بچے زمین پر خدا کا انعام ہوتے ہیں۔ معصوم بچی کی موت میرے لئے ”بریکنگ نیوز“ تھی۔ سہیل دانش

میں نے اس بچی کو موت سے چند منٹ پہلے دیکھا تھا، وہ اپنی آنکھیں گھما کر ارد گرد دیکھ رہی تھی اس بچی کی ان دھندلائی ہوئی آنکھوں سے صرف پانی کی ایک لکیر اور چہرے پر ایک درد ناک کرب جھانک رہا تھا۔ اس بچی کو ہسپتال کے برآمدے کے فرش پر ایک بزرگ خاتون نے اپنے ہاتھوں پر تھام رکھا تھا مگر اس خاتون کے چہرے پر بھی شام غریباں کا دھواں اور بے بسی کا دکھ صاف دکھائی دے رہا تھا۔ہسپتال میں بہت سے لوگ آ جا رہے تھے۔کوئی ایمر جنسی میں اپنے مریض کے لے جا رہا تھا اور کوئی تیمار داری کے لئے مختلف وارڈوں میں جاتے ہوئے یہاں سے گزر رہا تھا۔ لیکن شاید کسی کے پاس اس بچی کی آنکھوں کی ویرانیاں دیکھنے کا وقت نہیں تھا۔اتنے میں ٹاکی لگا نے والا ایک خاکروب اس بوڑھی خاتون سے مخاطب ہو کر بولا! بڑی اماں کتنی بار سمجھایا ہے ابھی ایمر جنسی میں رش ہے، تمہیں وہاں کیسے جانے دوں۔دوسرے خاکروب نے کہا! یہ بچی تو الٹیاں کئے جا رہی ہے اور بڑے ڈاکٹر صاحب راؤنڈ پر آنے والے ہیں، انہوں نے دیکھ لیا تو ہماری شامت آ جائے گی۔پھر خاکروب نے اس بوڑھی خاتون سے کہا کہ تم اس بچی کی جان کی دشمن کیوں بنی ہوئی ہو، تم اسے کسی پرائیوٹ ہسپتال میں کیوں نہیں لے جاتیں۔
بچی کی یہ نازک حالت دیکھ کر اور ان خاکروبوں کی باتیں سن کر اب میرے ضبط کا بندھن ٹوٹ چکا تھا۔ میں تقریباً دوڑتا ہوا امیر جنسی کا دروازہ کھول کر اس میں داخل ہو گیا اور میں نے انچارج ڈیوٹی ڈاکٹر سے درخواست کی کہ وہ سب سے پہلے اس بچی کو دیکھ لیں اس سے پہلے کہ آنکھوں کی پتلیاں پتھرا جائیں۔ وہ بزرگ خاتون دو گھنٹے سے اپنی باری کا انتظار کر رہی تھی مگر کوئی اسے ایمر جنسی میں داخل نہیں ہونے دے رہا تھا۔ ایمر جنسی وارڈ میں داخل ہو کر میں نے فواراً ایک نظر ایمر جنسی کے بیڈز پر ڈالی تو دیکھا کہ تین بیڈز خالی پڑے ہوئے تھے مگر معلوم ہوا کہ اس وقت ڈاکٹرز کھانا کھانے گئے ہوئے ہیں۔پھر بھی انچارج ڈاکٹر نے کہا کہ آپ اس بچی کو اندر لے آئیں۔ میں فوراً ہی بچی کو لینے واپس پلٹا لیکن شاید بہت دیر ہو چکی تھی، اس بچی نے اپنی آنکھیں موند لی تھیں۔ اس بچی نے ایک لمبی ہچکی لی اور ہسپتال کے کوریڈور میں گونجتی چیخ کے ساتھ ساری روشنیاں بجھ گئیں۔
اس بچی کی وفات کے بعد پرائیوٹ ایمبو لینس کے ڈرائیور نے اپنے ساتھی سے پوچھا بڑھیا کے پاس کچھ پیسے تو ہونگے۔ اسکے ساتھی نے جواب دیا استاد! اگر بڑھیا کے پاس پیسے ہوتے تو اس بچی کو ہسپتال کے فرش پر نہ مرنے دیتی۔ اس دوران ہسپتال کے کوریڈور میں کافی لوگ جمع ہو چکے تھے،سب غریب اور بے بس لوگ، کچھ ایمبو لینس ڈرائیور وں کو گالیاں دے رہے تھے اور کچھ دبے الفاظ میں ہسپتال انتظامیہ کو کوس رہے تھے۔ہسپتال کے فریج میں خون کی بوتلیں تھیں، زندگی بچانے والے سینکڑوں انجیکشن تھے لیکن انہیں ایشو کرنے والا کلرک اس وقت موجود نہیں تھا،وہ یا تو کسی ذاتی کام سے باہر گیا ہو اتھا یا پھر کھانا کھانے گیاہوا تھا۔ ہسپتال میں اس وقت لوگ چہ مگوئیاں کر رہے تھے۔ اتنے میں ایک خاتون اس بھیڑ کو چیرتی ہوئی آگے بڑھی اور اس نے اپنے پرس میں موجود ساری رقم اس بوڑھی عورت کو تھمادیئے اور اپنا کارڈ اس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا کہ گھر پہنچ کر مجھے ضرور فون کر لینا۔ اتنے ڈھیر سارے پیسے دیکھ کر غم اور دکھ میں ڈبکیاں کھاتی بوڑھی عورت کے چہرے پر ایک اطمینان کی لہر سی دوڑ گئی۔ یہ دیکھ کر مجھے بڑی طمانیت محسوس ہوئی، دل سے اس سخی دل خاتون کے لئے بے ساختہ دعائیں نکلیں۔
مجھے اس سخی دل خاتون کو پہچاننے میں ذرا دیر نہیں لگی کیونکہ میں انہیں جناح ہسپتال کے کینسر وارڈ سے مریضوں کے علاج کے لئے ادویات اور دوسری ضروریات کے بارے میں پوچھتے اور انکی مدد کرتے دیکھا تھا۔ میں نے بھی ان سے کارڈ دینے کی درخواست کی تو انہوں نے مجھے کارڈ دیتے ہوئے کہا کہ آپ کسی غریب مریض کی نشاندہی کے لئے مجھے فون کر سکتے ہیں مگرمیرا نام کسی کو نہ بتایئے گا۔
میرا دماغ چٹخنے لگا میں سوچنے لگا کہ یہ کیسی تضادات کی دنیا ہے۔ ایسے واقعات تو ہمارے معاشرے کا معمول بن چکے ہیں۔ میرے ذہن میں خیالات کی ایک یلغار ہو گئی، ایسے بے کس اور بے بس نہ جانے کتنے بچے مرنے سے پہلے کتنی بار مرتے ہونگے۔ اپنے ارد گرد کے ماحول کو دیکھ کر میں یہ سوچنے پر مجبور ہو گیا کہ ہمارے معاشرے کے پسے ہوئے عوام اپنی محرومیوں، غربت، بھوک اور افلاس کے ہاتھوں نہ جانے کتنے دکھ، کتنی تکلیف اور کتنے درد سہتے ہونگے۔ ہاں اس معصوم بچی نے بھی آخری ہچکی لینے سے پہلے سوچا ہو گا کہ اسکی موت ان موتوں سے ذیادہ سفاک تو نہیں۔میں سوچنے لگا کہ یہ اندھوں کا شہر، یہ برے حاکموں والا ملک اور یہاں کے ظلم و ستم اور نا انصافی کے نظام میں تمہارے درد کی ڈفلی کوئی نہیں سنے گا۔ کوئی عمران، کوئی نواز شریف اور کوئی بلاول بے چین ہو کر تمہاری مدد کو نہیں آئیگا۔ بس اسی ہستی کے حضور چلے جاؤ، جہاں کسی بے زبان کی بد دعا بے زبان نہیں رہتی۔ جہاں پر ہر مظلوم، مظلوم اور ہر ظالم، ظالم ہوتا ہے۔جہاں سارے زخم بولتے ہیں، جہاں ساری چیخیں گواہی دیتی ہیں۔
آخر میں بس میں یہی کہونگا کہ بچے بیمار ہی کیوں نہ ہو زمین پر خدا کا انعام ہوتے ہیں یہ اگر واپس پلٹ جائیں تو آسمان سے انعام نہیں اترا کرتے بلکہ قہر نازل ہوا کرتے ہیں۔