کورونا کنٹرول؟

دنیا بھر میں کورونا وبا اب تک 5لاکھ 80ہزار سے زائد افراد کی زندگیوں کے چراغ گل کر چکی ہے جبکہ ایک کروڑ 34لاکھ افراد اس کی لپیٹ میں آئے جن میں سے 69لاکھ صحت یاب بھی ہوئے، وطن عزیز میں جمعرات کے روز تک کووڈ 19سے متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد دو لاکھ 58ہزار 246تک جا پہنچی تھی جن میں سے 5448لقمہ اجل بنے۔ جو یقیناً انتہائی باعث تشویش بات ہے ان میں ایک تعداد قوم کے مسیحائوں کی بھی ہے جو انسانیت کی خدمت کرتے ہوئے خود اپنی جانوں پر کھیل گئے۔ تاہم جس طرح زمینی حقائق کے پیش نظر شرح اموات کا بہت بڑی تعداد میں خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا، یہ صورتحال بڑی حد تک کنٹرول میں ہے۔ تازہ ترین میڈیا رپورٹس کے مطابق ملک میں کورونا کنٹرول ہونے لگا ہے نئے کیسوں اور اموات میں مسلسل کمی واقع ہو رہی ہے، صحت یابی کی شرح بڑھنے لگی ہے، ایکٹیو کیس 73751رہ گئے ہیں تشویشناک کیسوں کی تعداد بھی گھٹ کر1942پر آگئی ہے جس سے عالمی سطح پر آٹھ درجے بہتری اور ایک دن میں نئے مریضوں کی تعداد جو5106تک جا پہنچی تھی کم ہو کر 2145تک آگئی ہے۔ اس وقت پاکستان روزانہ کیسوں کی تعداد میں دو ماہ کی کم ترین سطح پر ہے اور یہ بات بھی حوصلہ افزا ہے کہ ملک کے اسپتالوں میں کورونا مریضوں کی تعداد بتدریج کم ہو رہی ہے۔ اس ضمن میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے جس طرح اپنی ذمہ داریوں کا ادراک کیا، چاہے وہ مکمل لاک ڈائون یا جزوی لاک ڈائون کی شکل میں کرنا پڑا اس سے خاطر خواہ نتائج سامنے آئے ہیں۔ اس ضمن میں وفاقی وزیر اسد عمر کا کہنا ہے کہ عیدالاضحی پر احتیاط نہ برتی گئی تو وبا پھر بے قابو ہو جائے گی۔ اس حوالے سے وفاقی اور صوبائی حکومتیں ایس اوپیز کے تحت قربانی کے جانوروں کے خریداری مراکز کے بارے میں ہدایات جاری کر چکی ہیں ضروری ہو گا کہ ضلعی اور مقامی حکومتیں ان پر سختی سے عمل کرائیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جب تک دنیا میں کورونا کا ایک بھی کیس موجود ہے یہ بنی نوع انسان کیلئے خطرہ ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے متنبہ کیا ہے کہ مستقبل قریب میں کورونا وائرس کے امکانات کم ہوتے دکھائی نہیں دے رہے جس کے باعث زندگی معمول پر نہیں آئے گی۔ دوسری جانب عالمی مالیاتی فنڈ نے کہا ہے کہ بشمول پاکستان جنوبی ایشیا کی شرح نمو موجودہ حالات کے تناظر میں محض1.8فیصد رہنے کی توقع ہے جبکہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ بہت سے ممالک کورونا کو سنجیدگی سے نہیں لے رہے۔جان دشمنی کے مترادف ہے۔کورونا کے باعث دنیا بھر میں بھوک و افلاس کی صورت ابتر ہوئی ہے اور ہر9میں سے ایک شخص بھوک و افلاس کا شکار ہو رہا ہے یہ تمام صورت حال ہمارے لئے زیادہ تشویش کا باعث ہے جس کا اندازہ اس امر سے ہو سکتا ہے کہ 22کروڑ آبادی کے حامل ملک میں 14فیصد افراد خط غربت سے نیچے جبکہ38فیصد آبادی محنت مزدوری کر کے کئی کئی افراد پر مشتمل کنبوں کی کفالت کر رہی ہے کورونا وبا سے پیدا شدہ حالات کے باعث گزشتہ چار ماہ کے لاک ڈائون کے دوران مختلف شعبوں میں ہونے والا نقصان بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا صنعت و تجارت میں آنے والی گراوٹ اور حالیہ مہنگائی یہ سب وہ زمینی حقائق ہیں جن سے انکار ممکن نہیں اور آئندہ بھی جب تک کورونا کا ایک بھی مریض موجود ہے، من حیث القوم ہمیں احتیاط کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیئے۔ حکومت نے ملک بھر کے تعلیمی ادارے 15ستمبر سے کھولنے کا اعلان کر رکھا ہے، تعلیمی بورڈز اور یونیورسٹیوں میں امتحانات کا سلسلہ معطل ہے، ان تمام عوامل کے پیش نظر لائحہ عمل طے کرنے میں سخت احتیاط کی ضرورت ہے