یادوں کے جھروکوں سے

عابد حسین قریشی

(13)

نظام انصاف کے نام

مجھے حیات میری مرضیوں سے ملتی اگر
تیرا وجود میری روح میں سِلا ہوتا
گر میرے ہاتھ میں ہوتا یہ نظام شمسی
میں تیرے چہرے پہ کبھی دھوپ نہ پڑنے دیتا

اپنے ماضی کے جھروکوں سے جھانکتے ہوئے ان گنت خوشگوار یادیں نظر دوستاں کر چکا ہوں۔ مزید بے شمار ذہن کے نہاں خانوں میں موجود صفحہ قرطاس پر ابھرنے کے لیے مچل رہی ہیں۔ مگر اس دوران احباب کی طرف سے کچھ سوالات، کچھ وضاحتیں، کچھ الجھی ہوئی خرد کی گُتھیاں سلجھانے اور نظام انصاف جس سے عرصہ دراز بلکہ چار دہائیوں سے منسلک ہونے کی بنیاد پر کچھ لکھنے پر اکسایا جا رہا ہے۔ میں ان یاداشتوں کے آخر میں ان پر کچھ تفصیل سے لکھنا چاہتا تھا۔ پھر سابقہ دس بارہ اقساط میں مختلف انداز میں کبھی ہلکے پھلکے اور کبھی تلخ زمینی حقائق کو بیان کرنے کی کوشش کر چکا ہوں۔ بہرحال پاکستان کے نظام انصاف پر کچھ عرض کرنے سے قبل سوشل میڈیا پر آج کل ایک کثیف سا لطیفہ وائرل ہے اُسے دہرانا چاہتا ہوں تاکہ بات کا آغاز ہو سکے۔
جج :“اس عمر میں لڑکی کو چھیڑتے ہو معافی کے لائق نہیں ہو تم”

70 سال کا بوڑھا بولا “میری بھی تو سنیئے”

جج: “ کوئی 20/22 سال کے لڑکے نہیں ہو کہ تمہاری سنی جائے”

بوڑھا: “ جناب یہ 40 سال پرانا کیس ہے۔ جس کو چھیڑا تھا وہ بھی آج اپنے پوتےکے ساتھ عدالت آئی ہے۔”

یہ الگ بات کہ پوچھنے والے جج صاحب بھی وقوعہ کے وقت بالکل نوجوان تھے۔ کہنے کو تو یہ لطیفہ ہے مگر ہمارے نظام عدل کی سُست روی، گنجلک اور پچیدہ طریقہ کار، فریقین مقدمہ کی حیلے بازیاں، وکلاء کی قانونی موشگافیاں، حکومت وقت کی لا تعلقی اور نظام عدل کی بے بسی اور قانون کی عدم حکمرانی یہ سارے عوامل مل کر جو نظام تشکیل کرتے ہیں اسے عرف عام میں نظام عدل گستری سے جانا جاتا ہے۔ کون کس قدر معاملات پر حاوی ہے۔ معاملات کی باگ کس کے ہاتھ میں ہے۔ کون مجبور و محکوم ہے۔ اس نظام کے فوائد کیا عام آدمی تک پہنچ رہے ہیں۔ اگر نہیں تو ذمّہ دار کون کون ہے۔ اس پر شاید کُھل کر بات بھی نہیں ہو سکتی لہٰذا اشاروں کنایوں میں یہ عرض کرنے کی جسارت کی جا سکتی ہے کہ کسی ایک کو مورد الزام ٹھہرانا شاید درست نہ ہو گا جب ہر طرف سے غلطی اور کوتاہی کا پورا اندیشہ موجود ہے۔

ہمارے نظام عدل کے نمایاں سٹیک ہولڈرز میں حکومت وقت، عدلیہ، بار، سائلین مقدمہ، پولیس، انتظامیہ، پراسیکویشن، محکمہ جیل اور سوسائٹی ہیں۔

نظام عدل میں بہتری اور اصلاحات کبھی بھی کسی حکومت کی ترجیح اولین نہ رہے ہیں۔ ڈنگ ٹپاؤ پالیسیاں آتی رہی ہیں۔ سو سوا سو سال پرانے ضابطہ فوجداری اور ضابطہ دیوانی کو کسی معقول اور معنی خیز ترامیم کئیے بغیر موجودہ حالات اور معاشرتی تقاضوں کو بالائے تاک رکھتے ہوئے نافذ کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔ نتیجہ کے لیے کسی خاص لیول کا مدبّر ہونا یا فالتو عقل و دانش کی ضرورت نہ ہے۔ دستیاب حالات میں عدلیہ کس طرح اپنے فرائض ادا کر رہی ہے خصوصاً ہماری ڈسٹرکٹ جوڈیشری جو کہ بڑے ہی نا مساعد حالات میں غیر حقیقی اور قدرے مخاصمانہ فضا میں کام کر رہی ہے۔ اُس سے کسی غیر معمولی نتیجہ کی توقع رکھنا عبث ہے۔

بار کے معاملات سینئرز اور پروفیشنل وکلاء کے ہاتھوں سے نکل کر نوجوان وکلاء کے ہاتھوں میں آچکے ہیں۔ کسی سینئر اور پروفیشنل وکیل کے چیمبر میں بیٹھ کر وکالت کی ابتدائی منازل طے کرنا ، علم سیکھنا، آداب سیکھنا ، قانون اور ضابطہ کے رموز سے آشنائی حاصل کرنا شاید سب قصۂ پارینہ لگتا ہے۔ ایک دوسرے سے آگے نکل جانے کی دوڑ نے ہماری اخلاقی اقدار کا بھرکس نکال دیا ہے۔

یہ بات یقیناً ہم سب کے لیے لمحمہ فکریہ ہو گی کہ 1982-1983 میں ہم جب اوکاڑہ میں سول جج تھے تو دیبالپور تحصیل میں تقریباً تین ہزار مقدمات زیر سماعت تھے اور صرف ایک سول جج تعینات تھا۔ جی ہاں صرف ایک سول جج۔ پھر 1985 تک وہاں دو سول جج ہو گئے۔ آجکل اُسی تحصیل میں تقریباً 8/9 ایڈیشنل سیشن ججز اور تقریباً 15/16 کے قریب سول جج ہیں۔ 1994-1995 میں لاہور میں ہم چالیس کے قریب سول جج اور پندرہ سولہ ایڈیشنل سیشن جج تھے۔ آجکل 200 کے قریب سول جج اور تقریباً 75 سے زائد ایڈیشنل سیشن جج ہیں۔ کام پھر بھی قابو میں نہ آ رہا ہے۔ پنجاب میں اس وقت دس لاکھ سے زائد زیر التوا مقدمات ہیں۔ کیا یہ مقدمات کا انبارِ گراں حکومتی بے حسی یا عوام کی عدم دلچسپی کا مظہر ہے یا وکلاء اور عدالتوں نے کام کرنا چھوڑ دیا ہے یا کام کا بوجھ اتنا بڑھ چکا ہے کہ سسٹم collapse ہوتا نظر آ رہا ہے۔ کون قصور وار ہے؟ حکومت۔ سسٹم۔ عدلیہ۔ بار۔ عوام۔ یا سارے ہی۔ اس پر تمام اسٹیک ہولڈرز کو سر جوڑ کر بیٹھنے کی ضرورت ہے۔ ورنہ اگر یہی صورت حال رہی تو نظام بلکل بیٹھ جائے گا اور پھر اس وقت شاید بہت دیر ہو چکی ہو گی۔ مانا کہ ہماری آبادی میں بے شمار اضافہ ہوا، جائیداد کی تقسیم در تقسیم، معاشرہ میں افراتفری، لالچ اور خود غرضی اس بے تحاشہ مقدمہ بازی کی بنیادی وجوہات ہیں۔ مگر دلِ خرد مند کی اس غوغا آرائی کو سمجھنے کے لیے قلب و نظر کی گہرائی اور گیرائی، بصیرت افروز سوچ اور مستقبل کی صورت گری کا ہنر جاننے والوں کی عمیق نگاہی اور دست شفقت کی ضرورت ہے۔

ہماری سول ججی کے زمانے میں ہماری کاز لسٹ شاید ہی کبھی 40 سے اوپر جاتی ہو گی۔ پھر میں نے خود بطور سپیشل جج سنٹرل لاہو (FIA) میں تقریباً اڑھائی سال کا عرصہ تعیناتی میں روزانہ دو سو سے زائد مقدمات کی کاز لسٹ بھگتائی۔ جس میں صرف 80 سے 90 درخواست ہائے ضمانت ہوتی تھیں اور پچاس ساٹھ کے قریب درخواست ضمانتیں گیارہ بجے سے قبل موقع پر سُنا کر فیصلہ کی جاتیں۔ آج اُسی ایک عدالت سے تین عدالتیں لاہور میں اور دو گجرانوالہ میں کام کر رہی ہیں اور کام کا بوجھ دن بہ دن بڑھتا جا رہا ہے۔ جوڈیشل سروس کے طویل کیرئر میں تقریباً ساری پوسٹنگز ہی قابل ذکر رہیں اور ہر جگہ کوشش کی کہ خود بھی کام کیا جائے اور ساتھی جج صاحبان سے بھی کرایا جائے۔ مگر اپنی دو پوسٹنگ میرے لیے روحانی اور قلبی تسکیںن کا باعث بھی رہیں۔ جن میں انصاف کے ساتھ ساتھ خلق خدا کی خدمت کرنے کا موقع بھی ملا۔

ان میں سے ایک بطور ڈائریکٹر صوبائی محتسب پنجاب جہاں میں 2001 تا 2003 رہا۔ میری خوش بختی کہ اس وقت ایک نہایت اعلٰی انسان، درد دل رکھنے والے، با اُصول مگر دبنگ جناب جسٹس (ر) سجاد احمد سپرا صوبائی محتسب تھے۔ اُنکے ساتھ کام کرنے کا ایک الگ ہی مزا تھا۔ وہ اپنی ذات میں ایک جھونکا جانفزا اور انجمن ہیں۔ جو ہر آن انسانی خدمت پر کمر بستہ نظر آئے۔ وہاں پوسٹنگ کے دوران بے شمار بے کس و لاچار سائلین کی داد رسی ہوئی۔ ایک یتیم لڑکی جو تقریباً 35-40 سال کے درمیان عمر کی ہو گی ہمارے پاس ڈی۔سی آفس لاہور سے بہبود فنڈ حاصل کرنے کی درخواست لیکر پیش ہوئی۔ کہ اسکے مرحوم والد سرکاری ملازم تھے۔ اُسکی والدہ بھی فوت ہو چکی ہیں اور وہ ابھی تک غیر شادی شدہ ہے۔ محمکہ نے اعتراض اٹھایا کہ بہبود فنڈ رولز کے مطابق لڑکا 18 سال تک اور لڑکی 21 سال تک اس فنڈ کی حقدارہ ہے۔ ہم نے سماعت کے بعد یہ حکم لکھا کہ تمام رولز انسانی فلاح و بہبود کے لیے بنائے جاتے ہیں۔ لہٰذا ان رولز میں ترمیم ضروری ہے۔ اور لڑکی کے لیے عمر کی شرط ہٹا کر اُسکی شادی تک یہ فنڈ اُسے دینے کے الفاظ درج ہونے چاہیں۔ یہ میرا ڈرافٹ آرڈر جب جناب جسٹس سپرا صاحب کے روبرو پیش ہوا تو انہوں نے مجھے بلا کر ستائش کی۔ فوری طور پر اس وقت کے چیف سیکرٹری پنجاب حفیظ اختر رندھاوا کہ جن کے ساتھ جج صاحب کے دیرینہ ذاتی اور خاندانی مراسم بھی تھے کو فون پر یہ صورت حال بتائی۔ انہوں نے ایک ہفتہ کے اندر ترمیم کرا کے یہ رول بنا دیا کہ اب کسی متوفی سرکاری ملازم کی بیٹی اپنی شادی تک یہ رقم وصول کرنے کی حقدارہ ہو گی۔

اسی طرح ایک دیگر اس سے بھی حسّاس مسلۂ ایک سکول ٹیچر کی بیوہ کی طرف سے پیش ہوا۔ بڑے ہی باوقار اور درویش منش چوہدری سلامت علی مرحوم ریٹائرڈ سیشن جج نے سماعت کی۔ اور سول سرونٹس ایکٹ کی دفعہ 17Aمیں ترمیم بھی صوبائی محتسب کی ہدایت پر کرائی گئی کہ اگر متوفی ملازم کا کوئی بچہ نوکری کے قابل نہ ہو تو اُسکی بیوہ کو بھی اس میں شامل کر لیا گیا۔ ہم نے ضلع جھنگ کے محکمہ تعلیم میں جان بوجھ کر تاخیر کردہ ایسے ہی معاملہ میں جب EDO ایجوکیشن کو ذاتی طور پر طلب کرا کے حکم کی تعمیل کرائی تو اُس سائل یتیم بچے نے چند یوم بعد آ کر یہ خوش کن اور جاں فزاں خبر سنائی کہ ہمارے ایک حکم کی وجہ سے صرف ضلع جھنگ کے محکمہ تعلیم سے ایک ہفتہ کے اندر تمام روکے گئے تقرری کے حکم زیر دفعہ 17A جو کہ 38 کی تعداد میں تھے جاری کر دیے گئے۔ یہ کوئی معمولی واقع نہ تھا کہ ایک دن میں ہماری مداخلت سے 38 یتیم بچوں کو سرکاری نوکری مل گئی۔ صرف پرُ نم آنکھوں سے خدائے بزرگ و برتر کا شکر ہی ادا ہو سکتا تھا۔

ذاتی تشہیر و صلہ ستائش کے لیے نہیں بلکہ اپنے دوستوں اور ساتھی ججز کی راہنمائی کے لیے عرض کرنے کی جسارت کر رہا ہوں کہ سات آٹھ اضلاع میں بطور ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج عرصہ تعیناتی میں اگر کوئی عدالتی اہلکار وفات پا جاتا تو اپنی مدد آپ کے تحت فوری مالی امداد کے علاوہ متوفی اہلکار کے چہلم سے پہلے اُس کے ایک بچے کو متذکرہ سیکشن 17A کے تحت ملازمت فراہم کرنا اپنا اخلاقی، قانونی فریضہ سمجھا اور نبھایا۔ ہمارے سبھی جج انصاف کرتے ہیں۔ انصاف کو ثواب اور عبادت بھی سمجھتے ہیں۔ کہ آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد عالی شان ہے کہ کسی قاضی کا انصاف کرنے کی تگ و دو میں گزرا ہوا ایک لمحہ ساٹھ سال کی نفلی عبادت سے افضل ہے۔ لیکن اگر یہ انصاف احسان کے ساتھ ہو…….Justice with mercy ہو ۔ کسی دُکھی، یتیم، بیوہ، بے کس و لاچار، مظلوم کے آنسو پونچھ دیے جائیں، کسی ظالم اور جابر شخص کا ہاتھ ظلم و جبر سے روک دیا جائے تو یہ یقیناً قاضی کے لیے باعث نجات ہو گا کہ انصاف کرنا خدائی صفات میں سے ہے۔

یہ بات پوری تحقیق اور ذمّہ داری سے عرض کر رہا ہوں کہ ہمارے ہاں سرکاری ملازم خواہ وہ کسی گریڈ یا سکیل کا ہو بنیادی طور پر سفید پوش ہی ہوتا ہے۔ جب تک کسے عہدہ یا سیٹ پر ہوتا ہے تو لگتا ہے کہ اس سے خوشحال کوئی اور نہ ہے۔ مگر جب یہ چیزیں نہیں رہتیں یا خدا نخواستہ وہ دنیا سے ہی چلا جاتا ہے تو سارا بھرم کھل جاتا ہے۔ یہ بنیادی طور پر ون مین شو ہوتا ہے۔ میں اپنے ساتھی کئی جج صاحبان جو دوران سروس ہمیں داغ مفارقت دے گئے جب وفات کے بعد ان کے گھروں میں گیا تو واپسی بڑے بوجھل دل سے ہوئی۔ خصوصاً جب گھر کا سارا منظر ہی بدلا ہوا دیکھا اور وہ فیملی جو کبھی بڑے ناز و نعم اور آرام و آسائش میں زندگی گزار رہی تھی اب دکھ، کرب اور ابتلا میں گھری نظر آئی۔ بہت سے واقعات کا عینی شاہد اور آمین ہوں صرف ایک دل دہلا دینے والے واقع کا ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ جب گجرانوانہ میں تعینات ایک بڑے ہی درویش منش اور نیک سیرت ایڈیشنل سیشن جج جو میرے کسی زمانے میں سینئر سول جج بھی وہاں رہ چکے تھے کی نماز جنازہ میں شرکت کے تقریباً ایک ماہ بعد اپنی اہلیہ کے ہمراہ مرحوم جج صاحب کی بیوہ سے تعزیت اور پُرسہ دینے کے لیے ان کی سرکاری رہائش گاہ گجرانوالہ پہنچے تو گھر میں داخل ہوتے ہی ایک دل گرفتگی کے عالم میں گھر کا سارا نقشہ ہی بدلا ہوا دیکھا اور پھر مرحوم جج صاحب کے بڑے بھائی کی موجودگی میں ہماری بھابھی محترمہ نے جو اتفاق سے بے اولاد بھی تھیں جب یہ کہا کہ بھائی مجھے یہ سمجھ نہیں آ رہی کہ اس سرکاری گھر کو چھوڑنے کے بعد میں کس کے پاس اور کہاں جاؤں گی تو بے اختیار میرے آنسو نکل گئے اور لاہور تک واپسی کا سفر چشم نم کے ساتھ اتنی دل شکستگی اور افسردگی میں کیا کہ بیان سے باہر ہے۔ پھر پتہ چلا کہ اُن کی کوئی بھانجی انہیں اپنے ساتھ کسی دوسرے شہر میں لے گئی ہیں۔ اس تناظر میں چھوٹے عدالتی مرحوم اہلکاروں کے لواحقین کی کسمپرسی کا تو نہ ہی پوچھیں۔

ہمارے کئی ریٹائرڈ جج صاحبان پچھلے کئی سالوں سے جوڈیشل الاؤنس کو پنشن کا حصہ بنوانے کے لیے تگ و دو کر رہے ہیں اور اس سلسلہ میں عدالتی چارہ جوئی بھی کر رکھی ہے جو اس بات کی واضح غمازّی ہے کہ ریٹائرمنٹ پر کوئی مانے یا نہ مانے بہرحال معاشی مشکلات درپیش ہوتی ہیں۔ اور انکی یہ کاوش کسی خود غرضی کی بنا پر نہیں بلکہ جائز، قانونی اور اصولی ہے۔ حکومت وقت کو بھی یہ مطالبہ خوشی دلی سے منظور کرنا چاہیے کہ یہ اس کی نیک نامی کا باعث بھی بنے گا۔

پھر دوسری پوسٹنگ جسکا قبل ازیں ذکر اسی قسط میں کر چکا ہوں بطور سپیشل جج سنٹرل لاہور تھی۔ وہاں کام کرنے کا ایک الگ ہی تجربہ اور لطف تھا۔ کام کی بھرمار۔ تقریباً بارہ اضلاع کے لیے اکیلا جج۔ چار پانچ ہزار مقدمات زیر سماعت۔ عوام اور وکلاء کا جمّ غفیر اور ہمارا حوصلہ اور بُردباری۔ سبھی کچھ دیکھنے کے لائق تھا۔ یہاں کس طرح کام کیا یہ ایک قابل فخر کہانی ہے اور اپنے ساتھیوں اور دوستوں کے لیے سبق کے کئی مواقع۔ اس عدالت میں سب سے زیادہ مقدمات Immigration Ordinance کے ہوتے تھے۔ اوکاڑہ سے لے کر گجرات تک کے علاقے میں قائم ایک ہی عدالت جس میں خصوصاً منڈی بہاؤالدین، گجرات، سیالکوٹ اور گجرانوالہ کے ہزاروں متاثرین اور ملزمان انصاف کے منتظر بسوں اور ویگنوں میں روزانہ اس عدالت کا رُخ کرتے۔ ہم نے جلد ہی یہ بھانپ لیا کہ یہاں معاملہ لڑائی مارکٹائی کا نہ ہے۔ نہ ہی عزت و غیرت کی گھمبیرتا ہے۔ یہاں تو ایک فریق اپنی جمع پونجی لُٹا کر اپنی غربت مٹانے کے لیے اپنے بیٹے یا بھائی کو بیرون ملک روزگار کے لیے بھیجنا چاہتا تھا۔ مگر ایجنٹ مافیا کی بھینٹ چڑھ کر سب کچھ لٹا بیٹھا۔ میں نے ایک آرٹیکل

‏“Menace- of- HumanTrafficking -in -Pakistan, Its- Causes- and -Preventive- Measures”

لکھا جو PLD 2014 Journal Page 66 پر چھپ چکا ہے۔ جس میں بڑی تفصیل سے ان تمام عوامل خصوصاً معاشی، معاشرتی اسباب و وجوہات کا کُھل کر تذکرہ کیا ہے جو لوگوں کو بیرون ملک جانے پر مجبور کرتے ہیں۔ بہرحال طوالت سے بچتے ہوئے اتنا کہنے پر اکتفا کرتا ہوں کہ اپنی اس تقریباً اڑھائی سالہ پوسٹنگ کے دوران اس وقت کے ڈائریکٹر لاہور FIA کے مطابق تقریباً ڈیڑھ دو ارب روپے کی خطیر رقم میں نے متاثرین کو ایجنٹ مافیا سے واپس کرائی۔ اس دوران تقریباً دس ہزار درخواست ہائے ضمانت جن میں تقریباً 95 فیصد بعد از گرفتاری اور اُن میں ایک بہت بڑی تعداد میں ملزمان کی رہائی بشرط ادائیگی واپسی رقم اور پھر سات ہزار سے زائد ریگولر ٹرائل بھی فیصلہ کیے۔ جو سکون، طمانیت، قرار اور آسودگی ان متاثرین کو رقم واپس کرا کے ملی وہ شاید بقیہ سروس میں اس بڑے پیمانے پر اور اس بھرپور انداز میں نہ مل سکی۔

اب جسکے جی میں آئے وہ پائے روشنی
ہم نے تو جی جلا کے سر عام رکھ دیا