھرپور تعاون کا ممنون ہوں، آخر میں پی جے ایف کے ممبروں نے قونصل (پریس) ارشد منیر کو خدمات کے اعتراف میں یادگاری شیلڈ پیش کی گئی