پاکستان میں کورونا کا یوٹرن

یوٹرن کی اصطلاح یوں تو وزیراعظم عمران خان کی وجہ سے زبانِ زد عام ہوئی لیکن ان دنوں لگتا ہے کہ ’عالمی وبا‘ کورونا نے بھی پاکستان آکر یوٹرن لینا نہ صرف سیکھ لیا ہے بلکہ یوٹرن لے بھی لیا ہے۔

گزشتہ چند ہفتوں کے دوران حکمرانوں کے اس دعوے کے جولائی، اگست، ستمبر خوفناک ہوں گے، کے برعکس صورتحال نظر آئی، جہاں ملک بھر میں ایس اوپیز کو بالائے طاق رکھ کر اچانک مگر فوری زندگی رواں ہو چکی ہے، وہاں پاکستان میں کورونا کے مریضوں کی تعداد میں متواتر اضافے کے بعد حالیہ دنوں میں مصدقہ متاثرین کی تعداد میں کمی کا رجحان دیکھنے میں آیا۔ حکمران جس طرح اعداد و شمار دے رہے تھے تو عام اصول کے مطابق چونکہ متاثرین زیادہ تھے اور اسپتالوں میں جگہ بھی نہ تھی، یعنی معقول انتظام نہ ہونے اور دوا دریافت نہ ہونے کے سبب تو ان متاثرین سے مزید لوگ متاثر ہوتے اور اس طرح مرنے والوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوتا،لیکن یہ اچانک کیسامعجزہ ہوگیا ہے کہ نہ صرف یہ کہ مرنے والوں کی تعداد میں پاکستانی اسٹاک ایکسچنج کے سٹے کی طرح اچانک تیزی کے بعد مندی آگئی ہے بلکہ صحت کا وہ نظام جو مفلوج ہونے کے قریب تھا، اس نے بھی چیخنا بند کر دیا ہے۔ ایک بین الاقوامی نشریاتی ادارے کوا سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر ڈیپارٹمنٹ پنجاب کے سیکرٹری نے بتایا کہ محض چند روز قبل تک اسپتالوں میں کورونا وارڈز 90سے 95فیصد تک مریضوں سے بھر چکے تھے لیکن اب پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کے اسپتالوں میں کورونا کے مریضوں کے لیے مختص 40سے 50فیصد انتہائی نگہداشت کے بستر اور یونٹس زیادہ تر خالی ہو گئے ہیں۔

آپ کو یا د ہوگا کہ 8جون کو وزیراعظم نے خبر دارکیا تھا کہ جولائی کے آخر یا اگست میں کورونا وبا عروج پر جاسکتی ہے۔ 22جون کو ڈاؤ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر سعید قریشی نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ کورونا 80ہزار پاکستانیوں کی جانیں نگل سکتا ہے، پاکستان میں کورونا وائرس کی پیک 13تا 16اگست ہو سکتی ہے۔ 23جون کو سینیٹر رحمٰن ملک نے وزیراعظم کے نام لکھے خط میں کہا تھا کہ بغیر کسی تاخیر کےفوج کے زیر انتظام کرفیو نافذ اور جولائی، اگست اور ستمبر کیلئے ہیلتھ ایمرجنسی کا اعلان کیا جائے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اچانک یہ کیسے انقلاب آگیا ہے کہ وبا کے سبب لاحق خوف کم بلکہ ختم ہوتا نظر آرہا ہے۔ ہمارے صحت کا نظام ایسا قابلِ رشک نہیں کہ ہم کہہ سکیں کہ راتوں رات مرض پر قابو پالیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں عوامی حلقوں کا کہنا یہ ہے کہ لوگوں کا حکمرانوں کے کہے پر اگرچہ اعتبار تھا لیکن بعض واقعات نے یہ اعتبار کھو دیا، غریب مریضوں کو تو علاج وتدفین سمیت مختلف مسائل و پابندیوں کا سامنا تھا لیکن بااثر لوگوں کے لواحقین کیلئے تدفین و جنازے کے حوالے سے کوئی پابندی نہیں تھی اس لئے یہ تاثر عام ہوا کہ ایس او پیز صرف کمزور طبقات کیلئے ہیں۔ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ بعض مفتیوں نے گھر پر نماز و تراویح پڑھنے کا فتویٰ دیا لیکن جب ایک جلوس نکلا تو جنہوں نے فتویٰ دیا وہی یہ بیانات دینے لگے کہ اب مسجدوں کو آباد کیا جائے حالانکہ اس دوران بقول سرکار کورونا نے شدت اختیار کرلی تھی۔ وہ اس سلسلےمیں خاص طور پر کہتے ہیں کہ ایک مفتی صاحب ٹی وی اسکرین پر آکر بلاناغہ ایس او پیز پر عمل کرنے کا درس دیتے تھے لیکن جب وہ فوت ہوئے تو اُن کے عقیدت مندوں نے ایس او پیز کو بالائے طاق رکھ کر ہزاروں کی تعداد میں نماز جنازہ میں شرکت کی۔ خاص کر سرکاری و پرائیویٹ اسپتالوں نے جو طرز عمل اپنایا وہ عوام کے بھرپور ردِعمل کا سبب بنا، یوں بقول ان لوگوں کے، ان وجوہات کے باوصف حکمران طبقات جاننے لگے کہ یہ اشتعال خطرناک بھی ثابت ہو سکتا ہے اس لئے اُنہوں نے پابندیوں کو نرم کرنےمیں ہی عافیت سمجھی۔ بعض حلقوں کے مطابق بے حس حکمران عوامی ردعمل کو اہمیت ہی نہیں دیتے۔ ان کے مطابق پاکستان نے شدت سے کورونا کا واویلا اس لئے کیا کہ عالمی دنیا سے مدد آسکے، کچھ وصولی تو ہوئی لیکن سچ سامنے آنے کے بعد یہ امداد رُک چکی ہے، لہٰذا قومی خزانے اور عالمی خیراتی رقم کی مبینہ بندر بانٹ کے بعد بڑی خاموشی سے کورونا کو کارپیٹ کے نیچے لپیٹا جا رہا ہے۔ کچھ لوگ اندرونی سیاسی حالات اور بعض لوگ مافیاز کے اسکینڈل سے توجہ ہٹانے کو بھی کورونا پروپیگنڈے کی وجہ قرار دے رہے ہیں، خیر حقیقت جو بھی ہو، مگر خدا کرے کہ عوام ہر قسم کی وبا سے محفوظ ہو جائیں، اور اس دوران غریبوں کیلئے روزی روٹی کا جو مسئلہ پیدا ہوا ہے وہ اب حل کرلیا جائے

Courtesy jang news