لوڈشیڈنگ کیوں؟

شہر قائد میں حکومتی سطح پر نوٹس لینے کے باوجود گزشتہ ایک ماہ سے جاری بجلی کی لوڈشیڈنگ کا سلسلہ نہ تھمنے سے جہاں انتظامی عملداری میں پائی جانے والی بعض خامیوں کی نشان دہی ہوتی ہے وہیں کئی حلقے گزشتہ دور آمریت میں کی جانے والی کے ای ایس سی کی نجکاری اور جمہوری ادوار میں اس باب میں کئے گئے مزید ترمیمی معاہدوں کو اس کا بنیادی سبب ٹھہراتے ہیں۔ واضح رہے کہ کے الیکٹرک نے 22جون سے عَلانیہ اور غیرعَلانیہ لوڈ مینجمنٹ کے نام پرشہر کے تمام علاقوں میں لوڈ شیڈنگ کا آغاز کیا تھا۔ ایک ماہ بعد بھی اس میں کمی نہیں آئی، سخت گرمی اور حبس کے موسم میں تین سے لے کر آٹھ گھنٹے تک بجلی کی معطلی معمول بن گئی ہے۔ کتنی حیرت انگیز بات ہے کہ کراچی کے بجلی بحران پر قومی اسمبلی میں باقاعدہ بحث ہوئی، حکومتی و اپوزیشن ارکان نے متفقہ طور پر بجلی کی نجی انتظامیہ کیخلاف کارروائی کا مطالبہ کیا، سڑکوں پر احتجاج اور دھرنے بھی ہوئے، نیپرا کے ادارے کی طرف سے کارروائی کرنے کا عندیہ بھی دیا گیا، گورنر سندھ، وفاقی وزرا یہاں تک کہ وزیراعظم کی جانب سے بھی اس معاملے کا نوٹس لیا گیا تاہم حالات میں کوئی قابلِ ذکر بہتری نہ آئی بلکہ کے الیکٹرک نے لوڈشیڈنگ کے دورانیے میں مزید اضافے کا مژدہ سنادیا ہے۔ ترجمان کے الیکٹرک کے مطابق بعض آئی پی پیز سے 150میگاواٹ بجلی کی فراہمی میں کمی کا سامنا ہے جس کے باعث لوڈ مینجمنٹ کی جا سکتی ہے، جسکی پیشگی اطلاع رجسٹرڈ صارفین کو دی جائے گی۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر کب تک اہلِ کراچی بجلی و پانی جیسی بنیادی ضرورتوں کیلئے مسائل کا شکار رہیں گے اور گزشتہ حکومتی ادوار میں کی گئی غلطیوں کے نتائج بھگتیں گے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ احتجاج و مذمت سے آگے بڑھتے ہوئے غلطیوں کو درست کرنے کی تدبیر اختیا رکرتے ہوئے معاملے کو حل کیا جائے۔ یہی صائب حکمت عملی ہوگی

Courtesy Jang news