پنجاب کے وزیر جنگلی حیات کابینہ سے فارغ، استعفیٰ منظور

صوبائی وزیر جنگلی حیات اسد کھوکھر کابینہ سے فارغ کر دیے گئے، وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے اس حوالے سے وزیر اعظم عمران خان سے مشاورت بھی کی تھی۔

ذرایع کا کہنا ہے کہ اسد کھوکھر کو وزیر بنانے پر شدید تنقید کی گئی تھی، انھیں وزیر اعظم سے مشاورت پر ہٹانے کا فیصلہ تھا، تاہم اسد کھوکھر نے ہٹائے جانے سے قبل خود ہی استعفیٰ دے دیاذرایع کے مطابق وزیر اعلیٰ پنجاب نے اسد کھوکھر کو وزارت سے فارغ کرنے کا فیصلہ وزیر اعظم کی مشاورت سے کیا ہے، اسد کھوکھر کا استعفیٰ ملتے ہی وزیر اعلیٰ نے اسے منظور کر لیا۔ رکن اسمبلی عظمیٰ کاردار کی وزیر اعظم، ان کی اہلیہ اور عثمان بزدار کے خلاف آڈیو ٹیپ کے معاملے پر معافی کی کوششیں رائیگاں چلی گئی ہیں، پی ٹی آئی قیادت نے عظمیٰ کاردار سے اسمبلی رکنیت سے استعفے کا کہہ دیا ہے، کہا جا رہا ہے کہ عظمیٰ سے استعفیٰ لینے کی تیاری مکمل کی جا چکی ہے۔

یاد رہے کہ اپریل میں ایف آئی کی جانب سے آٹا اور چینی بحران کی تحقیقاتی رپورٹ جاری ہونے کے بعد وزیر خوراک پنجاب سمیع اللہ چوہدری نے استعفیٰ دے دیا تھا جسے وزیر اعلیٰ پنجاب نے منظور کیا۔

اس سے قبل خیبر پختون خوا میں وزیر اعظم کے معاون خصوصی افتخار درانی اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے تھے، ان کا استعفیٰ وزیر اعظم نے منظور کیا تھا۔ پی ٹی آئی سینئر رہنما افتخار درانی کا شمار وزیر اعظم کے قریبی ساتھیوں میں ہوتا ہے

Courtesy ary news