نئے نئے بحران

جب سے پی ٹی آئی حکو مت آئی ہے گزشتہ 2برسوں سے نئے نئے بحران جنم لے رہے ہیں۔ جب پی ٹی آئی کی صرف کے پی میں حکومت تھی تب بھی وہاں پر بی آر ٹی اسکینڈل، مالم جبہ اسکینڈل، ہیلی کاپٹر اور کئی دوسرے اسکینڈلز رونما ہوئے مگر کوئی توجہ نہیں دی گئی، اب وفاق میں پی ٹی آئی کی حکومت ہے تو آئے دن نئے نئے کرپشن اسکینڈل دیکھنے میں آرہے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کے 10ارب درخت کے سونامی پروجیکٹ (ٹی بی ٹی ٹی) اب تنازعات کا شکار ہوتا نظر آ رہا ہے۔ جس اسکیم پر ڈھول پیٹے جاتے تھے، اب اسے پنجاب میں مختلف نوعیت کے کرپشن کے الزامات کا سامنا ہے جن میں جعلی بل، جعلی پودے لگانے اور غلط انداز سے کی گئی کھدائی، غیرمجاز ادائیگیوں وغیرہ جیسے الزامات سامنے آ رہے ہیں۔ محکمہ جنگلات پنجاب نے 10جون کو ایک تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی، 30جون کو محکمہ جنگلات نے ایک اور آرڈر جاری کرکے سابقہ کمیٹی تحلیل کرکے اس کی جگہ ایک اور نئی کمیٹی بنا دی۔ سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ سابقہ کمیٹی زیادہ اہلیت کی حامل تھی لیکن اسے تحقیقات کی اجازت نہیں دی گئی۔ محکمہ جنگلات کے حکام نے تصدیق کی ہے کہ یہ شکایات نہ صرف درست ہیں بلکہ بھکر، چکوال اور ڈی جی خان کے معاملے میں یہ پروجیکٹ زبردست کرپشن کی نذر ہوا ہے۔ مذکورہ بالا تین شہروں کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ ان میں گزشتہ مالی سال کے دوران ہدف 11ہزار 500ایکڑ پر درخت اگانے کا تھا لیکن بمشکل ہی 20سے 25فیصد حصے پر درخت اگائے گئے۔

ایک جانب صوبائی حکومت کی طرف سے فلور ملز مالکان کو سرکاری گوداموں سے 1470روپے من کے حساب سے گندم کی فراہمی شروع ہو چکی ہے۔ فلور ملز مالکان اور پنجاب حکومت کے درمیان جو سمجھوتہ طے پایا اس کے مطابق 20کلو آٹے کے تھیلے کی پرچون قیمت 860روپے مقرر ہوئی، اس طرح سرکاری نرخ کے مطابق ایک تھیلے کے نرخ 55روپے بڑھ گئے، اِس سے پہلے یہ قیمت 805روپے تھی، یوں جو آٹا 40روپے فی کلو تھا، اس کے نرخ اب 43روپے فی کلو ہو گئے۔ سینئر صوبائی وزیر نے دعویٰ کیا کہ بازار میں آٹا سرکاری نرخوں پر دستیاب ہے لیکن حقیقی صورتحال یہ ہے کہ فلور ملز کا آٹا اب بھی 1100روپے (20کلو تھیلا) میں بک رہا ہے کہ دس کلو والا 555روپے کا بیچا جا رہا ہے۔ یوں فی کلو آٹے کا نرخ اب 57روپے ہے۔ سرکاری گوداموں سے گندم جاری کرنے اور بیرون مُلک سے 10لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کی اجازت دینے کے باوجود آٹا سرکاری نرخوں پر دستیاب نہیں۔

دوسری طرف وزیراعظم کی ہدایت پر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے اپنے مشیر اطلاعات اجمل وزیر کو مبینہ بدعنوانی کے الزام میں عہدہ سے فارغ کر دیا اور ان کے خلاف تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ مشیر اطلاعات کی مشاورت سے فراغت ایک آڈیو کال لیک ہونے کی وجہ سے ہوئی۔ اس میں ایک ایڈور ٹائزنگ ایجنسی کے نامعلوم نمائندے سے ان کی بات چیت ہو رہی تھی، اس میں جو گفتگو ہوئی اس کے مطابق اجمل وزیر اس ایجنٹ کے ساتھ سرکاری اشتہارات کے حوالے سے کمیشن کی شرح طے کر رہے تھے۔ فوری کارروائی پر وزیراعظم کی تحسین کی جا رہی ہے کہ انہوں نے جرم کو چھپانے کے بجائے، اس الزام کی باقاعدہ تحقیق کا حکم دیا ہے، اب اس تحقیقات کے بعد ہی کچھ مزید لکھا جائے گا کہ نتیجہ کیا نکلتا ہے۔

محکمہ ریلوے کے حالات بھی اچھے نہیں۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس، مسٹر جسٹس گلزار احمد نے کہا ہے کہ ریلوے ڈیتھ ٹریک بن چکا اسے موجودہ انداز میں نہیں چلایا جا سکتا، ریلوے کا نظام ایسا نہیں کہ ٹرین ٹریک پر چل سکے، پہلے ہی77ہزار ملازمین ہیں، شیخ رشید مزیدایک لاکھ کہاں بھرتی کریں گے؟ کیا چائنہ سے ایم ایل ون کے لئے ملنے والا پیسہ ایک لاکھ ملازمین ہی لے جائیں گے۔ جناب چیف جسٹس نے اِن خیالات کا اظہار ریلوے از خود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران کیا، چیئرمین ریلوے کی طرف سے ایک رپورٹ پیش کی گئی، جس میں سی پیک کے تحت ایم ایل ون کی اپ گریڈیشن اور کراچی سرکلر ریلوے کے بارے میں عدالت کو بتایا گیا کہ ایم یل ون نہ بنا تو ریلوے نہیں چل سکتا،لیکن یہ ایم ایل ون تو ابھی منظوری کے مراحل میں ہے۔ منصوبے کا پی سی ون ایکنک میں زیر التوا ہے منظور ہوا تو فنڈز سی پیک کے ذریعے ملیں گے۔ گویا اس کی تکمیل بھی چین کی مرہونِ منت ہوگی، کسی وجہ سے یہ فنڈز نہ ملے تو یہ منصوبہ بھی غیریقینی کا شکار ہو جائے گا، جب تک ایم ایل ون نہیں چلتا ریلوے موجودہ گھسے پٹے طریقے سے ہی چلتا رہے گا اور اس کا خسارہ قومی خزانے سے پورا کیا جاتا رہے گا لیکن بربادی کے ذمے داروں کے خلاف کچھ نہیں ہوگا۔

وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے مُلک بھر کے تعلیمی ادارے ستمبر کے پہلے ہفتے میں کھولنے کی تجویز سے اتفاق کیا ہے، وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کی صدارت میں بین الصوبائی وزرائے تعلیم کی آن لائن کانفرنس میں ہونے والے فیصلے کی حتمی منظوری این سی او سی کے آئندہ اجلاس میں دی جائے گی جبکہ تعلیمی ادارے نئے داخلوں اور تعمیر و مرمت کے لئے 15جولائی سے کھولنے پر بھی اتفاق کیا گیا، کانفرنس میں چاروں صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے وزرائے تعلیم وڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوئے اور اب بھی ستمبر سے پہلے پھر میٹنگ ہوگی تب جا کر حتمی فیصلہ ہوگا۔ جبکہ دنیا بھر میں جہاں ہم سے زیادہ کورونا وائرس موجود ہے وہاں گزشتہ 2ماہ سے تعلیمی ادارے اور مالز کھول دیے گئے ہیں مگر ہم ابھی تک سوچ رہے ہیں۔ خدارا معیشت تو تباہ ہو چکی ہے، تعلیمی اداروں کو تباہی سے بچائیں اور عید کے بعد ان کو کھلنے دیں تاکہ گزشتہ 5ماہ سے جو تعلیمی نقصان ہو ا ہے اس کو جلد از جلد ری کور کیا جا سکے۔ میری حکومت سے گزارش ہے کہ شادی ہالوں کو بھی ایس او پیز کے تحت کھلنے دیا جائے تاکہ کاروباری زندگی چل سکے