وزارتِ خارجہ کا میرٹ؟

افغانستان میں تعینات پاکستان کے سفیر زاہد نصراللہ خان نے سیکریٹری وزارتِ خارجہ کے نام اپنے مکتوب میں بیرون ملک سفیروں کے تقرر میں طے شدہ پالیسی اور میرٹ کے اصول کو نظر انداز کرتے ہوئے ایڈہاک ازم کی بنیاد پر تقرر اور تبادلوں کی جس صورتحال کی طرف توجہ دلائی ہے، یقینی طورپر وہ وزیراعظم اور وزیر خارجہ سمیت تمام متعلقہ ذمہ داروں کی فوری توجہ کی طالب ہے۔ پاکستان کو داخلی ہی نہیں بیرونی محاذ پر بھی جن سنگین مشکلات کا سامنا ہے ان سے کامیابی سے عہدہ برآ ہونے کے لیے دنیا کے تمام پاکستانی سفارت خانوں میں حالات و ضروریات کے مطابق فرض شناس، قابل اور تجربہ کار سفیروں اور دیگر عملے کا تقرر کلیدی اہمیت رکھتا ہے۔ افغانستان میں پاکستان کے سفیر کی حیثیت سے نہایت قابلِ قدر خدمات انجام دینے اور افغان امن عمل میں پاکستان کے کردار کو مستحکم کرنے میں اپنی ذمہ داریاں انتہائی نتیجہ خیز طور پر پوری کرنے والے زاہد نصراللہ نے اپنے خط میں موجودہ دور میں سفیروں کے تقرر میں میرٹ کو نظر انداز کیے جانے کے حوالے سے جو کچھ کہا ہے اس کی صداقت کا ایک واضح ثبوت یہ ہے کہ سیکریٹری خارجہ نے انہیں افغانستان جیسے بین الاقوامی توجہات کے مرکز سے کمبوڈیا جیسے ملک میں تعینات کرنے کی تجویز دی تھی جسے وزیراعظم نے مسترد کردیا ہے۔ ان حالات میںزاہد نصراللہ کا یہ کہنا بالکل درست معلوم ہوتا ہے کہ سفیروں کے تقرر کا موجودہ طریق کار وزارتِ خارجہ کے افسران میں تشویش اور اضطراب کا سبب بنا ہوا ہے۔ خط میں دی گئی زاہد نصراللہ کی یہ تجویز بلاتاخیر غور و فکر کی متقاضی ہے کہ سفیروں کی تعیناتی کے طریقہ کار کی تشکیل کے لیے نمایاں کارکردگی کا ثبوت دینے والے سابق سفیروں پر مشتمل بورڈ بنایا جائے اور اس کی تیار کردہ پالیسی کی وزیراعظم اور وزیر خارجہ سے منظوری کے بعد اس کا نفاذ جلد از جلد عمل میں لایا جائے تاکہ پاکستان کے بین الاقوامی مفادات کے بہتر تحفظ کا بندوبست ہو سکے۔

courtesy jang news