سپریم کورٹ نے نیب کو سر تا پا ننگا کر دیا

نیب کو سپریم کورٹ نے سر تا پا ننگا کر دیا۔ دوسروں کی پگڑیاں اچھالنے والے اور دوسروں کو بےعزت کرکے لذت حاصل کرنے والے نیب کی اپنی عزت تار تار ہو گئی۔ نیب میں بیٹھے فرعونوں کو احساس تو ہوگا کہ عزت اور ذلت میرے رب کے ہاتھ میں ہے۔ نیب نے دوسروں کو ذلیل کرنے کی کوشش کی لیکن خود ذلت کمائی اور جن کو مہینوں، برسوں تک بلا ثبوت بند کیا اور چاہا کہ وہ بےعزت ہوں وہ پہلے سے زیادہ عزت دار بن کر نکلے۔

پیراگون کرپشن کیس میں سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے کی ایک ایک سطر اُس ظلم اور زیادتی کی گوائی دے رہی ہے جو نیب کا گزشتہ دو دہائیوں سے وطیرہ رہا۔

سپریم کورٹ نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ نیب ملک کی خدمت نہیں بلکہ ملک و قوم کی بدنامی کا سبب بن رہا ہے، یہ ادارہ روزِ اول سے متنازع ہے اور اس کا تصور ہی بدگمانی اور شکوک سے بھرا پڑا ہے، یہ سیاسی مخالفین کو دبانے اور اُنہیں نشانہ بنانے کے لیے بطور ہتھیار استعمال ہوتا ہے، اسے سیاسی جوڑ توڑ کے لیے بُرے طریقے سے استعمال کیا جا رہا ہے، نیب وفاداریاں تبدیل کرانے، سیاسی جماعتوں کو توڑنے، مخالفین کا بازو مڑورنے اور انہیں سبق سکھانے کے لیے استعمال ہوتا ہے، اس کا احتساب یکطرفہ ہے۔

ایک طرف لوگوں کو برسوں، مہینوں جیل میں سڑا دیا جاتا ہے تو دوسری طرف بڑے بڑے مالی الزامات پر بھی کچھ نہیں کیا جاتا، عوام کی نظر میں نیب کی ساکھ مجروع ہو چکی، نیب جو بدنامی کما رہا ہے اُس کا دائرہ سرحد پار تک پھیل چکا ہے، سزا کے بغیر لوگوں کو قید میں ڈال دیا جاتا ہے، قید کیے گئے لوگوں کی، اُن کے خاندان کے افراد کی توہین کی جاتی ہے، اُنہیں اذیت دی جاتی ہے، بدنام کیا جاتا ہے، ٹرائل سے پہلے یا دورانِ ٹرائل قید میں ڈلنا اذیت کا باعث ہے، گرفتاری کا اختیار اگر اس ادارہ کو حاصل ہے تو اس اختیار کو ظلم اور ہراسانی کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہئے۔

سپریم کورٹ نے یہ بھی کہا کہ نیب سیاسی تقسیم کے ایک جانب کے مالی اسکینڈلز میں ملوث لوگوں کے خلاف کارروائی سے ہچکچاتا ہے جبکہ دوسری جانب کے لوگوں کو گرفتار کرکے بغیر کسی معقول جواز اور ثبوت کے مہینوں اور برسوں کے لیے جیل میں ڈال دیتا ہے۔

سپریم کورٹ نے کہا کہ سزا سے پہلے ہی کسی شخص کو قید میں ڈال دینا اُس کی بہت بڑی تذلیل اور بےعزتی ہے، ایک شخص کی گرفتاری سے نہ صرف وہ شخص بلکہ اس کا خاندان اور متعلقہ افراد بھی متاثر ہوتے ہیں، اُن کی شہرت کو نقصان پہنچتا ہے، معاشرہ میں اُن کے خلاف نفرت پیدا ہوتی ہے اور اُنہیں تلخ ترین تنقید کا نشانہ بننا پڑتا ہے۔

سپریم کورٹ نے نیب کے گھنائونے چہرہ کو زبردست طریقہ سے بےنقاب تو کر دیا لیکن اس ادارہ کو سدھارنے، اس کے اختیارات کے ناجائز استعمال کو روکنے کے لیے کوئی احکامات نہیں دیے۔

اس کا مطلب یہ ہوا کہ نیب اپنی تمام تر خرابیوں اور شر کے باوجود جن کا سپریم کورٹ نے ذکر کیا، ایسے ہی چلتا رہے گا۔ نیب اتنا خراب ہو چکا، اس کو اس قدر غلط طریقہ سے استعمال کیا جاتا رہا کہ اب یہ توقع رکھنا بےکار ہے کہ اس میں بیٹھے لوگ خود سے سدھر جائیں گے، ایمانداری سے کام شروع کر دیں گے، کوئی بیرونی دباؤ قبول نہیں کریں گے، اخلاقی جرات کا اظہار کریں گے، دوسروں کی عزت کا خیال رکھیں گے، بہتر تفتیش کے لیے ایک دم سے قابل ہو جائیں گے، سزا سے پہلے کسی کو گرفتار نہیں کریں گے، دوسروں کی عزتوں کو نہیں اُچھالیں گے۔

اس ادارہ کو یا تو ختم کیا جانا چاہئے یا پھر اس کے وہ اختیارات، خاص طور پر محض الزام کی بنیاد پر گرفتار کرنے کے اختیار کو ختم کیا جانا چاہئے جس کے لیے سپریم کورٹ ہی وہ ادارہ ہے جو ایسا کر سکتا ہے کیوںکہ سیاستدان اور پارلیمنٹ ثابت کر چکے کہ وہ اس قابل نہیں

—–

Ansaar-Abbasi-Jang