غیرملکی شہریت رکھنے والےوزیروں،مشیروں کے استعفے کا مطالبہ

قومی اسمبلی میں اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگزیب نے مطالبہ کیا ہے کہ وزیراعظم غیرملکی شہریت رکھنے والے مشیروں، وزیروں سے استعفیٰ لیں۔

انہوں نے وزیراعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ’آپ نے کہاتھا آپ کی دوہری شہریت ہو اور وزیر بھی ہوں ، یہ نہیں ہوسکتا،یہ نہیں ہوسکتا آپ کی دوہری شہریت ہو اور ملک کے فیصلے بھی کریں‘مریم اورنگزیب نے سوال کیا کہ آج غیرملکی پاسپورٹ والوں کو کابینہ میں کیوں بٹھا رکھا ہے؟ جن کا پاکستان میں کچھ نہیں، انہیں کابینہ میں بٹھا کر کیوں فیصلے کرا رہے ہیں؟

ن لیگی ترجمان نے کہا کہ ملک پرغیرملکی ٹولہ مسلط ہونے سے عوام بے روزگاری، معاشی تباہی میں مبتلا ہیں۔

پاکستان پیپلزپارٹی کی رہنما شیری رحمان نے کہا کہ 19غیرمنتخب کابینہ ارکان میں 4 معاونین خصوصی دہری شہریت کے حامل ہیں۔ دہری شہریت کا حامل شخص رکن پارلیمان نہیں بن سکتا۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ دہری شہریت والوں کو کابینہ کا حصہ کیوں اور کس قانون کے تحت بنایا گیا؟ عمران خان دہری شہریت کے حامل کابینہ ارکان کی سخت مخالفت کرتے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان نے اپنی ہر بات سے یو ٹرن لیا ہے۔ اگر وزیراعظم کو معلوم نہیں تھا تو یہ مزید تشویش کی بات ہے۔ کیا دہری شہریت کے لوگ نیا پاکستان بنا رہے ہیں؟

شیری رحمان نے کہا کہ نیا پاکستان کی تعمیر کیلئےبیرون ملک سے کاریگر درآمد کرنے پڑے۔ کیا ملک اور تحریک انصاف میں قابل لوگوں کی کمی تھی؟ ثابت ہو چکا اس حکومت کے پاس کوئی پالیسی اور وژن نہیں۔

پیپلزپارٹی کی رہنما نفیسہ شاہ کا کہنا ہے کہ دہری شہریت اور بیرون ملک اثاثوں کی تفصیلات نے پنڈورا باکس کھول دیا ہے، مشیروں کی اصلیت سامنے آنے کے بعد سلیکٹڈ وزیراعظم بے نقاب ہو چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سلیکٹڈ وزیراعظم کی اپنی آدھی کابینہ دوہری شہریت کی حامل نکلی ہے۔ بیرون ممالک سے وفاداری کا حلف اٹھانے والوں کو پاکستان پر مسلط کیا گیا ہے۔

نفیسہ شاہ نے سوال کیا کہ وزیراعظم دہری شہریت کے حامل کابینہ ارکان کے خلاف کیا کارروائی کر رہے ہیں؟ دیگر ممالک کے ساتھ وفاداری کا حلف اٹھانے والے پاکستان کے ساتھ کیسے مخلص ہو سکتے ہیں؟

Courtesy hum news