کالے کرتوت، کالے قول

کوئی منتخب ہو یا غیر منتخب، پیشہ ور سیاستدان ہو یا کسی فلوک کی پیداوار، کاروباری ہو یا کوئی ٹیکنو کریٹ، سمارٹ ہو یا للو پنجو، مومن ہو یا ملحد،اصل پہچان انسان کی اس کے کاموں کرتوتوں سے ہوتی ہے۔ جھاڑو دینے والا خاکروب بھی اگر اپنا کام دیانتداری و ذمہ داری سے کر رہا ہو تو وہ قابل صد احترام ہے جبکہ ٹیچنگ جیسے اتم ترین پیشے سے وابستہ کوئی استاد بھی اگر کسی گھوسٹ سکول کے پے رول پہ ہو تو قابل نفرت ہے۔

اخبار، میرے نزدیک آئینہ ہوتا ہے ’’اجتماعی چہرہ‘‘ دیکھنے کیلئے اور شاید اسی لئے اکثر ’’کالم‘‘ روتے، پیٹتے ماتم کرتے نظر آتے ہیں البتہ ماتم کیلئے لاش اپنی اپنی ہوتی ہے ورنہ ’’خلاصہ‘‘ وہی جو عرض کر دیا۔ انتہا یہ کہ عطاء الحق قاسمی کا ہنستا مسکراتا کھلکھلاتا کالم بھی اندر سے رو ہی رہا ہوتا ہے کیونکہ روں روں میں آگ سلگ رہی ہوتی ہے اور ہر مسام پھوڑے پھنسی کی طرح اذیت میں مبتلا۔ کبھی ہائی لائٹر لے کر اخبار پڑھیں اور ان خبروں پر نشان لگائیں جنہیں پڑھ کر آپ نے دم بھر کو ریلیکس کیا ہو، خوش ہوئے ہوں۔

خبریں کیا، ڈپریشن کے ڈھیر اور ڈھیریاں ہوتی ہیں جن سے بچنے کیلئے میں نے اپنے لئے ’’کالے قول‘‘ کی کچی پکی ڈھال رکھ چھوڑی ہے جو مجھے لگاتار ماتم اور آپ کو بوریت سے بچانے میں مددگار ثابت ہوتی ہے سو آج بھی چند ’’کالے قول‘‘ جو جتنے بھی گئے گزرے گھسے پٹے ہوں، کالے کرتوتوں سے کئی گنا بہتر ہوتے ہیں کیونکہ بے ضرر ہوتے ہیں۔…٭ …٭ …پیچیدہ پُرپیج گلیوں میں تو کوئی بھی بھٹک سکتا ہے لیکن سیدھی صاف سڑک پر رستہ بھولنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔…٭ …٭ …

ٹوٹا ہوا ساز موسیقی کے قابل نہیں ہوتا۔…٭ …٭ …چھوٹی چھوٹی باتوں کو نظر انداز کرنے والا کبھی بڑا کام سر انجا م نہیں دے سکتا۔…٭ …٭ …بیہودہ گفتگو کیلئے ’’خاموشی‘‘ سے بہتر علاج کوئی نہیں۔…٭ …٭ …عمر میں اضافہ کا ایک طریقہ خوراک میں کمی بھی ہے۔…٭ …٭ …

تعلق اور محبت میں وہی رشتہ ہے جو کھاد اور پودے میں ہوتا ہے۔…٭ …٭ …آنے والے کل کا جانے والے کل سے بارٹر گھاٹے کا سودا ہے۔…٭ …٭ …دنیا تو چھوڑو، خود اپنے خلاف جنگ جیت کر دکھائو۔…٭ …٭ …کچھ سادہ لوح تنہائی پسندی کو تکبر سمجھتے ہیں۔…٭ …٭ …قوت ارادی ڈسپلن کی اولاد ہے۔…٭ …٭ …

دریا عبور کر جانے سے پہلے مگرمچھ کو مت بتائو کہ وہ بدصورت اور بے ہنگم ہے۔…٭ …٭ …صرف ایک چیز بڑھاپے سے بچا سکتی ہے، موت۔…٭ …٭ …معمولی میں غیرمعمولی کی تلاش صوفیا کا کام ہے۔…٭ …٭ …کبھی کبھی مفت مشورہ مہنگے ترین مشورہ سے زیادہ قیمتی ہوتا ہے۔…٭ …٭ …

ہمیشہ غیر متوقع کیلئے تیار رہو۔…٭ …٭ …لیڈرز جنگیں شروع کرتے اور مرتے صرف عوام ہیں۔…٭ …٭ …بولا گیا ہر غیر ضروری فقرہ پتھر بن کر پلٹتا ہے۔…٭ …٭ …زندگی کی شاہراہ پر نہ کوئی سگنل ہوتا ہے نہ ٹریفک کا کوئی اور نشان، یہی امتحان ہے۔…٭ …٭ …جیسے ہمارے فنگر پرنٹس نہیں ملتے، ایسے ہی ہمارے خیالات بھی نہیں ملتے تو اس بنا پر نفرت کیسی؟…٭ …٭ …

آدمی نہیں، انسان ہو تو کرئہ ارض پر رہنے کا ’’کرایہ‘‘ ادا کرو اور تم جانتے ہو کہ ’’مالک مکان‘‘ کون ہے اور بطور کرایہ تم سے کیا چاہتا ہے۔…٭ …٭ …بلوغت بھول جاتی ہے کہ بچے کیا چاہتے اور کیسے سوچتے ہیں۔…٭ …٭ …ہر وہ دستاویز غور سے پڑھو اور سمجھو جس پر تمہارے دستخط درکار ہیں۔…٭ …٭ …کوئی محبت نہ غیر مشروط ہوتی ہے نہ ہو سکتی ہے نہ ہونی چاہئے۔…٭ …٭ …

مسکراہٹ، کاسمیٹک سرجری سے بہت بہتر، سستی اور آرام دہ ہے لیکن یہ بات بہت سی بیگمات کو سمجھ نہیں آتی۔…٭ …٭ …طاقت خرچ ہونے سے کم ہوتی ہے، ’’طاقت کاری‘‘ کرنے سے بڑھتی ہے بالکل سرمایہ کاری کی مانند۔…٭ …٭ …کردار، ساکھ سے زیادہ ضروری ہے لیکن لوگوں کی اکثریت ساکھ کو ترجیح دیتی ہے۔…٭ …٭ …جس قبیلہ کی اخلاقیات برباد، اس کی باقیات بھی نہیں ملتیں۔…٭ …٭ …

پائوں بھلے پھسل جائے، زبان کے پھسلنے سے بچو خصوصاً PTI۔…٭ …٭ …دنیا کا کوئی سیانا گلاس میں جگ بھر پانی نہیں ڈال سکتا۔…٭ …٭ …انسان ایک جیسے نہیں ہوتے، صرف ان کے فرائض اور حقوق ایک جیسے ہوتے ہیں۔…٭ …٭ …اپنا قصیدہ لکھو اور پھر اسے سچا ثابت کرو۔…٭ …٭ …ہمارے حکمرانوں کو مچھلی پکڑنی نہیں آتی، بیان بازی دریا کے خلاف کر رہے ہیں۔

Courtesy jang news