بحریہ ٹاون کراچی کے پریسینٹ 11میں ڈکیتی کی واردات

بحریہ ٹاون کراچی کے پریسینٹ 11میں ڈکیتی کی واردات۔۔۔
ڈاکو مالیوں کی شکل میں گھر میں گھسے اور مکینوں کو اسلحہ کے زور پر باندھ کر لاکھوں روپے لے اڑے۔۔۔

بحریہ ٹاؤن سیکورٹی۔۔۔ جس کی نہ آنکھیں ہیں نہ ان میں شرم ہے۔۔۔۔

تحریر۔۔۔ شاہد غزالی… صحافی
03002557854

ہم بحریہ ٹاؤن کے رہائشی جو تقریبا یہاں سال سے رہ رہے ہیں بحریہ کے اچھے اقدامات یعنی صفائی ستھرائی بارش کے موقع پر اچھے مناظر اور کئی اچھی چیزوں کی تعریف کرنے سے نہیں تھکتے ۔لیکن بحریہ کے ان اقدامات کی ضرور مذمت کرتے ہیں جہاں سیکڑوں معصوم لوگوں کی جمع پونجی کو تقریبا ہڑپ کرلیا گیا ہے اور انھیں نہ انکی رقم واپس کی جارہی ہے اور نہ ہی انھیں متبادل فراہم کیا جارہا ہے۔
اب تو سیکورٹی اسٹاف نے بھی اپنی اصل شکل دکھا دی اور نام کی سیکورٹی نے ان کہ اصلیت کی پول کھول دی۔
پریسینٹ 11 میں دن دھاڑے ڈکیتی ہوگئی ڈاکو مالی کی شکل میں گھر میں داخل ہوئے اور لاکھوں روپے لے کر یہ جا وہ جا۔ اور بحریہ سیکورٹی کی آنکھیں نہیں کھلیں نہ ہی انھیں کوئی شرمندگی ہوئی ان کے سیکورٹی اہلکار اکثر گلیوں میں بلاوجہ گھومتے نظر آئیں گے ۔۔
ایک مرتبہ سیکورٹی والے کو اس کے سامنے نشاندھی کی کہ یہ کتے روزانہ پریسینٹ 2 اور دیگر حصوں میں بھی نظر آرہے ہیں تو ان کے سیکورٹی اہلکار نے گاڑی سے اتر کر تالیاں بجا کر کتوں کو بگھا دیا۔

پریسینٹ 11 اور دیگر پریسینٹ کے رہائشی کافی عرصہ سے اپنے گھروں کو محفوظ کرنے کے لیے گرل لگانے کی ڈیمانڈ کررہے ہیں لیکن انھیں اجازت نہیں دی جارہی حالانکہ ایک ڈیسیپلین اور ایس او پی کے تحت یکساں گرل لگانے کی اجازت دینے میں کوئی حرج نہیں ہونا چاہیے۔
لیکن بحریہ انتظامیہ نہ صرف انھیں منع کررہی ہے بلکہ ایسا کرنے پر کئی رہائشیوں کی بجلی اور پانی کو بند کیا جارہا ہے۔
خدا کے لیے بحریہ انتظامیہ ہوش کے ناخن لے لوگوں کی حفاظت کر کے اپنی ذمہ داریاں نبھائے ۔۔نام نہاد ایس او پیز کا ڈھنڈورا نہ پیٹے۔
لوگ اچھے خواب اور سپنے لے کر یہاں آئے ہیں ۔جنکو آپ نے اب تک انکا حق نہیں دیا انھیں دینا ہوگا۔
ورنہ آپکے مستقبل میں آنے والے منصوبے بری طرح ناکام ہوں گے جس طرح پشاور اور نواب شاہ پروجیکٹ کے بعد اب بحریہ گرین کے نام پر ڈرامہ رچایا جارہا ہے۔
لوگ شاید اب آپ کے ڈراموں کو سمجھ گئے ہیں ۔
ہم یہاں رہائشی لوگوں سے جب ہمارے دوست یہاں کی رہائشی سہولتوں کا پوچھتے ہیں تو ہم اچھے اقدامات کا ضرور بتاتے ہیں لیکن جب وہ یہاں آکر انویسمنٹ کی بات کر کے مشورہ مانگتے ہیں تو ہم ان سے اتنا ضرور کہتے ہیں سرمایہ کاری کرتے ہوئے ہوش مندی سے کام لیں تین سال چار کے منصوبوں میں رقم نہ پھنسائیں۔
ہاں تیار ولاز اور اپارٹمنٹس کی خریداری میں ہاتھ ڈالا جاسکتا ہے جہاں رقم ایک ہاتھ سے دیکر دوسرے ہاتھ سے پزیشن حاصل کرلیں
لیکن گذشتہ روز کی ڈکیتی نے تو بحریہ ٹاون انتظامیہ اور سیکورٹی کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے۔
ان حالات میں اب یہاں کون رہنا چاہے گا۔ لوگوں سےسیلیف ڈیفنس کا حق بھی چھینا جارہا ہے
ملک ریاض صاحب جاگ جائیں چوری ڈکیتی کے واقعات بڑھنے سے بحریہ ٹاؤن کی ساکھ شدید متاثر ہورہی ہے۔
جماعت اسلامی کو بھی لارا لپا دے کر آپ نے احتجاج سے روک دیا ہے لیکن اب متاثرین ہی سڑکوں پر آکر اپنے حقوق حاصل کریں گے

ابھی بھی وقت ہے ہوش میں آجائیں صرف مین گیٹ کی سیکورٹی سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔
سیکورٹی بحریہ ٹاؤن سے جواب طلب کیا جائے کہ یہ ڈکیتی کیوں اور کیسے ہوئی یہ ڈاکو کہاں سے آئے تھے اور کہاں چلے گئے متاثرین کے نقصان کا ازالہ کرتے ہوئے اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ آئندہ ایسے اقدامات کی بیخ کنی کی جائے گی۔