*عید قربان وائرس اور گوشت کا استعمال

*عید قربان وائرس اور گوشت کا استعمال

تحریر
شیف سبین فاطمہ
عید قربان کی آمد آمد ہے اور عید کی مناسبت سے ہر گھر میں پکوان تیار کئے جاتے ۔عید قربان دراصل اس عظیم قربانی کی یاد دلاتی ہے جو اللہ کے نبی ابراہیم علیہ السلام نے رب کی حکم کی تعمیل میں دی
قربانی کا ڈر اصل فلسفہ یہ ہے عید کے موقع پر ہر شخص اس کے فیوض و برکات سے استفادہ حاصل کرے ۔قربانی تو جانور کے خون لا پہلا قطرہ زمین پر گر نے سے قبل قبول ہو جا تی ہے مگر اس کا گوشت کی تقسیم تین حصوں میں ہی کیا جائے اور حق داروں تک پہنچانا بھی ضروری ہے

گوشت کے مختلف حصوں کے مختلف مزے دار کھانے سر فہرست ہیں
۱۔ مقدم گولے کا گوشت حلیم ، بہاری کباب ، بارچے والا ، بغیر رگوں اور بغیر پٹوں والا صاف گوشت۔
۲۔ سفیدہ کا گوشت وائٹ بہاری شاہی بہاری گولے کے اوپر والا گوشت ہے یہ۔
۳۔بونگ کا گوشت نہاری اور دیگر مزے دار کھانے تیار کیے جاتے ہیں۔


۴۔جائنٹ کا گوشت لیگ اور دستی کا بھی گوشت کہلاتا ہے مزے دار کنہ تیار ہوتا ہے
۵۔ سینے اور کمر کا گوشت فیٹ سے بھرپور ہڈیوں کے ساتھ مزے دار کورمہ بنایا جاتا ہے ۔
۶۔مٹن گوشت کی چامپے یا ربز بنانے کے لئے اور اس کے علاوہ بہت سے گوشت کے مختلف حصوں کے مختلف کھانے تیار کیے جاتے ہیں ۔ ہاں اس میں ایک اور انڈر کٹ جس سے بیف چلی چائنیز ، منگولین بیف کرسپی بیجنگ بیف جتنا بھی چائنیز میں استعمال ہوتا ہے وہ یہ ہے۔ اس میں سینوچ بھی انڈر کٹ سے ہی تیار کیے جاتے ہیں ۔ہر انسان اور خصوصا مسلمان کو اپنی خوراک کا خاص خیال رکھنا چائیے، تاکہ وہ معاشرے کا صحت مند فرد بنے ۔ جو غذا ہم استعمال کرتے ہیں، اس کے فوائد اور نقصانات پر نظر رکھنا ایک صحت مند معاشرے کیلئے ضروری ہے۔ انسانی غذا، سبزیوں، پھلوں، اجناس اور لحمیات کا استعمال بنیادی ہوتا ہے۔ لحمیات میں گائے بکرے کا گوشت مچھلی اور پولٹری قابل ذکر ہیں ۔آجکل گوشت کا حصول عام انسان کی قوت خرید میں ممکن نہیں ہے، عید الضحی (عید قربان)پر گوشت کیونکہ عام انسان تک رسائی رکھتا ہے لہذا یہ بھی ضروری ہے کہ جو جانور قربانی کیلئے منڈیوں میں لائے جاتے ہیں صحت مند اور تواناانجکشن اور دوسرے حربوں کے ذریعے سےکیے جاتے ہیں، ان کو اسٹورائید کے انجکشن دیے جاتے ہیں تاکہ یہ فربہ اور بلند قامت نظر آئیں۔ پولٹری میں بھی یہ انجکشن عام استعمال ہوتے ہیں ، ان کا گوشت انسانی صحت کیلئے مضر صحت ہوتا ہے۔ مختلف قسم کی بیماریاں پیدا کرتا ہے ، رسول پاک ص کی حدیث مبارکہ ہے ۔ گائے کا گوشت نقصان دہ ہے مگر اس کے دودھ میں شفاء ہے ۔“مولا علی علیہ السلام نے فرمایا:
جو زیادہ کھاتا ہے اس کی صحت گر جاتی ہے اور نفس پر بوجھ بڑھ جاتا ہے.
(مستدرک الوسائل ،ج3،ص81)“
گائے کہ گوشت کے ریشوں میں چربی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے لہذا حکماءکی نظر میں گائے کا گوشت گرم اور خشک ہوتا ہے، بادی المزاج ہوتا ہے۔ فساد خون کا سبب بھی ہے ۔جسم میں گیس پیدا کرتا ہے۔ گھٹیا کے درد کا بھی سبب ہے۔ گائے کے گوشت کو لوگ باربی کیو بھی کرکے استعمال کرتے ہیں، اگر صحیح نہ کیا جائے تو صحت کیلئے نقصان زدہ ہوسکتاہے۔ گوشت کو بہت عرصہ تک فریزکرنے سے اس کی غذائی افادیت ختم ہوجاتی ہے، بعض اوقات مضر صحت بھی ہوسکتا ہے اور نفسیاتی بیماریوں کا بھی سبب بنتا ہے، انجکشن سے بنائے گئے جانوروں کے گوشت سے ذیابیطیس ، ہائی بلڈ پریشر اور دل کے امراض پیدا ہوتے ہیں جو آجکل عام ہیں۔ گائے اور بھنس کے گوشت سے بہتر ہے لوگ بکرے بھیڑ اور دنبے کا گوشت استعمال کریں یہ صحت کے لئے بے حد مفید ہے، یہ خون میں بہتری پیدا کرتا ہے ، زود ہضم اور قوت بخش ہے، ان کا شوربہ اور سوپ کمزوری دور کوتا ہے۔ فریز کئے بغیر بھی گوشت کو سوکھا کر اور اچار بناکر بھی محفوظ کیا جاسکتا ہے ، گوشت کو کبھی پلاسٹک بیگ میں رکھ کر فریز نہ کریں ہوسکے تو کاغذ میں کرکے رکھیں اور نہ گرم پانی سے گوشت کو دھوئیں بلکہ نارمل یا ٹھنڈے پانی سے دھونا بہتر ہے۔