سجاول کے گاؤں چوھر جمالی کے علاقے حسین کونجائی | رپورٹ: ظھیرعلی اورندیم میمن سجاول

سجاول کے گاؤں حسین کونجائی میں لوگ نہر پر پل نہ ہونے کے باعث جنازہ تھرموپول پر رکھ کر نہر عبور کرنے پر مجبور ہیں۔ کیا آپ یقین کریں گے کہ یہ اکیسویں صدی کے لوگ ہیں نہر پر پل نہ ہونے کی وجہ سے سجاول کے ایک گاؤں میں جنازے کو دوسری طرف قبرستان تک پہنچانا لوگوں کے لئے بہت بڑا چیلنج بن گیا۔سماء ٹی وی کے علاقائی نمائندوں نے دل دہلا دینے والی رپورٹ پیش کی ہے جس میں دکھایا گیا ہے کہ لوگ نہر پر بولنا ہونے کی وجہ سے ایک میت کو تھرموکول پر رکھ کر نہر پار کر رہے ہیں۔ علاقے کے لوگوں کا کہنا ہے کہ نہیں بار احکام سے اپیل کی گئی کہ یہاں پر بنایا جائے لیکن پل نہیں بنایا گیا۔ جب میت ہوتی ہے تو میت کو نہر کے دوسری طرف قبرستان تک پہنچانے کے لیے مجبوری میں اس طرح کا سفر کرنا پڑتا ہے یہ ضلع سجاول کے علاقے چوڑ جمالی کے قریب ایک گاؤں کا منظر ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں