امریکہ بھارت کو کشمیریوں پرہونیوالے ظلم وستم پرفرار نہیں ہونےدے سکتا : اسد مجید

امریکا میں پاکستان کے سفیر ڈاکٹر اسد مجید نے کہا ہے کہ امریکا جن اخلاقی اور سیاسی اقدار کی نمائندگی کرتا ہے، بدقسمتی سے آج وہ مقبوضہ کشمیر میں پامال کی جارہی ہیں۔ آبادی کا تناسب بدلنے کا قانون جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی ہے۔
امریکی جریدے کو انٹرویو دیتے ہوئے پاکستان کے سفیر ڈاکٹر اسد مجید نے کہا کہ مسئلہ کشمیر عالمی ضمیر پر ایک بوجھ ہے ۔ بھارت نے گزشتہ برس یکطرفہ اقدام کے ذریعے بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی نفی کی۔
پاکستانی سفیر اسد مجید نے کہا کہ بھارت نے مکاری سے کورونا کی آڑ میں مقبوضہ کشمیر میں بربریت کی انتہا کر دی ہے، وباء سے پہلے ہی کشمیری لاک ڈاؤن کا شکار تھے، بھارت نے گزشتہ برس مقبوضہ کشمیر کی حیثیت تبدیل کر کے اقوام متحدہ کی قراردادوں کی نفی کی، اب آبادی کا تناسب کو بدلنے کے لیے ڈومیسائل لاء متعارف کرایا ہے جو چوتھے جنیوا کنونشن کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ امن اور خوشحالی کے شراکت دار ہیں۔ہم نے ایک ساتھ مل کر بہت ساری لڑائی لڑی ہے اوربہت سی کامیابیاں حاصل کیں۔ ہماری مفادات کی جڑیں اور اقدار کے ذریعہ آگاہی مشترکہ ہے۔ انہوں نے کہا آج انہی اقدار کوبھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں پامال کررکھا ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی ہندوستان کو ہندو راشٹر بنانا چاہتے ہیں ۔اسد مجید خان کا کہنا تھا کورونا کے باعث پوری دنیا کو چیلنجز کا سامنا ہے، مقبوضہ کشمیر میں اخلاقی اور سیاسی اقدار کو پامال کیا جا رہا ہے، کشمیری عوام امریکی قیادت سے اخلاقی و سیاسی حمایت کی توقع رکھتے ہیں، کشمیریوں کو بنیادی سہولتوں سے محروم کر دیا گیا، انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی بھارتی مظالم کے خلاف آواز اٹھا رہی ہیں

Courtesy hum news