خاکی وردی سے محبت

خاکی وردی سے محبت
قسط (١)
بریگیڈئیر ر بشیر احمد آرائیں

بوسنیا کے لوگوں کی پاک فوج سے محبتیں آج بھی زندہ ہیں اور رہتی دنیا تک تذکرے ہوتے رہینگے ۔ 15 جولاٸی 1995 میں Visca Camp Tulza پہنچا اور پاک بٹالین کے 304 فیلڈ ہاسپیٹل کی کمانڈ سنبھالی ۔ اب تک بوسنیا کے شہروں کے شہر اجڑ چکے تھے ۔ جگہ جگہ بےگھر لوگ سڑک کنارے شامیانے لگاٸے بیٹھے یونیسیف اور یو این کے رحم و کرم پر تھے ۔ کسی بھی شامیانے یا ٹینٹ میں جاکر پوچھتے تو اس میں چھوٹے بچوں کے ساتھ بیٹی بہو اور خود ماں یا تو بیوہ ہوتیں یا انکے خاوند باپ یا بیٹے بوسنین آرمی میں قومی بقا کی جنگ لڑنے جاچکے تھے ۔ کسی کیمپ میں 12 سال سے بڑا کوٸی بچہ نظر نہیں آتا تھا یا تو وہ قتل ہو گٸے تھے یا فوج میں شامل تھے ۔ ننھی خوبصورت بچیوں اور بچوں کی حالت زار دیکھ کر ایسے لگتا جیسے کوٸی پھول کلیوں کو کیچڑ میں پھینک گیا ہو۔

میرے ہاسپیٹل میں جو لڑکیاں کام کررہی تھیں وہ سب تعلیم یافتہ اور اکثر میڈیکل کی طالبہ تھیں جو پچھلے دوسال سے تعلیمی ادارے بند ہونے کی وجہ سے رل گٸی تھیں ۔ ہم پاکستانی لوگ یورپین لڑکیوں کو انکے لباس اور کلچرکی وجہ سے اچھا نہیں سمجھتے مگر یہاں تو سب مسلمان تھیں اور اکثر نماز بھی پڑھتیں ۔ میں نے ایک آدھ دفعہ کہا تو انہوں نے اپنے لباس بھی بہتر کرلیے ۔

5 فٹ 10 انچ لمبی میڈیکل کی طالبہ لیلیٰ کسی بھی کام سے میرے آفس آتی تو بات کرتے کرتے اسکی آنکھیں نم ہو جاتیں اور وہ بات ختم کرتے ہی فوراً اٹھ کر چلی جاتی ۔ میں نے اپنی ترجمان لڑکی سے پوچھا تو پتہ چلا کہ لیلیٰ کا باپ اور بڑا بھاٸی دونوں جنگ میں شہید ہو چکے ہیں اور اب یہ اکیلی اپنی ماں کے ساتھ رہتی ہے ۔ اسکا منگیتر بھی میڈیکل کا طالبعلم تھا مگر اب یونیسیف میں الیکٹریشن کا کام کرتا ہے ۔ میں نے لیلیٰ سے اس کی فیملی کے بارے میں خود بھی پوچھا تو روتے ہوٸے سب کچھ بتایا ۔ کہنے لگی آپ ہم سے بہت شفقت سے کام لیتے ہیں ۔ بس ایک اجازت اور دے دیں کہ میں آپکو سر کی بجاٸے ماٸی برادر کہہ لیا کروں تاکہ اپنے شہید بھاٸی کی یاد کم آیا کرے اور میں خود کو تنہا نہ سمجھوں ۔ میں نے اجازت دیدی کہ اوکے آج سے تم مجھے بھاٸی کہہ لیا کرو مگر ایک شرط ہے کہ مجھے اپنے منگیتر سے بھی ملواو ۔

اب لیلیٰ کی آنکھوں میں آنسو ذرا کم نظر آتے تھے ۔ ایک دن اسکا منگیتر مجھے ملنے آگیا ۔ المیر بہت اسمارٹ قدآور اور نفیس نوجوان تھا دونوں کو اکٹھا دیکھ کر لگا جیسے اللہ تعالیٰ نے انکو ایک دوسرے کے لٸے ہی بنایا ہے ۔ میں نے المیر سے کہا کہ آپ اب شادی کرلو ماں بیٹی کو سہارا مل جاٸے گا ۔
المیر نے کہا نہیں ابھی نہیں کیونکہ میرے پاس نہ تو شادی کے اخراجات کیلٸے فنڈز ہیں نہ میں دعوت کرنے کے انتظامات کرسکتا ہوں ۔ میں نے بغیر سوچے سمجھے بڑے بھاٸی کی طرح سب انتظامات کرنے کی آفر دے ڈالی ۔ دونوں کی خوشی دیکھنے سے تعلق رکھتی تھی مگر لیلیٰ نے ایک شرط رکھ دی کہنے لگی میں شہید فوجی کی بیٹی اور شہید فوجی کی بہن ہوں بس آپ بھاٸی بن کر پاکستان آرمی کی یونیفارم میں اور پاک بٹالین یعنی 18 پنجاب رجمنٹ کے بینڈ کے ساتھ شریک ہوں تو مجھے اور کچھ نہیں چاہیے ۔ نہ کوٸی دعوت نہ کوٸی فنکشن ۔

ہمارے ہاسپیٹل میں ڈھیروں وافر راشن تھا ۔ دوچار سو لوگوں کے کھانے کا بندوبست کرنا بھی کوٸی مشکل کام نہ تھا ۔ کسی ہوٹل یا کلب میں جگہ مجھے بلامعاوضہ مل سکتی تھی مگر لیلیٰ کی دونوں ڈیمانڈ خاصی مشکل تھیں ۔ یوناٸٹڈ نیشن مشن میں ہوتے ہوٸے پاک آرمی کی یونیفارم پہن کر بوسنین لڑکی کی شادی میں شرکت اور پنجاب رجمنٹ کے بینڈ کا تزلا شہر کی سڑکوں پر شادی پر پرفارم کرنا پاک بٹالین کے گروپ کمانڈر کرنل سید قاسم عباس کی اجازت کے بغیر ممکن نہ تھا ۔ کرنل قاسم عباس انتہاٸی دیندار اور نفیس افسر تھے جو بعد میں برگیڈیر رینک میں ریٹاٸر ہوٸے ۔ میں دوسرے دن دوردا وچ کیمپ میں ان سے جا ملا اور انہیں ساری بپتا سناٸی ۔ انہوں نے کہا جاو تمہیں ہر چیز کی اجازت ہے ۔ اس بچی کی شادی میں دوسرے افسر بھی شریک ہوسکتے ہیں مگر صرف تم خاکی یونیفارم پہنو گے ۔ باقی سب افسر یو این مشن والی یونیفارم پہنیں گے ۔ بینڈ کی بھی اجازت مل گٸی ۔

میں نے صبح ہاسپیٹل کے کاریڈور میں لیلیٰ کو باقی لڑکیوں کے سامنے بتایا کہ جب چاہو اپنی شادی کی تاریخ رکھ لو ۔ انتظام ہم کریں گے ۔ پاکستانی بینڈ اور ہاسپیٹل کے باقی تمام افسر بھی شریک ہونگے اور میں خاکی وردی میں بھاٸی بن کر ساتھ بھی رہونگا ۔ تمام لڑکیاں خوشی اور حیرانگی سے سب کچھ سن اور دیکھ رہی تھیں ۔ لیلیٰ پہلے تو چہک چہک کر سب لڑکیوں سے گلے ملتی رہی اور پھر اچانک کاریڈور میں ہی زمین پر بیٹھ کر رونے لگی ۔ میں چپ چاپ اپنے آفس میں واپس آ کر بیٹھ گیا

آفس میں دیر تک بیٹھا سوچتا رہا کہ رب کریم نے عورت ذات کو شاید ایک ہی مٹی سے گوندھا ہے ۔ وہ دنیا کے کسی بھی کونے میں جنم لے ۔ جو بھی زباں بولے ۔ رنگ و روپ جیسا بھی ہو ۔ شکل و صورت کیسی بھی ہو ۔ دل ایک جیسا ہی پاتی ہے ۔ ماں ہو ۔ بیٹی ہو ۔ بہن ہو یا بیوی ۔ مرد سے ہر رشتے میں محبت اور وفا کا پیکر ۔ مجھے اندازہ تھا کہ اس خوشی میں لیلیٰ اپنے شہید بھاٸی اور باپ کو یاد کرکے رو رہی تھی ۔ 15 منٹ بعد میں دوبارہ باہر آیا تو وہ وہیں کاریڈور میں میری سرکاری ترجمان عامرہ کے ساتھ کھڑی تھی ۔ مجھے دیکھا تو اچھی طرح آنسو صاف کرکے مسکراتی ہوٸی بنا کچھ کہے وارڈ کی طرف چلی گٸی۔

دوسرے دن اس نے بتایا کہ نکاح اور شادی کیلٸے 15 دن بعد کی تاریخ رکھی ہے ۔ میں نے کلرک کو بلاکر کہا کہ لیلیٰ کو 20 دن کی چھٹی کا لیٹر دے دو ۔ میں نے اور میجر سرفراز جنجوعہ (اب برگیڈیر ہے) نے دعوت کی جگہ کا انتخاب کیا ۔ ہاسپیٹل کے راشن اسٹور سے ضرورت کے سامان کا حساب بنایا ۔ بینڈ ماسٹر کو سارے راستے اور دعوت کی جگہ بھی دکھاٸی ۔ شرکت کرنے والے پاک آرمی کے افسروں کی لسٹ تیار ہوٸی تو میں کرنل سید قاسم عباس سے اجازت لینے پہنچا ۔ میری خوشی اس وقت دوبالا ہو گٸی جب انہوں نے کہا کہ بشیر تم لسٹ میں میرا نام بھی شامل کرلو ۔ میں بھی کسی اسٹاف آفیسر کیساتھ شرکت کرنے آونگا ۔

میری جیپ پر دو جھنڈے لہراتے تھے ۔ایک یوناٸٹیڈ نیشن کا اور دوسرا ریڈکراس کا ۔ آج میں نے ریڈکراس کے جھنڈے کی جگہ پاکستان کا جھنڈا لہرایا اور خاکی یونیفارم پہنی ۔ باقی سب آفیسرز یو این یونیفارم میں رہے ۔ سب لوگ تین جیپوں میں ڈھیروں پھول لٸے تزلہ کینٹن میونسپل آفس پہنچے ۔ بلڈنگ کے باہر بن بلاٸے لوگوں کا جم غفیر دیکھنے سے تعلق رکھتا تھا ۔ 18 پنجاب رجمنٹ کا بینڈ پاکستانی دھنیں بجا رھا تھا اور لوگ * پاکستان دوبھرو ۔ پاکستان دوبھرو* (پاکستان زندہ آباد) کے نعرے لگا رہے تھے ۔ ہم جیپوں سے اترے تو ہمارا استقبال تالیوں سے ہوا ۔ یہ سب وہ لوگ تھے جنکا اس شادی سے کوٸی تعلق نہ تھا بس پاکستانی فوج کو خراج تحسین کیلٸے جمع تھے ۔ بلڈنگ کے اندر پہنچ کر میں دلہن بنی لیلیٰ کے قریب گیا اور آہستہ سے کہا کہ دیکھ لو برادر نے خاکی وردی بھی پہنی ھے اور باہر دلہا دلہن کے استقبال کیلیے پاکستانی بینڈ بھی بج رہا ہے ۔آج روٸیں تو تمہاری خیر نہیں ۔

دعوت کی جگہ اس بلڈنگ سے صرف ایک فرلانگ دور تھی ۔ نکاح کے رجسٹر پر دستخط ہوچکے تو ہم سب نٸے شادی شدہ جوڑے کے ساتھ باہر نکلے ۔ دلہا دلہن کی کار کے آگے پیچھے ہماری فوجی جیپیں تھیں اور آگے آگے فوجی بینڈ چل رہا تھا ۔ رات کے وقت بھی جنگ سے تنگ لٹے پٹے افسردہ چہروں پر خوشیاں نظر آرہی تھیں ۔ ہم نے ایک فرلانگ کا فاصلہ ڈیڑھ گھنٹے میں طے کیا ۔ پورا بازار روشن تھا دلہن کے قافلے کے علاوہ تمام ٹریفک رک چکی تھی ۔ لوگ دوکانوں اور ہوٹلوں سے باہر نکل کر تالیاں بجا رہے تھے اور جگہ جگہ گاڑیوں پر پھول پھینکے جارہے تھا ۔ بلند و بالا عمارتوں کی بالکونیوں سے ”پاکستان دوبھرو ۔ پاکستان دوبھرو“ کی آوازیں ہمیں حیران کر رہی تھیں ۔

دعوت کی جگہ جاکر رکے ۔ میں جیپ سے اتر کر سب کے ساتھ دولہا دلہن کے ہال میں داخل ہونے کا انتظار کر رہا تھا تو میرے ہاسپیٹل میں کام کرنے والی تین چار لڑکیوں نے آ گھیرا ۔ آنکھوں میں آنسو لٸے سب نے یک زبان کہا تھینک یو سر ۔ میں نے ہنستے ہوٸے پوچھا کہ اب کیا ہوا رونا کس بات کا ہے ۔ کہنے لگیں سر لیلیٰ جیسی ہماری قسمت کہاں ۔ جب ہماری شادیاں ہونگی تو نہ کوٸی خاکی وردی والا برادر ہوگا اور نہ یہ دھنیں بجیں گی ۔ یہ سب سوچ کر روٸیں نہ تو کیا کریں ۔
اب میں انکو کیسے سمجھاتا کہ لیلیٰ تو شہید فوجی کی بیٹی اور بہن ہے اور ہم خاکی وردی والے اپنے شہیدوں کی بیٹیوں کو اسی شان سے رخصت کرتے ہیں ۔ پاکستان آکر دیکھ لو ۔
(جاری ہے)