حکومت کلبھوشن یادیو کو این آر او دے رہی ہے، بلاول

قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر اسد قیصر کی زیرصدارت ہوا۔ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا آرڈیننش پہلے کیوں قومی اسمبلی میں پیش نہیں کیا گیا۔ عمران خان نے کہا تھا کہ کسی کو این آر او نہیں دوں گا لیکن احسان اللہ احسان، مالم جبہ اراضی، بلین ٹری سونامی اور بی آر ٹی منصوبے پر این آر او دیا گیا۔

بلاول کا کہنا تھا کہ جو پائلٹ پاکستان پر حملہ کرنے آیا اس کو چائے پلا کر واپس چھوڑ دیا گیا۔ وزیراعظم نے دہشت گردوں کی کبھی مخالفت نہیں کی۔ جن دہشت گردوں نے ہمارے بچوں کو شہید کیا ان پربات تک نہیں کی۔

ن لیگی رہنما خواجہ آصف نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کے ساتھ نرمی نہ کی جائے، بھارت نے پاکستان کے ساتھ کس معاملے میں نرمی کی؟ حکومت کو ملک کی اہمیت اوروقار پر سمجھوتہ نہیں کرناچاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ را کا جاسوس کلبھوشن پاکستان کا دشمن ہے اور اس نے جرم کا اعتراف کیا ہے۔

اپوزیشن کی جانب سے کورم پورا نہ ہونے کی نشاندہی کی گئی جس کے بعد حزب اختلاف کی تمام جماعتوں نے واک آؤٹ کر دیا۔ کوروم پورا نہ ہونے کے باعث اسپیکر نے اجلاس ملتوی کر دیا

Courtesy hum news