قوم کی قسمت میں رونا ہی ہے

پنجاب کا ستیاناس ہی کیوں نہ ہو جائے عثمان بزدار ہی وزیراعلیٰ رہیں گے۔ کاروبار بےشک تباہ و برباد ہوں جائیں، معیشت بھاڑ میں جائے، غربت بڑھتی ہے تو بڑھے، نوکریاں کم ہو رہی ہیں تو ہوتی رہیں، بیوروکریسی کام کرے یا نہ کرے، کوئی فکر نہیں۔ نیب کی بلیگ میلنگ اسی طرح جلتی رہے گی۔

نظام گزشتہ 71برسوں میں نہیں بنا اور ادارے تباہ و برباد ہو گئے تو ان دو برسوں یا تحریک انصاف کے پانچ سالہ دور میں یہ توقع کیوں رکھی جائے کہ سب کچھ ٹھیک کیا جائے گا۔ سب کچھ بردباد ہونے دیں پھر زیرو سے ٹھیک کیا جائے گا۔ کہا نہیں تھا کہ پی آئی اے، ریلوے، پاکستان اسٹیل وغیرہ کو دوبارہ سے اُن کے پائوں پر کھڑے کریں گے، اُنہیں منافع بخش بنائیں گے لیکن اس کے لیے پہلے اُنہیں مکمل تباہ کرنا ہوگا اور وہی کام کیا جا رہا ہے۔

وزیر ہوا بازی غلام سرور خان کا استعفیٰ مانگنے والوں کو معلوم نہیں اُنہوں نے جو کیا وہ پالیسی کے مطابق کیا۔ وہ تو انعام کے مستحق ہیں نہ کہ سزا کے۔ کہتے ہیں سیاسی استحکام کے لیے، معیشت کی ترقی لیے، ادارہ سازی کے لیے اپوزیشن سے مل بیٹھ کر کم از کم اہم معاملات میں اتفاق رائے پیدا کر لیں لیکن یہ کیسے ہو سکتا ہے۔

اپوزیشن تو ہاتھ ملانے کے قابل نہیں، اُن کو تو چور اور ڈاکو ہی پکارتے رہنا ہے چاہئے، عدالتوں میں کچھ ثابت ہو یا نہ ہو۔ اُن سے ہاتھ ملایا تو تحریک انصاف کو ووٹ دینے والے کیا سوچیں گے، پی ٹی آئی کے ٹائیگرز مایوس ہوں گے۔ سب کو معلوم ہے کہ نیب تو ایک مہرہ ہے جسے ہمیشہ استعمال کیا گیا، اب بھی ایسا کیا جا رہا ہے تو اس پر اعتراض کیوں؟

نیب تو وسیع تر مفاد والوں کے لیے ہی ہمیشہ سے کام کرتا ہے اور موجودہ حکومت کا الیکشن جیتنا، برسراقتدار آنا اور تمام تر تباہی و بربادی کے باوجود چلنا دراصل ملک کے وسیع تر مفاد میں ہی تھا۔ اپوزیشن کے رہمناوں کو پکڑنا، اگر عدالتیں اُنہیں چھوڑ دیں تو نئے مقدمات بنا کر پھر سے اُنہیں پکڑکر جیلوں میں ڈالنا، اس کے لیے نیب سے بہتر کوئی دوسرا ادارہ کام نہیں کر سکتا۔

اب تو میڈیا کو بھی قابو کرنے کے لیے نیب کو ہی استعمال کیا جا رہا ہے اور اس سلسلے میں میر شکیل الرحمٰن کو جھوٹے مقدمہ میں بند کرکے پاکستان کی صحافی برادری کو پیغام دے دیا گیا ہے کہ اگر کسی نے طاقتوروں کی مقرر کی گئی حدوں کو پار کیا تو اس کا وہی حال ہوگا جو میر شکیل الرحمٰن کا کیا جا رہا ہے۔

نیب جو مرضی کرے اُسے کس نے پوچھنا ہے، کیا ماضی میں اس سے کسی نے پوچھا؟ جھوٹے سچے مقدمہ بنا کر جسے چاہیں قید میں ڈال دیں، اُنہیں جیلوں میں سڑنے دیں۔ برسوں بعد اگر فیصلہ ہو بھی گیا کہ قید کیے گئے افراد بےقصور تھے، مقدمے جھوٹے تھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

نیب چاہے معصوموں کو قید کر کے بھول بھی جائے جیسا کہ ماضی میں نیب کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے عدالت میں بیان بھی دیا، کسی نے بلیک میلنگ کے اس ادارے کو اختیارات کے ناجائز استعمال پر سزا نہ دی تو اب کیوں توقع کی جا رہی ہے کہ یہ قانون کے مطابق اور انصاف سے کام کرے گا۔

پولیس اور سول سروس کو غیرسیاسی کرنے کا وعدہ ضرور کیا تھا لیکن اگر ایسا کر دیا تو پھر تحریک انصاف کے ایوانِ نمائندگان اور وزراء کی بات کون سنے گا، پھر تو حکمران جماعت کے لوگوں بلکہ وزیروں مشیروں کے ملکی مفاد میں ناجائز احکامات کون مانے گا؟ پاکستان ایسے ہی چلتا رہا اور اسے ایسے ہی چلنا ہے۔

جس کی لاٹھی اُس کی بھینس۔ درست ہے کہ ریٹائرڈ جنرل امجد شعیب ہوں، اعجاز اعوان ہوں اور وہ جنہوں نے تحریک انصاف کی کامیابی کیلئے اور اُنہیں حکومت میں لانے کیلئے دن رات تجزیہ کاری، لوگوں کو اُمیدیں دلائیں، وہ آج بہت مایوں ہیں، ناامید ہیں، اپنے کیے پر شرمندہ ہیں لیکن اس سے اب کوئی فرق نہیں پڑتا۔

حکومت ایسے ہی چلے گی، طرز حکمرانی کو نہیں بدلا جائے گا۔ ایک ایک کرکے اُن صحافیوں، اینکرز اور تجریہ کاروں جنہوں نے موجودہ تبدیلی کے لیے جھوٹا سچا پروپیگنڈہ کیا اُنہیں سنیں۔ سب مایوس ہیں۔ سب حکومت پر برس رہے ہیں۔ سب معیشت کی تباہی، گورننس کی خرابی، حکمران جماعت کی وعدہ خلافیوں کا رونا رو رہے ہیں لیکن اب ایسے ہی چلے گا۔ قوم کا کیا ہے اُن کی قسمت میں رونا ہی ہے۔

Courtesy jang news