دہری شہریت اور سرکاری مناصب

وزیراعظم کے پندرہ میں سے سات معاونینِ خصوصی کے دُہری شہریت کے حامل ہونے کا معاملہ، جس کی تفصیلات کابینہ ڈویژن کے ذرائع کے حوالے سے منظر عام پر آئی ہیں، اس بناء پر خاص طور پر باعثِ حیرت ہے کیونکہ سپریم کورٹ آج سے تقریباً ڈیڑھ سال پہلے اہم سرکاری مناصب پر دُہری شہریت کے حامل افراد کے تقرر کو سیکوریٹی رسک قرار دے چکی ہے۔ دسمبر 2018کے وسط میں سپریم کورٹ کے اس وقت کے سربراہ جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں قائم دو رکنی بنچ نے اپنے تحریری فیصلے میں قرار دیا تھا کہ دُہری شہریت رکھنے والے افراد کو پاکستان میں سرکاری عہدے دیے جانے پر مکمل پابندی عائد کی جانی چاہئے۔ فیصلے میں حکومت کو اس سلسلے میں پارلیمنٹ میں جلد واضح قانون سازی کی ہدایت کی گئی تھی۔ تاہم کابینہ ڈویژن کے ذرائع کے مطا بق وزیراعظم کے جو سات معاونین خصوصی دُہری شہریت کے حامل پائے گئے ہیں ان سب کا تقرر ملک کی سب سے بڑی عدالت کے اس فیصلے کے سامنے آجانے کے بعد کیا گیا ہے۔ معاون خصوصی برائے ڈیجیٹل پاکستان تانیہ ایدروس، جن کے پاس کینیڈا اور سنگاپور کی شہریت ہے، رواں سال فروری میں اس منصب پر فائز ہوئیں۔ گزشتہ دسمبر میں معاون خصوصی برائے قومی سلامتی مقرر کیے جانے والے معید یوسف، گزشتہ سال اپریل میں معاون خصوصی برائے پٹرولیم کے منصب پر فائز ہونے والے ندیم بابر اور ماہ رواں کے اوائل میں معاون خصوصی پاور ڈویژن کا عہدہ سنبھالنے والے شہزاد قاسم امریکی شہریت کے حامل ہیں۔ معاون خصوصی برائے پارلیمانی رابطہ ندیم افضل چن کنیڈین شہریت رکھتے ہیں اور ان کا تقرر بھی عدالتی فیصلے کے بعد گزشتہ سال جنوری میں عمل میں آیا تھا۔ سمندر پار پاکستانیوں کے معاملات کے لیے وزیراعظم کے معاون خصوصی برطانوی شہریت کے حامل زلفی بخاری اسی سال 13مئی کو اس منصب پر فائز ہوئے ہیں جبکہ امریکی گرین کارڈ رکھنے والے وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی روابط شہباز گل نے بھی اپنا موجودہ منصب اسی تاریخ کو سنبھالا ہے۔ آئین اور قانون کی حکمرانی کی دعویدار حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ کے ایک واضح فیصلے کے علی الرغم اہم سرکاری مناصب پردہری شہریت رکھنے والے افراد کا یوں مسلسل مقرر کیا جانا قطعی ناقابلِ فہم ہے۔ عدالتی فیصلے کا تقاضا تو یہ تھا کہ نہ صرف یہ تقرر عمل میں نہ لائے جاتے بلکہ بیس ماہ کی اس مدت میں عدالت کی ہدایت کے مطابق پارلیمنٹ میں قانون سازی بھی کی جاچکی ہوتی۔ لیکن اس سمت میں کسی پیش رفت کا نہ ہونا اس گمان کو تقویت دیتا ہے کہ حکومت عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کا ارادہ ہی نہیں رکھتی جس کا اندازہ وزیراعظم کے ایک معروف معاون خصوصی کے ایک سال پہلے منظر عام پر آنے والے اس بیان سے بھی ہوتا ہے کہ وزیراعظم نے دُہری شہریت رکھنے والے پاکستانیوں کو سیاسی دھارے میں شامل کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے اور یہ لوگ آئندہ عام انتخابات میں حصہ لینے کے اہل ہوں گے۔ تاہم اگر ذمہ داران حکومت کی سوچ واقعی یہی ہے تو ایسی صورت میں ضروری تھا کہ فیصلے پر نظرثانی کے لیے درخواست دائر کی جاتی اور اب بھی عدلیہ اور آئین و قانون کی بالادستی کا تقاضا ہے کہ یاتو اس فیصلے پر اس کی روح کے مطابق بلاتاخیر عمل درآمد کا آغاز کیا جائے یا قواعد و ضوابط کے مطابق اس پر نظرثانی کے لیے عدالت ہی سے رجوع کیا جائے۔ معاونین خصوصی کے کروڑوں اور اربوں کے اثاثوں کی تفصیلات بھی محولہ بالا رپورٹ میں شامل ہیں۔ بےلاگ احتساب کا تقاضا ہے کہ ان اثاثوں اور ذرائع آمدن میں مطابقت کے ثبوت و شواہد کا جائزہ بھی لیا جائے اور ظاہری ذرائع آمدن اوراثاثوں میں مطابقت ثابت ہونے کی صورت میں قرار واقعی کارروائی عمل میں لائی جائے