امریکا میں ’خلائی مخلوق‘ حقیقت یا کہانی؟ پُراسرار منصوبے نے چونکا دیا

واشنگٹن: امریکی فوج کے زیراستعمال خفیہ علاقے ’ایریا 51‘ میں پراسرار منصوبے نے سب کو حیران کردیا، ملکی فضائیہ اور ایجنسی کے ’نویڈا ٹیسٹ اور ٹریننگ رینج‘ کو خلائی مخلوقوں کا گڑھ بھی کہا جاتا ہے۔

تفصیلات کے مطابق ’ایریا51‘ امریکی ریاست نویڈا میں ایک ایسی وسیع و عریض جگہ کا نام ہے جو ہر وقت فوج کے سخت پہرے میں رہتی ہے جہاں مبینہ طور پر دفاعی صلاحیتوں سے متعلق مختلف منصوبوں پر کام کیا جاتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ’گیبریال زیفمین‘ نامی امریکی پائلٹ کو ٹریفک کنٹرولر کی جانب سے مذکورہ ممنوعہ علاقے کی فضائی حدود سے گزرنے کی اجازت ملنے کے بعد اس نے کئی خفیہ تصویریں بنائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حالیہ ماہ یہاں ایک منصوبے کے تحت بڑا ’ہینگر‘ تعمیر کیا گیا تھا جو اب اچانک غائب ہوچکا ہے
انہوں نے بتایا کہ یہ ان کا حالیہ چند ماہ میں تیسرا فضائی دورہ تھا، اس سے قبل پائلٹ نے ہینگر کو زیرتعمیر دیکھا تھا اور اب اسے ختم کیا جاچکا ہے، ممکنہ طور پر یہ محدود خفیہ پراجیکٹ کے تحت ایک حکمت عملی تھی
خیال رہے کہ خفیہ ایریا میں اتنے بڑے ہینگر کی تعمیر اور اچانک خاتمے نے لوگوں کو ششدر کردیا ہے، کئی شہریوں کا ماننا ہے کہ یہ کوئی خلائی مخلوقوں سے متعلق منصوبہ ہوسکتا ہے جس کی تکمیل ہوچکی ہے
واضح رہے کہ کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ یہاں امریکی فضائیہ کے لیے جدید ترین ٹیکنالوجی اور منفرد لڑاکا/ بمبار طیاروں پر خفیہ تجربات جاری رہتے ہیں جبکہ خلائی مخلوق پر یقین رکھنے والے لوگوں کا کہنا ہے کہ اس جگہ اُڑن طشتریوں اور خلائی مخلوقات پر خفیہ منصوبوں کو عملی جامع پہنایا جاتا ہے۔

جبکہ امریکا میں لاکھوں لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ماضی میں امریکی حکومتوں نے کئی بار اُڑن طشتریاں پکڑی ہیں اور ان سے برآمد ہونے والی خلائی مخلوق کو گرفتار بھی کیا ہے۔ ان میں سے کسی بھی خیال کا کوئی ثبوت موجود نہیں جس کی وجہ سے ایریا 51 اب تک پراسرار جگہ بنا ہوا ہے